إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ ٱلْأَبْتَرُ ٣
الترجمات
Indeed, your enemy is the one cut off.[2002]
[2002] From all good in this world and the Hereafter.
Por certo, quem te odeia será ele[1] o sem posteridade.
[1] Alusão a AlcAs Ibn Wail, que chamou o Profeta de al abtar ("o que não terá posteridade"), quando este perdeu o filho Al Qasim
実にあなた(と、あなたの携えて来た導き)を憎む者こそは、断ち切られた者[1]なのである。
[1] 「断ち切られた者(アブタル)」とは語源的に、男児がいない者、尻尾(しっぽ)のない家畜のことで、それが転じて、「その後に善きものが残らないような全てのこと」を指す言葉(アル=クルトゥビー20:223参照)。マッカ*の不信仰者*らは、預言者*に「死んでしまえば、その後に語り継がれることもない者」「男児が夭折(ようせつ)したため、跡継(あとつ)ぎのない者」などと悪口を言ったものだった(イブン・カスィール8:504ー505参照)。しかし実際のところ、そうなるのは彼ら預言者*の敵なのであり、預言者*はといえば、その子孫も名声も徳も復活の日*まで続くのである(アル=バイダーウィー5:537参照)。
یقیناً تیرا دشمن ہی ﻻوارث اور بے نام ونشان ہے.[1]
[1] أَبْتَرُ ایسے شخص کوکہتے ہیں جو مقطوع النسل یا مقطوع الذکر ہو، یعنی اس کی ذات پر اس کی نسل کا خاتمہ ہوجائے یا کوئی اس کا نام لیوا نہ رہے۔ جب نبی (صلى الله عليه وسلم) کی اولاد نرینہ زندہ نہ رہی تو بعض کفار نے نبی (صلى الله عليه وسلم) کو ابتر کہا، جس پر اللہ تعالیٰ نے آپ (صلى الله عليه وسلم) کو تسلی دی کہ ابتر تو نہیں، تیرے دشمن ہی ہوں گے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آپ (صلى الله عليه وسلم) کی نسل کو باقی رکھا گو اس کا سلسلہ لڑکی کی طرف سے ہی ہے۔ اسی طرح آپ (صلى الله عليه وسلم) کی امت بھی آپ (صلى الله عليه وسلم) کی اوالاد معنوی ہی ہے، جس کی کثرت پر آپ (صلى الله عليه وسلم) قیامت والے دن فخر کریں گے، علاوہ ازیں آپ (صلى الله عليه وسلم) کا ذکر پوری دنیا میں نہایت عزت واحترام سے کیا جاتا ہے، جبکہ آپ (صلى الله عليه وسلم) سے بغض وعناد رکھنے والے صرف صفحات تاریخ پر ہی موجود رہ گئے ہیں لیکن کسی دل میں ان کا احترام نہیں اور کسی زبان پر ان کا ذکر خیرنہیں۔
Sungguh, orang-orang yang membencimu dialah yang terputus (dari rahmat Allah).
Şüphesiz asıl sana kin besleyenin soyu kesiktir.
C’est celui qui te voue de la haine qui sera sans postérité[2].
[2] Et ne connaîtra aucun bien.
3. Porque a quien te desdeñe y odie le privaré de todo bien.
بیتردید، دشمنت [از همۀ خیرات و برکات و نام و نشان، بیبهره و] بُریده است.
Gewiß, derjenige, der dich haßt, - er ist vom Guten abgetrennt .
怨恨你者, 确是绝后的。