وَإِذْ أَخَذْنَا مِيثَٰقَكُمْ لَا تَسْفِكُونَ دِمَآءَكُمْ وَلَا تُخْرِجُونَ أَنفُسَكُم مِّن دِيَٰرِكُمْ ثُمَّ أَقْرَرْتُمْ وَأَنتُمْ تَشْهَدُونَ ٨٤
الترجمات
And [recall] when We took your covenant, [saying], "Do not shed your [i.e., each other's] blood or evict one another from your homes." Then you acknowledged [this] while you were witnessing.
E lembrai-vos de quando firmamos a aliança convosco[1]; "Não derramareis vosso sangue e não vos fareis sair uns aos outros de vossos lares"; em seguida, reconheceste-lo, enquanto o testemunháveis.
[1] Ou seja, a aliança com os filhos de Israel.
また、(イスラーイールの子ら*よ)、われら*があなた方の(次のような)確約を取った時のこと(を思い起こしてみよ)。「あなた方の血を流したり、あなた方自身を住居から追放[1]したりしてはならない」。それからあなた方は(それが正しいことであることを)証言しつつ、承認した。
[1] つまり、お互いに殺し合ったり、追放し合ったりすること(ムヤッサル13頁参照)。
اورجب ہم نے تم سے وعده لیا کہ آپس میں خون نہ بہانا (قتل نہ کرنا) اور آپس والوں کو جلا وطن نہ کرنا، تم نے اقرار کیا اور تم اس کے شاہد بنے۔[1]
[1] ان آیات میں پھر وہ عہد بیان کیا جارہا ہے جو بنی اسرائیل سے لیا گیا، لیکن اس سے بھی انہوں نے اعراض ہی کیا۔ اس عہد میں اولاً صرف ایک اللہ کی عبادت کی تاکید ہے جو ہر نبی کی بنیادی اور اولین دعوت رہی ہے (جیسا کہ سورۂ الانبیاء آیت اور دیگر آیات سے واضح ہے) اس کے بعد والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم ہے اللہ کی عبادت کے بعد دوسرے نمبر پر والدین کی اطاعت وفرماں برداری اور ان کےساتھ حسن سلوک کی تاکید سے واضح کردیا گیا کہ جس طرح اللہ کی عبادت بہت ضروری ہے، اسی طرح اس کے بعد والدین کی اطاعت بھی بہت ضروری ہے اور اس میں کوتاہی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ قرآن میں متعدد مقامات پر اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنی عبادت کے بعد دوسرے نمبر پر والدین کی اطاعت کا ذکر کرکے اس کی اہمیت کو واضح کردیا ہے، اس کے بعد رشتے داروں، یتیموں اور مساکین کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید اور حسن گفتار کا حکم ہے، اسلام میں بھی ان باتوں کی بڑی تاکید ہے، جیسا کہ احادیث رسول (صلى الله عليه وسلم) سے واضح ہے۔ اس عہد میں اقامت صلٰوۃ اور ایتائے زکٰوۃ کا بھی حکم ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں عبادتیں پچھلی شریعتوں میں بھی موجود رہی ہیں جن سے ان کی اہمیت واضح ہے۔ اسلام میں بھی یہ دونوں عبادتیں نہایت اہم ہیں، حتیٰ کہ ان میں سے کسی ایک کے ا نکار، یا اس سے اعراض کو کفر کے مترادف سمجھا گیا ہے، جیسا کہ حضرت ابوبکر صدیق (رضي الله عنه) کے عہد خلافت میں مانعین زکوٰۃ کے خلاف جہاد کرنے سے واضح ہے۔
Dan (ingatlah) ketika Kami mengambil janji kamu, "Janganlah kamu menumpahkan darahmu (membunuh orang), dan mengusir dirimu (saudara sebangsamu) dari kampung halamanmu." kemudian kamu berikrar dan bersaksi.
(Ey İsrailoğulları!) “Birbirinizin kanını dökmeyeceksiniz, birbirinizi yurtlarınızdan çıkarmayacaksınız” diye de sizden kesin söz almıştık. Sonra bunu böylece kabul etmiştiniz. Kendiniz de buna hâlâ şahitlik etmektesiniz.
Rappelez-vous lorsque Nous avons pris de vous l’engagement de ne pas verser le sang de vos frères et de ne pas vous chasser les uns les autres de vos demeures. Vous avez, par votre propre témoignage, accepté cet engagement.
84. Y [recuerden] cuando celebré un pacto con ustedes: “No derramarán su sangre[1] ni se expulsarán de sus hogares”, lo aceptaron y fueron testigos de ello.
[1] Matándose unos a otros sin causa justa.
و [به یاد آورید] هنگامی که از شما پیمان گرفتیم که خون یکدیگر را نریزید و همدیگر را از سرزمینتان بیرون نکنید؛ سپس شما اقرار کردید و خود [بر آن پیمان] گواهی میدهید.
Und als Wir mit euch ein Abkommen trafen: Vergießt nicht (gegenseitig) euer Blut und vertreibt euch nicht selbst aus euren Wohnstätten! Hierauf habt ihr euch dazu bekannt und ihr seid dafür Zeugen.
当时,我与你们缔约,说:“你们不要自相残杀,不要把同族的人逐出境外。”你们已经承诺,而且证实了。