أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ ٱللَّهَ لَهُۥ مُلْكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۗ وَمَا لَكُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ مِن وَلِىٍّۢ وَلَا نَصِيرٍ ١٠٧
الترجمات
Do you not know that to Allāh belongs the dominion of the heavens and the earth and [that] you have not besides Allāh any protector or any helper?
Não sabes que de Allah é a soberania dos céus e da terra, e vós não tendes, além de Allah, nem protetor nem socorredor?
(預言者*よ、)一体あなた(とその使徒たち)は、天地の王権がアッラー*のみに属することを知らないのか?あなた方にはアッラー*以外に、いかなる庇護者*も援助者もいないのだ。
کیا تجھے علم نہیں کہ زمین و آسمان کا ملک اللہ ہی کے لئے ہے[1] اور اللہ کے سوا تمہارا کوئی ولی اور مددگار نہیں۔
[1] نسخ کے لغوی معنی تو نقل کرنے کے ہیں، لیکن شرعی اصطلاح میں ایک حکم کو بدل کر دوسرا حکم نازل کرنے کے ہیں۔ یہ نسخ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوا ہے۔ جیسے آدم (عليه السلام) کے زمانے میں سگے بہن بھائیوں کا آپس میں نکاح جائز تھا، بعد میں اسے حرام کردیا گیا، وغیرہ اسی طرح قرآن میں بھی اللہ تعالیٰ نے بعض احکام منسوخ فرمائے اور ان کی جگہ نیا حکم نازل فرمایا۔ ان کی تعداد میں اختلاف ہے۔ شاہ ولی اللہ نے ”الفوزالکبیر“ میں ان کی تعداد صرف پانچ بیان کی ہے۔ یہ نسخ تین قسم کا ہے۔ ایک تو مطلقاً نسخ حکم یعنی ایک کو بدل کر دوسرا حکم نازل کردیا گیا۔ دوسرا ہے نسخ مع التلاوۂ۔ یعنی پہلے حکم کے الفاظ قرآن مجید میں موجود رکھے گئے ہیں، ان کی تلاوت ہوتی ہے لیکن دوسرا حکم بھی، جو بعد میں نازل کیا گیا، قرآن میں موجود ہے، یعنی ناسخ اور منسوخ دونوں آیات موجود ہیں۔ نسخ کی ایک تیسری قسم یہ ہے کہ ان کی تلاوت منسوخ کردی گئی۔ یعنی قرآن کریم میں نبی (صلى الله عليه وسلم) نے انہیں شامل نہیں فرمایا، لیکن ان کا حکم باقی رکھا گیا۔ جیسے «الشَّيْخُ وَالشَّيْخَةُ إِذَا زَنَيَا فَارْجُمُوهُمَا الْبَتَّةَ»۔ (موطا امام مالک) ”شادی شدہ مرد اور عورت اگر زنا کا ارتکاب کریں تو یقیناً انہیں سنگسار کردیا جائے۔“ اس آیت میں نسخ کی پہلی دو قسموں کا بیان ہے «مَا نَنْسَخْ مِنْ آيَةٍ» میں دوسری قسم اور «أَوْ نُنْسِهَا» میں پہلی قسم۔ «نُنْسِهَا» ”ہم بھلوادیتے ہیں“ کا مطلب ہے کہ اس کا حکم اور تلاوت دونوں اٹھا لیتے ہیں۔ گویا کہ ہم نے اسے بھلا دیا اور نیا حکم نازل کردیا۔ یا نبی (صلى الله عليه وسلم) کے قلب سے ہی ہم نے اسے مٹا دیا اور اسے نسیاً منسیا کردیا گیا۔ یہودی تورات کو ناقابل نسخ قرار دیتے تھے اور قرآن پر بھی انہوں نے بعض احکام کے منسوخ ہونے کی وجہ سے اعتراض کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید فرمائی اور کہا کہ زمین وآسمان کی بادشاہی اسی کے ہاتھ میں ہے، وہ جو مناسب سمجھے کرے، جس وقت جو حکم اس کی مصلحت وحکمت کے مطابق ہو، اسے نافذ کرے اور جسے چاہے منسوخ کردے۔ یہ اس کی قدرت ہی کا ایک مظاہرہ ہے۔ بعض قدیم گمراہوں (مثلاً ابومسلم اصفہانی معتزلی) اور آج کل کے بھی بعض متجددین نے یہودیوں کی طرح قرآن میں نسخ ماننے سے انکار کیا ہے۔ لیکن صحیح بات وہی ہے جو مذکورہ سطروں میں بیان کی گئی ہے، سلف صالحین کا عقیدہ بھی اثبات نسخ ہی رہا ہے۔
Tidakkah kamu tahu bahwa Allah memiliki kerajaan langit dan bumi? Dan tidak ada bagimu pelindung dan penolong selain Allah.
Bilmez misin ki, göklerin ve yerin hükümranlığı Allah’ındır. Sizin için Allah’tan başka ne bir dost, ne de bir yardımcı vardır.
Ne sais-tu pas qu’Allah règne en Maître absolu sur les cieux et la terre ? Vous n’avez d’autre soutien et d’autre protecteur qu’Allah.
107. ¿No sabes que a Dios pertenece el reino de los cielos y de la Tierra, y que no tienes fuera de Dios protector ni socorredor?
آیا نمیدانی که فرمانرواییِ آسمانها و زمین از آنِ الله است و شما جز الله [هیچ] دوست و یاوری ندارید [که کارسازتان باشد]؟
Weißt du denn nicht, daß Allah es ist, Der die Herrschaft über die Himmel und die Erde hat, und daß ihr außer Allah weder Schutzherrn noch Helfer habt?
难道你不知道安拉有天地的主权吗?除安拉之外,你们既没有任何保护者,又没有任何援助者。