وَسَلَٰمٌ عَلَيْهِ يَوْمَ وُلِدَ وَيَوْمَ يَمُوتُ وَيَوْمَ يُبْعَثُ حَيًّۭا ١٥
الترجمات
And peace be upon him the day he was born and the day he dies and the day he is raised alive.
E que a paz seja sobre ele, no dia em que nasceu e no dia em que morrer e no dia em que for ressuscitado, vivo!
そして、彼が生まれた日、亡くなる日、生きて蘇らされる日に、彼に(アッラー*からの)平安あれ。[1]
[1] イブン・ウヤイナ*によれば、ここでこれら三つの状態のみが言及されているのは、これら三つの瞬間が人間にとって最も不安な状態であるからだという(アッ=タバリー7:5466参照)。
اس پر سلام ہے جس دن وه پیدا ہوا اور جس دن وه مرے اور جس دن وه زنده کرکے اٹھایا جائے.[1]
[1] تین مواقع انسان کے لئے سخت ودہشت ناک ہو تے ہیں، 1۔ جب انسان رحم مادر سے باہر آتا ہے، 2۔ جب موت کا شکنجہ اسے اپنی گرفت میں لیتا ہے،3۔ اور جب اسے قبر سے زندہ کر کے اٹھایا جائے گا تو وہ اپنے کو میدان محشر کی ہولناکیوں میں گھرا ہوا پائے گا۔ اللہ تعالٰی نے فرمایا کہ ان تینوں جگہوں میں اس کیلئے ہماری طرف سے سلامتی اور امان ہے۔ بعض اہل بدعت اس آیت سے یوم ولادت پر ”عید میلاد“ کا جواز ثابت کرتے ہیں لیکن کوئی ان سے پوچھے تو پھر یوم وفات پر ”عید وفات“ یا ”عید ممات“ بھی منانی ضروری ہوئی کیونکہ جس طرح یوم ولادت کے لیے سلام ہے یوم وفات کے لیے بھی سلام ہے اگر محض لفظ ”سلام“ سے عید میلاد کا اثبات ممکن ہے تو پر اسی لفظ سے عید وفات کا بھی اثبات ہوتا ہے لیکن یہاں وفات کی عید تو کجا، سرے سے وفات وممات ہی کا انکار ہے یعنی وفات نبوی (صلى الله عليه وسلم) کا انکار کر کے نص قرآنی کا تو انکار کرتے ہی ہیں خود اپنے استدلال کی رو سے بھی آیت کے ایک جز کو تو مانتے ہیں اور اسی آیت کے دوسرے جز سے ان ہی کے استدلال کی روشنی میں جو ثابت ہوتا ہے اس کا انکار ہے۔ «اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْكِتٰبِ وَتَكْفُرُوْنَ بِبَعْضٍ» ( البقرۃ:85) ”کیا بعض احکام پر ایمان رکھتے ہو اور بعض کے ساتھ کفر کرتے ہو؟“۔
Dan kesejahteraan bagi dirinya pada hari lahirnya, pada hari wafatnya, dan pada hari dia dibangkitkan hidup kembali.
Doğduğu gün, öldüğü gün ve yeniden dirileceği gün ona selam olsun.
Que la paix soit avec lui le jour de sa naissance, le jour de sa mort et le Jour où il sera rendu à la vie.
15. La paz fue con él el día que nació, el día que falleció y será con él el día que sea resucitado.
و سلام [و امنیتِ الله] بر او باد، روزی که متولد شد و روزی که میمیرد و روزی که زنده برانگیخته میشود.
Und Friede sei auf ihm am Tag, da er geboren wurde, und am Tag, da er stirbt, und am Tag, da er wieder zum Leben auferweckt wird.
他在出生日、死亡日、复活日都享受和平。