وَقَالُوا۟ لَوْ شَآءَ ٱلرَّحْمَٰنُ مَا عَبَدْنَٰهُم ۗ مَّا لَهُم بِذَٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ ۖ إِنْ هُمْ إِلَّا يَخْرُصُونَ ٢٠
Translations
And they said, "If the Most Merciful had willed, we would not have worshipped them." They have of that no knowledge. They are not but misjudging.
E dizem: "Se O Misericordioso quisesse, nós não os adoraríamos." Eles não têm ciência alguma disso. Eles nada fazem senão imposturar.
また、彼らは言った。「もし慈悲あまねき*お方(アッラー*)がお望みだったら、私たちは彼ら[1]を崇めたりはしなかった[2]」。彼らにはそれについて、いかなる知識もない。彼らは(根拠もなく)、ただ決めつけているに過ぎないのだ。
[1] 「彼ら」とは、天使*たちあるいは偶像のこと(アル=バガウィー4:157参照)。 [2] 同様のアーヤ*である、家畜章148とその訳注を参照。
اور کہتے ہیں اگر اللہ چاہتا تو ہم ان کی عبادت نہ کرتے۔ انہیں اس کی کچھ خبر نہیں[1] ، یہ تو صرف اٹکل پچو (جھوٹ باتیں) کہتے ہیں۔.
[1] یعنی اپنے طور پر اللہ کی مشیت کا سہارا، یہ ان کی ایک بڑی دلیل ہے کیونکہ ظاہراً یہ بات صحیح ہے کہ اللہ کی مشیت کے بغیر کوئی کام نہیں ہوتا، نہ ہوسکتا ہے۔ لیکن یہ اس بات سے بے خبر ہیں کہ اس کی مشیت، اس کی رضا سے مختلف چیز ہے۔ ہر کام یقیناً اس کی مشیت ہی سے ہوتا ہے لیکن راضی وہ انہی کاموں سے ہوتا ہے جن کا اس نے حکم دیا ہے نہ کہ ہر اس کام سے جو انسان اللہ کی مشیت سے کرتا ہے، انسان چوری، بدکاری، ظلم اور بڑے بڑے گناہ کرتا ہے، اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو کسی کو یہ گناہ کرنے کی قدرت ہی نہ دے فوراً اس کا ہاتھ پکڑ لے، اس کے قدموں کو روک دے اس کی نظر سلب کرلے۔ لیکن یہ جبر کی صورتیں ہیں جب کہ اس نے انسان کو ارادہ و اختیار کی آزادی دی ہے تاکہ اسے آزمایا جائے، اسی لیے اس نے دونوں قسم کے کاموں کی وضاحت کردی ہے، جن سے وہ راضی ہوتا ہے ان کی بھی اور جن سے ناراض ہوتا ہے، ان کی بھی۔ انسان دونوں قسم کے کاموں میں سے جو کام بھی کرے گا، اللہ اس کا ہاتھ نہیں پکڑے گا، لیکن اگر وہ کام جرم ومعصیت کا ہوگا تو یقیناً وہ اس سے ناراض ہوگا کہ اس نے اللہ کے دیئے ہوئے اختیار کا استعمال غلط کیا۔ تاہم یہ اختیار اللہ دنیا میں اس سے واپس نہیں لے گا، البتہ اس کی سزا قیامت والے دن دے گا۔
Dan mereka berkata, "Sekiranya (Allah) Yang Mahapengasih menghendaki, tentulah kami tidak menyembah mereka (malaikat)." Mereka tidak mempunyai ilmu sedikit pun tentang itu. Tidak lain mereka hanyalah menduga-duga belaka.
"Eğer Rahman dilemiş olsaydı, biz onlara ibadet etmezdik." dediler. Onların bu hususta bir bilgileri yoktur. Onlar, sadece yalan söylemektedirler.
Ils affirment : « Si le Tout Miséricordieux l’avait voulu, nous n’aurions pas adoré ces divinités. » Allégation sans fondement et pur mensonge.
20. Dicen: “Si el Misericordioso no hubiera querido, no los adoraríamos [a los ángeles y los ídolos]”. Ellos carecen de conocimiento [sobre la voluntad divina], y no hacen sino conjeturar.
[آنان برای توجیهِ شرکِ خود] میگویند: «اگر [الله] رحمان میخواست، ما فرشتگان را عبادت نمیکردیم». آنان در مورد این [سخن] بىاطلاعند [و] جز سخن دروغ نمىگویند.
Und sie sagen: Wenn der Allerbarmer gewollt hätte, hätten wir ihnen nicht gedient. Sie haben kein Wissen davon; sie stellen nur Schätzungen an.
他们说:“假若至仁主意欲,我们是不会崇拜他们的。”他们对于此说,毫无认识;他们只是说谎话。