فَٱتَّخَذَتْ مِن دُونِهِمْ حِجَابًۭا فَأَرْسَلْنَآ إِلَيْهَا رُوحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًۭا سَوِيًّۭا ١٧
الترجمات
And she took, in seclusion from them, a screen. Then We sent to her Our Angel [i.e., Gabriel], and he represented himself to her as a well-proportioned man.
E colocou entre ela e eles um véu; então, enviamo-lhe Nosso Espírito,[1] e ele apresentou-se-lhe como um homem perfeito.
[1] Ou seja, o anjo Gabriel.
そして彼女は彼らを避けて覆いをかけ、われら*は彼女に、われら*の魂[1]を遣わした。すると彼は、非の打ち所のない人間の姿で、彼女の前に現れた。
[1] 大半の学者は、この「魂」をジブリール*と解釈している。ジブリール*がここで「魂」と呼ばれているのは、彼と、彼による啓示の伝達によって、宗教が息吹(いぶ)く からだとされる。また、それが「われら*」というアッラー*の修飾を受けているのは、カァバ神殿*が「アッラー*の館」と呼ばれるように、ジブリール*への栄誉を表しているためとされる(アル=アルースィー16:75参照)。
اور ان لوگوں کی طرف سے پرده کر لیا[1] ، پھر ہم نے اس کے پاس اپنی روح (جبرائیل علیہ السلام) کو بھیجا پس وه اس کے سامنے پورا آدمی بن کر ﻇاہر ہوا.[2]
[1] یہ علیحدگی اور حجاب (پردہ) اللہ کی عبادت کی غرض سے تھا تاکہ انہیں کوئی نہ دیکھے اور یکسوئی حاصل رہے یا طہارت حیض کے لئے۔ اور مشرقی مکان سے مراد بیت المقدس کی مشرقی جانب ہے۔ [2] رُوْح سے مراد حضرت جبرائیل (عليه السلام) ہیں، جنہیں کامل انسانی شکل میں حضرت مریم کی طرف بھیجا گیا، حضرت مریم نے جب دیکھا کہ ایک شخص بے دھڑک اندر آ گیا ہے تو ڈر گئیں کہ یہ بری نیت سے نہ آیا ہو۔ حضرت جبرائیل (عليه السلام) نے کہا میں وہ نہیں ہوں جو تو گمان کر رہی ہے بلکہ تیرے رب کا قاصد ہوں اور یہ خوشخبری دینے آیا ہوں کہ اللہ تعالٰی تجھے لڑکا عطا فرمائے گا، بعض قرائتوں میں لِیَھَبَ صیغہ غائب ہے۔ متکلم کا صیغہ (جو موجودہ قراءت میں ہے) اس لئے بولا کہ ظاہری اسباب کے لحاظ سے حضرت جبرائیل (عليه السلام) نے ان کے گریبان میں پھونک ماری تھی جس سے باذن اللہ ان کو حمل ٹھہر گیا تھا۔ اس لئے ہبہ کا تناسب اپنی طرف منسوب کر لیا۔ یا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالٰی ہی کا قول ہو اور یہاں حکایتًا نقل ہوا ہو۔ اس اعتبار سے تقدیر کلام یوں ہوگی۔ «أَرْسَلَنِي، يَقُولُ لَكِ أَرْسَلْتُ رَسُولِي إِلَيْكِ لأَهَبَ لَكِ» (أيسر التفاسير) ”یعنی اللہ نے مجھے تیرے لئے یہ پیغام دے کر بھیجا ہے کہ میں نے تیری طرف اپنا قاصد یہ بتلانے کے لئے بھیجا ہے کہ میں تجھے ایک پاکیزہ بچہ عطا کروں گا“ اس طرح حذف اور تقدیر کلام قرآن میں کئی جگہ ہے۔
lalu dia memasang tabir (yang melindunginya) dari mereka; lalu Kami mengutus roh Kami (Jibril) kepadanya, maka dia menampakan diri di hadapannya dalam bentuk manusia yang sempurna.
Sonra onlarla kendi arasında bir perde germişti. Derken biz ona ruhumuzu (Cebrâil’i) gönderdik. Ona tam bir insan suretinde göründü.
où elle se déroba aux regards. Nous lui envoyâmes alors Notre Esprit[5] qui se présenta à elle sous la forme d’un homme accompli.
[5] L’ange Gabriel.
17. y puso un velo para apartarse de la vista de los hombres de su pueblo. Entonces le envié a Mi ángel, quien se le presentó con forma humana.
و میان خود و آنها پردهاى افكند [تا خلوتگاهِ عبادتش باشد]. آنگاه [ما] روحِ خود [= جبرئیل] را به سویش فرستادیم و به [شكل] انسانی خوشاندام بر وی نمایان گشت.
Sie nahm sich einen Vorhang vor ihnen. Da sandten Wir Unseren Geist zu ihr. Er stellte sich ihr als wohlgestaltetes menschliches Wesen dar.
她用一个帷幕遮盖着,不让人看见她。我使我的精神到她面前,他就对她显现成一个匀称的人。