ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ عِندَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُونَ ٣١
Translations
Then indeed you, on the Day of Resurrection, before your Lord, will dispute.
Em seguida, por certo, no Dia da Ressurreição, disputareis, junto de vosso Senhor.
それから本当にあなた方は復活の日*、あなた方の主*の御許で、議論し合(い、アッラー*はあなた方を正義によって裁き給)う。
پھر تم سب کے سب قیامت والے دن اپنے رب کے سامنے جھگڑو گے.[1]
[1] یعنی اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم آپ بھی اور آپ کے مخالف بھی، سب موت سے ہم کنار ہوکر اس دنیا سے ہمارےپاس آخرت میں آئیں گے۔ دنیا میں تو توحید اور شرک کا فیصلہ تمہارے درمیان نہیں ہو سکا اور تم اس بارے میں جھگڑتے ہی رہے۔ لیکن یہاں میں اس کا فیصلہ کروں گا اور مخلص موحدین کو جنت میں اور مشرکین وجاحدین اور مکذبین کو جہنم میں داخل کروں گا۔ اس آیت سے بھی وفات النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اثبات ہوتا ہے، جس طرح کہ سورۃ آل عمران کی آیت 144 سے بھی ہوتا ہے اور انہی آیات سے استدلال کرتے ہوئے حضرت ابوبکر صدیق (رضي الله عنه) نے بھی لوگوں میں آپ ﹲ کی موت کا تحقق فرمایا تھا۔ اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت یہ عقیدہ رکھنا کہ آپ کو برزخ میں بالکل اسی طرح زندگی حاصل ہےجس طرح دنیا میں حاصل تھی، قرآن کی نصوص کے خلاف ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی دیگر انسانوں ہی کی طرح موت طاری ہوئی، اسی لئے آپ کو دفن کیا گیا، قبر میں آپ کو برزخی زندگی تو یقیناً حاصل ہے، جس کی کیفیت کا ہمیں علم نہیں، لیکن دوبارہ قبر میں آپ کودنیوی زندگی عطا نہیں کی گئی۔ ﹲ۔صلیٰ اللہ علیہ و سلم
Kemudian sesungguhnya kamu pada hari Kiamat akan berbantah-bantahan di hadapan Tuhanmu.
Sonra siz kıyamet günü Rabbinizin huzurunda davalaşacaksınız.
Puis le Jour de la résurrection, c’est devant votre Seigneur que vous porterez vos différends.
31. Luego, el Día de la Resurrección ante su Señor discutirán [intentando excusarse].
آنگاه [شما مردم] در روز قیامت، نزد پروردگارتان [دربارۀ مسایل مورد اختلاف،] مجادله خواهید کرد.
Hierauf werdet ihr am Tag der Auferstehung bei eurem Herrn miteinander streiten.
然后,在复活日,你们必定要在你们的主那里,互相争论。