وَمَا عَلَّمْنَٰهُ ٱلشِّعْرَ وَمَا يَنۢبَغِى لَهُۥٓ ۚ إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌۭ وَقُرْءَانٌۭ مُّبِينٌۭ ٦٩
Translations
And We did not give him [i.e., Prophet Muḥammad (ﷺ)] knowledge of poetry, nor is it befitting for him. It is not but a message and a clear Qur’ān
E não Ihe[1] ensinamos a poesia, e ela não lhe é concebível. Esse[2] não é senão Mensagem e evidente Alcorão,
[1] Lhe: a Muhammad. [2] Esse: o Alcorão.
われら*は彼(預言者*ムハンマド*)に詩を教えたりはしなかったし、それは彼に相応しくないこと。それは教訓と、解明する[1]クルアーン*に外ならないのだ。
[1] 「解明する」については、ユースフ*章1の訳注を参照。
نہ تو ہم نے اس پیغمبر کو شعر سکھائے اور نہ یہ اس کے ﻻئق ہے۔ وه تو صرف نصیحت اور واضح قرآن ہے.[1]
[1] مشرکین مکہ نبی (صلى الله عليه وسلم) کی تکذیب کے لئے مختلف قسم کی باتیں کہتے رہتے تھے، ان میں ایک بات یہ بھی تھی کہ آپ شاعر ہیں اور یہ قرآن پاک آپ کی شاعرانہ تک بندی ہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی نفی فرمائی۔ کہ آپ شاعر ہیں اور نہ قرآن شعری کلام کا مجموعہ ہے بلکہ یہ تو صرف نصیحت اور موعظت ہے۔ شاعری میں بالعموم مبالغہ، افراط وتفریط اور محض تخیلات کی ندرت کاری ہوتی ہے، یوں گویا اس کی بنیاد جھوٹ پر ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں شاعر محض گفتار کے غازی ہوتے ہیں، کردار کے نہیں۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے نہ صرف یہ کہ اپنے پیغمبر کو شعر نہیں سکھلائے، نہ اشعار کی اس پر وحی کی، بلکہ اس کے مزاج وطبیعت کو ایسا بنایا کہ شعر سے اس کو کوئی مناسبت ہی نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ (صلى الله عليه وسلم) کبھی کسی کا شعر پڑھتے تو اکثر صحیح نہ پڑھ پاتے اور اس کا وزن ٹوٹ جاتا۔ جس کی مثالیں احادیث میں موجود ہیں۔ یہ احتیاط اس لئے کی گئی کہ منکرین پر اتمام حجت اور ان کے شبہات کا خاتمہ کر دیا جائے۔ اور وہ یہ نہ کہہ سکیں کہ یہ قرآن اس کی شاعرانہ تک بندی کا نتیجہ ہے، جس طرح آپ کی امیت بھی قطع شبہات کے لئے تھی تاکہ لوگ قرآن کی بابت یہ نہ کہہ سکیں کہ یہ تو اس نےفلاں سے سیکھ پڑھ کر اس کو مرتب کر لیا ہے۔ البتہ بعض مواقع پر آپ کی زبان مبارک سے ایسے الفاظ کا نکل جانا، جو دو مصرعوں کی طرح ہوتے اور شعری اوزان وبحور کے بھی مطابق ہوتے، آپ کے شاعر ہونے کی دلیل نہیں بن سکتے۔ کیونکہ ایسا آپ کے قصد وارادہ کے بغیر ہوا اور ان کا شعری قالب میں ڈھل جانا ایک اتفاق تھا، جس طرح حنین والے دن آپ کی زبان پر بے اختیار یہ رجز جاری ہوگیا: أَنَا النَّبِيَّ لا كَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِب ایک اور موقع پر آپ (صلى الله عليه وسلم) کی انگلی زخمی ہوگئی تو آپ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا: هَلْ أَنْتِ إِلا إِصْبَعٌ دَمِيتِ وَفِي سَبِيلِ اللهِ مَا لَقِيتِ (صحيح بخاري ومسلم ، كتاب الجهاد)
Dan Kami tidak mengajarkan syair kepadanya (Muhammad) dan bersyair itu tidaklah pantas baginya. Al-Qur`an itu tidak lain hanyalah pelajaran dan Kitab yang jelas.
Ona şiir öğretmedik, ona yakışmaz da. Bu, yalnızca bir öğüt ve apaçık Kur’an’dır.
Nous ne lui avons nullement enseigné la poésie[11] qui ne saurait d’ailleurs lui convenir. Le Coran n’est qu’une sage exhortation et une récitation parfaitement claire,
[11] Réponse évidente aux païens de la Mecque qui prétendaient que le Prophète était un poète.
69. No le enseñé [al Profeta Mujámmad] la poesía, porque no es apropiada para él. [Lo que él recita] es un recuerdo [de Dios] y una recitación clara,
و ما به او [= محمد] شعر نیاموختهایم و [شاعری،] شایستۀ او نیست. این [که آموختهایم، چیزی] نیست مگر اندرز و قرآنی روشن.
Und Wir haben ihn nicht das Dichten gelehrt, und es ziemt ihm (auch) nicht. Das ist doch nur eine Ermahnung und ein deutlicher Qur’an,
我没有教他诗歌,诗歌对于他是不相宜的。这个只是教诲和明白的《古兰经》,