خَٰلِدِينَ فِيهَا مَا دَامَتِ ٱلسَّمَٰوَٰتُ وَٱلْأَرْضُ إِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ ۚ إِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌۭ لِّمَا يُرِيدُ ١٠٧
الترجمات
[They will be] abiding therein as long as the heavens and the earth endure, except what your Lord should will. Indeed, your Lord is an effecter of what He intends.
Nele, serão eternos, enquanto se perpetuarem os céus e a terra, exceto se outra cousa teu Senhor quiser.[1] Por certo, teu Senhor é realizador de quanto deseja.
[1] Cf. VI 128 n3.
諸天と大地が続く限り[1]、永遠にそこに留まる。但し、あなたの主*がお望みになったこと[2]は別だが。本当に(使徒*よ、)あなたの主*は、かれがお望みになることを決行されるのだ。
[1] 「諸天と大地が続く限り」の解釈には、「永続性を表す単なるアラビア語的表現」「来世における諸天と大地のこと(イブラーヒーム*章48も参照)」といった説がある(アル=カースイミー9:3486参照)。 [2] 罪深いムスリム*が地獄で暫(しばら)く罰された後、アッラー*のご意思によって天国に入れられること(ムヤッサル233頁参照)。
وه وہیں ہمیشہ رہنے والے ہیں جب تک آسمان وزمین برقرار رہیں[1] ۔ سوائے اس وقت کے جو تمہارا رب چاہے[2]۔ یقیناً تیرا رب جو کچھ چاہے کر گزرتا ہے.
[1] ان الفاظ سے بعض لوگوں کو یہ مغالطہ لگا ہے کہ کافروں کے لئے جہنم کا عذاب دائمی نہیں ہے بلکہ موقت ہے یعنی اس وقت تک رہے گا جب تک آسمان و زمین رہیں گے۔ لیکن یہ بات صحیح نہیں۔ کیونکہ یہاں «مَا دَ امَتِ السِّمٰوٰ تُ وَالْاَرْضُ» اہل عرب کے روز مرہ کی گفتگو اور محاورے کے مطابق نازل ہوا ہے۔ عربوں کی عادت تھی کہ جب کسی چیز کا دوام ثابت کرنا مقصود ہوتا تو وہ کہتے تھےکہ هَذَا دَائِمٌ دَوَامَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ (یہ چیز اسی طرح ہمیشہ رہے گی۔ جس طرح آسمان و زمین کا دوام ہے) اسی محاورے کو قرآن کریم میں استعمال کیا گیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ اہل کفر و شرک جہنم میں ہمیشہ رہیں گے۔ جس کو قرآن نے متعدد جگہ «خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا» کے الفاظ سے ذکر کیا ہے۔ ایک دوسرا مفہوم اس کا یہ بھی بیان کی گیا ہے کہ آسمان و زمین سے مراد جنس ہے۔ یعنی دنیا کے آسمان و زمین اور ہیں جو فنا ہو جائیں گے لیکن آخرت کے آسمان و زمین ان کے علاوہ اور ہوں گے، جیسا کہ قران کریم میں اس کی صراحت ہے، «يَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَيْرَ الْاَرْضِ وَالسَّمٰوٰتُ وَبَرَزُوْا لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ» (سورۃ ابراہیم:48)، ”اس دن یہ زمین دوسری زمین سے بدل دی جائے گی اور آسمان بھی بدل دئیے جائیں گے“۔ اور آخرت کے یہ آسمان وزمین، جنت اور دوزخ کی طرح ہمیشہ رہیں گے۔ اس آیت میں یہی آسمان وزمین مراد ہے نہ کہ دنیا کے آسمان وزمین جو فنا ہو جائیں گے۔ (ابن کثیر) ان دونوں مفہوموں میں سے کوئی بھی مفہوم مراد لے لیا جائے، آیت کا مفہوم واضح ہو جاتا ہے اور وہ اشکال پیدا نہیں ہوتا جو مذکور ہوا۔ امام شوکانی نے اس کے اور بھی کئی مفہوم بیان کیے ہیں جنہیں اہل علم ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔ (فتح القدیر) [2] اس استثناء کے بھی کئی مفہوم بیان کئے گئے ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ صحیح مفہوم یہی ہے کہ یہ استثناء ان گناہ گاروں کے لئے ہے جو اہل توحید و اہل ایمان ہوں گے۔ اس اعتبار سے اس سے ما قبل آیت میں شَقِی کا لفظ عام یعنی کافر اور عاصی دونوں کو شامل ہوگا اور «إِلا مَا شَاءَ رَبُّكَ» سے عاصی مومنوں کا استثناء ہو جائے گا اور مَا شَآءِ میں مَا، مَنْ کے معنی میں ہے۔
mereka kekal di dalamnya selama ada langit dan bumi,[407] kecuali jika Tuhanmu menghendaki (yang lain). Sungguh, Tuhanmu Maha Pelaksana terhadap apa yang Dia kehendaki.
[407] Ini kata kiasan yang maksudnya menjelaskan kekekalan mereka dalam neraka selama-lamanya. Alam akhirat juga mempunyai langit dan bumi tersendiri.
Onlar, gökler ve yerler ayakta durdukça orada ebedî olarak kalacaklardır. Ancak Rabbinin dilemesi başka. Şüphesiz Rabbin, istediğini yapandır.
où ils demeureront tant que dureront les cieux et la terre, à moins que ton Seigneur n’en décide autrement. Ton Seigneur agit toujours comme Il l’entend.
107. Estarán en él por toda la eternidad al igual que los cielos y la tierra [de la otra vida], excepto lo que tu Señor quiera. Tu Señor hace lo que quiere.
تا آسمانها و زمین [باقی] است، در آن [عذاب] جاودانند؛ مگر آنکه پروردگارت بخواهد [که موحدان گناهکار را از دوزخ خارج سازد]. بیتردید، پروردگارت آنچه را که بخواهد انجام میدهد.
ewig darin zu bleiben, solange die Himmel und die Erde währen, außer was dein Herr will. Dein Herr tut immer, was Er will.
他们将天长地久地永居其中。除非你们的主所意欲的,你的主确是为所欲为的。