۞ قُلْ يَٰعِبَادِىَ ٱلَّذِينَ أَسْرَفُوا۟ عَلَىٰٓ أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا۟ مِن رَّحْمَةِ ٱللَّهِ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ يَغْفِرُ ٱلذُّنُوبَ جَمِيعًا ۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلْغَفُورُ ٱلرَّحِيمُ ٥٣
Translations
Say, "O My servants who have transgressed against themselves [by sinning], do not despair of the mercy of Allāh. Indeed, Allāh forgives all sins.[1354] Indeed, it is He who is the Forgiving, the Merciful."
[1354] For those who repent and correct themselves.
Dize: "Ó Meus servos, que vos excedestes em vosso próprio prejuízo, não vos desespereis da misericórdia de Allah. Por certo, Allah perdoa todos os delitos. Por certo, Ele é O Perdoador, O Misericordiador."
(使徒*よ、われがこう言っている、と言え。)「自分自身に対し、(罪という重荷を)背負いに背負った、わが僕たちよ。アッラー*のご慈悲に絶望するのではない。本当にアッラー*は、罪を全てお赦しになるのだから。本当にかれこそは、赦し深いお方、慈愛深い*お方なのだぞ。[1]
[1] このアーヤ*は殺人や姦通などを散々犯した挙げ句、預言者*のもとにやって来て「あなたが語り、招いているものは素晴らしい。私たちが犯したことの償(つぐな)いについて、教えて下さい。」と尋ねた、シルク*の徒らに関して下ったものとされる(アル=ブハーリー4810参照)。
(میری جانب سے) کہہ دو کہ اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے تم اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو جاؤ، بالیقین اللہ تعالیٰ سارے گناہوں کو بخش دیتا ہے، واقعی وه بڑی بخشش بڑی رحمت واﻻ ہے.[1]
[1] اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی مغفرت کی وسعت کا بیان ہے۔ اسراف کے معنی ہیں گناہوں کی کثرت اور اس میں افراط۔ ”اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو“ کا مطلب ہے کہ ایمان لانے سے قبل یا تو استغفار کا احساس پیدا ہونے سے پہلے کتنے بھی گناہ کیے ہوں، انسان یہ نہ سمجھے کہ میں تو بہت زیادہ گناہ گار ہوں، مجھے اللہ تعالیٰ کیونکر معاف کرے گا؟ بلکہ سچےدل سے اگر ایمان قبول کرلے گا یا توبہ النصوح کرلے گا تو اللہ تعالیٰ تمام گناہ معاف فرمادے گا۔ شان نزول کی روایت سے بھی یہی مفہوم ثابت ہوتا ہے۔ کچھ کافر و مشرک تھے جنہوں نے کثرت سے قتل اور زناکاری کا ارتکاب کیا تھا، یہ نبی ﹲ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ آپ ﹲ کی دعوت، صحیح ہے لیکن ہم لوگ بہت زیادہ خطاکار ہیں، اگر ہم ایمان لے آئے تو کیا وہ سب معاف ہو جائیں گے، جس پر اس آیت کا نزول ہوا۔ (صحیح بخاری،تفسیر سورۂ زمر) اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اللہ کی رحمت و مغفرت کی امید پر خوب گناہ کیے جاؤ، اس کے احکام و فرائض کی مطلق پرواہ نہ کرو اور اس کے حدود اور ضابطوں کو بے دردی سے پامال کرو۔ اس طرح اس کے غضب و انتقام کو دعوت دے کر اس کی رحمت و مغفرت کی امید رکھنا نہایت نادانش مندی اور خام خیالی ہے۔ یہ تخم حنظل بو کر ثمرات و فواکہ کی امید رکھنے کے مترادف ہے۔ ایسے لوگوں کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ وہ جہاں اپنے بندوں کے لیے غَفُورٌ رَحِيمٌ ہے، وہاں وہ نافرمانوں کے لیے عَزِيزٌ ذُو انْتِقَامٍ بھی ہے۔ چنانچہ قرآن کریم میں متعدد جگہ ان دونوں پہلوؤں کو ساتھ ساتھ بیان کیا گیا، مثلاً نَبِّئْ عِبَادِي أَنِّي أَنَا الْغَفُورُ الرَّحِيمُ ، وَأَنَّ عَذَابِي هُوَ الْعَذَابُ الأَلِيمُ (الحجر:50،49) غالباً یہی وجہ ہے کہ یہاں آیت کا آغاز يَا عِبَادِي (میرے بندوں) سےفرمایا، جس سے یہی معلوم ہوتاہے کہ جو ایمان لاکر یا سچی توبہ کرکے صحیح معنوں میں اس کا بندہ بن جائے گا، اس کے گناہ اگر سمندر کے جھاگ کے برابر ہوں گے تو وہ معاف فرما دے گا، وہ اپنے بندوں کے لیے یقیناً غفور رحیم ہے۔ جیسے حدیث میں سو آدمیوں کے قاتل کے توبہ کا واقعہ ہے، (صحيح بخاري، كتاب الأنبياء - مسلم ، كتاب التوبة ، باب قبول توبة القاتل وإن كثر قتله)۔
Katakanlah, "Wahai hamba-hamba-Ku yang melampaui batas terhadap diri mereka sendiri! Janganlah kamu berputus asa dari rahmat Allah. Sesungguhnya Allah mengampuni dosa-dosa[765] semuanya. Sungguh, Dialah Yang Maha Pengampun, Maha Penyayang.
[765]Lihat surah An-Nisā` (4) : 48, kecuali dosa syirik.
De ki: “Ey nefisleri aleyhine ileri giden kullarım. Allah’ın rahmetinden ümit kesmeyin, çünkü Allah bütün günahları mağfiret eder.” Muhakkak O, çok çok mağfiret edendir, rahmet edendir.
Dis : « Vous, mes serviteurs qui avez péché contre vous-mêmes. Ne désespérez pas de la miséricorde d’Allah qui, en vérité, pardonne tous les péchés. C’est Lui en effet le Très Clément, le Très Miséricordieux. »
53. Di: “¡Oh, siervos míos que están sumidos en el pecado [perjudicándose a sí mismos]! No desesperen de la misericordia de Dios. Dios tiene poder para perdonar todos los pecados. Él es el Perdonador, el Misericordioso”[1].
[1] Los musulmanes que hayan cometido pecados mayores se encuentran bajo la decisión de Dios: Si quiere, los perdona por Su enorme misericordia; y si quiere, los castiga con justicia debido a sus pecados, para luego sacarlos del Infierno e introducirlos al Paraíso por Su misericordia. Ver Corán 4:48.
[ای پیامبر،] به بندگانم که [در ارتکاب به شرک و گناه] زیادهروی کردهاند، بگو: «از رحمت الهی مأیوس نباشید؛ چرا که [اگر توبه کنید،] الله همۀ گناهانتان را میبخشد. به راستی که او تعالی بسیار آمرزنده و مهربان است.
Sag: O Meine Diener, die ihr gegen euch selbst maßlos gewesen seid, verliert nicht die Hoffnung auf Allahs Barmherzigkeit. Gewiß, Allah vergibt die Sünden alle. Er ist ja der Allvergebende und Barmherzige.
你说:“我的过分的自害的众仆啊!你们对安拉的恩惠不要绝望,安拉必定赦宥一切罪过,他确是至赦的,确是至慈的。