وَقَالَ لَهُمْ نَبِيُّهُمْ إِنَّ ءَايَةَ مُلْكِهِۦٓ أَن يَأْتِيَكُمُ ٱلتَّابُوتُ فِيهِ سَكِينَةٌۭ مِّن رَّبِّكُمْ وَبَقِيَّةٌۭ مِّمَّا تَرَكَ ءَالُ مُوسَىٰ وَءَالُ هَٰرُونَ تَحْمِلُهُ ٱلْمَلَٰٓئِكَةُ ۚ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَءَايَةًۭ لَّكُمْ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ ٢٤٨
الترجمات
And their prophet said to them, "Indeed, a sign of his kingship is that the chest will come to you in which is assurance[97] from your Lord and a remnant of what the family of Moses and the family of Aaron had left, carried by the angels. Indeed in that is a sign for you, if you are believers."
[97] Signs giving reassurance.
E seu profeta lhes disse: "Por certo, o sinal de sua soberania é que vos chegará a Arca,[1] nela há Serenidade de vosso Senhor e relíquias, das que deixou a família de Moisés e a família de Aarão, os anjos a carregarão.[2] Por certo, há nisso um sinal para vós, se sois crentes."
[1] A arca da Aliança, mencionada na Bíblia. Vide Êxodo, XXV 10 - 22, Deuteronômio, X 1-5; [2] Colocada à frente de seus exércitos, esta arca infundia-lhes serenidade e tranqüilidade de vitória sobre o inimigo.
また、彼らの預言者*は彼らに言った「実に、彼(タールート)の王権の印は、あなた方のところに聖櫃がやって来ることである。その中にはあなた方の主*からの安らぎと、ムーサーの一族およびハールーン*の一族が残した遺品の一部が納められており、天使*たちがそれを運んで来る。本当にその中にこそ、あなた方への御徴[1]があるのだ。もし、あなた方が信仰者であるのなら(、だが)」。
[1] この「御徴」は、タールートが王とされた根拠のこと(ムヤッサル40頁参照)。
ان کے نبی نے انہیں پھر کہا کہ اس کی بادشاہت کی ﻇاہری نشانی یہ ہے کہ تمہارے پاس وه صندوق[1] آ جائے گا جس میں تمہارے رب کی طرف سے دلجمعی ہے اور آل موسیٰ اور آل ہارون کا بقیہ ترکہ ہے، فرشتے اسے اٹھا کر ﻻئیں گے۔ یقیناً یہ تو تمہارے لئے کھلی دلیل ہے اگر تم ایمان والے ہو۔
[1] صندوق یعنی تابوت، جو توب سے ہے، جس کے معنی رجوع کرنے کے ہیں۔ کیوں کہ بنی اسرائیل تبرک کے لئے اس کی طرف رجوع کرتے تھے (فتح القدیر) اس تابوت میں حضرت موسیٰ وہارون علیہما السلام کے تبرکات تھے، یہ تابوت بھی ان کے دشمن ان سے چھین کر لے گئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے نشانی کے طور پر یہ تابوت فرشتوں کے ذریعے سے حضرت طالوت کے دروازے پر پہنچا دیا۔ جسے دیکھ کر بنو اسرائیل خوش بھی ہوئے اور اسے طالوت کی بادشاہی کے لئے منجانب اللہ کی نشانی بھی سمجھا اور اللہ تعالیٰ نے بھی اسے ان کے لئے ایک اعجاز (آیت) اور فتح وسکینت کا سبب قرار دیا۔ سکینت کا مطلب ہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے خاص نصرت کا ایسا نزول ہے جو وہ اپنے خاص بندوں پر نازل فرماتا ہے اور جس کی وجہ سے جنگ کی خون ریز معرکہ آرائیوں میں جس سے بڑے بڑے شیردل بھی کانپ اٹھتے ہیں، اہل ایمان کے دل دشمن کے خوف اور ہیبت سے خالی اور فتح وکامرانی کی امید سے لبریز ہوتے ہیں۔ اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء و صالحین کے تبرکات یقینا باذن اللہ اہمیت و افادیت رکھتے ہیں۔ بشرطیکہ وہ واقعی تبرکات ہوں۔ جس طرح اس تابوت میں یقینا حضرت موسیٰ و ہارون علیہما السلام کے تبرکات تھے لیکن محض جھوٹی نسبت سے کوئی چیز متبرک نہیں بن جاتی، جس طرح آج کل "تبرکات" کے نام پر کئی جگہوں پر مختلف چیزیں رکھی ہوئی ہیں، جن کا تاریخی طور پر پورا ثبوت نہیں ہے۔ اسی طرح خود ساختہ چیزوں سے بھی کچھ حاصل نہیں ہوسکتا۔ جس طرح بعض لوگ نبی (صلى الله عليه وسلم) کے نعل مبارک کی تمثال بنا کر اپنے پاس رکھنے کو، یا گھروں میں لٹکانے کو، یا مخصوص طریقے سے اس کے استعمال کو قضائے حاجات اور دفع بلیات کے لئے اکشیر سمجھتے ہیں۔ اسی طرح قبروں پر بزرگوں کے ناموں کی نذر و نیاز کی چیزوں کو اور لنگر کو متبرک سمجھتے ہیں، حالاں کہ یہ غیر اللہ کے نام کا چڑھاوا ہے جو شرک کے دائرے میں آتا ہے، اس کا کھان قطعاً حرام ہے، قبروں کو غسل دیا جاتا ہے اور اس کے پانی کو متبرک سمجھا جاتا ہے، حالاں کہ قبروں کو غسل دینا بھی خانہ کعبہ کے غسل کی نقل ہے، جس کا کوئی جواز نہیں ہے، یہ گندا پانی متبرک کیسے ہوسکتا ہے؟ بہر حال یہ سب باتیں غلط ہیں جن کی کوئی اصل شریعت میں نہیں ہے۔
Dan nabi mereka berkata kepada mereka, "Sesungguhnya tanda kerajaannya ialah datangnya Tabut[94] kepadamu, yang di dalamnya terdapat ketenangan dari Tuhanmu dan sisa peninggalan keluarga Musa dan keluarga Harun, yang dibawa oleh malaikat." Sungguh, pada yang demikian itu terdapat tanda (kebesaran Allah) bagimu, jika kamu orang beriman.
[94] Tabut ialah peti tempat menyimpan Taurat
Peygamberleri onlara, “Onun hükümdarlığının alameti, size sandığın gelmesidir. Onda Rabbinizden gelen bir huzur, Mûsâ ailesinin ve Hârûn ailesinin bıraktıklarından kalanlar vardır ve onu melekler taşır. Eğer iman etmişseniz, bunda sizin için apaçık delil vardır” dedi.
Leur prophète ajouta : « Le signe de son élection est que vous sera restituée, portée par les anges, l’arche d’alliance[153] par laquelle votre Seigneur vous apportera sécurité et sérénité et dans laquelle se trouvent les reliques de la famille de Moïse et de la famille d’Aaron. Voilà assurément un signe pour vous, si vous êtes réellement croyants. »
[153] Dont leurs ennemis s’étaient emparés et qui consistait en un coffre où étaient notamment conservés les restes des tables de la loi confiées à Moïse.
248. Su Profeta les dijo también: “La prueba de su reino será que los ángeles traerán el arca[1], en la que encontrarán sosiego proveniente de su Señor y una reliquia que dejó la familia de Moisés y de Aarón. En esto hay una señal, si es que son creyentes”.
[1] El arca de la alianza donde, según la tradición judía, se encontraba guardada la Torá.
پیامبرشان به آنها گفت: «نشانۀ [راستی و درستیِ] فرمانرواییِ او، این است که صندوق [عهد] به شما مىرسد که مایۀ آرامشی از سوی پروردگارتان است و بازماندۀ میراث خاندان موسی و هارون [همچون عصا و برخی الواح تورات] در آن قرار دارد و در حالى [مىرسد] که فرشتگان آن را حمل میکنند. اگر مؤمن باشید، مسلماً در این [امر،] نشانهای [در مورد حقانیتِ طالوت] برایتان وجود دارد».
Und ihr Prophet sagte zu ihnen: „Das Zeichen seiner Herrschaft ist, daß die Bundeslade zu euch kommen wird; in ihr ist innere Ruhe von eurem Herrn und ein Rest von dem, was die Sippe Musas und die Sippe Haruns hinterließen, getragen von Engeln. Darin soll wahrlich ein Zeichen für euch sein, wenn ihr gläubig seid.
他们的先知对他们说:“他的国权的迹象,是约柜降临你们,约柜里有主降下的宁静,有穆萨的门徒和哈伦的门徒的遗物,众天使载负着它。对于你们,此中确有一种迹象,如果你们是信士。”