وَلَن يَتَمَنَّوْهُ أَبَدًۢا بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ ۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌۢ بِٱلظَّٰلِمِينَ ٩٥
الترجمات
But never will they wish for it, ever, because of what their hands have put forth. And Allāh is Knowing of the wrongdoers.
E jamais a anelarão pelo que suas mãos anteciparam. E Allah dos injustos é Onisciente.
彼らは自分たちが行ってきたことゆえ、決してそのようなことを望んだりはしまい。アッラー*は不正*者たちのことをご存知のお方。
لیکن اپنی کرتوتوں کو دیکھتے ہوئے کبھی بھی موت نہیں مانگیں گے[1] اللہ تعالیٰ ﻇالموں کو خوب جانتا ہے۔
[1] حضرت ابن عباس (رضي الله عنه) نے اس کی تفسیر دعوت مباہلہ سے کی ہے، یعنی یہودیوں کو کہا گیا کہ اگر تم نبوت محمدیہ کے انکار اور اللہ سے محبوبیت کے دعوے میں سچے ہو تو مباہلہ کرلو، یعنی اللہ کی بارگاہ میں مسلمان اور یہودی دونوں مل کر یہ عرض کریں کہ یا اللہ دونوں میں سے جو جھوٹا ہے، اسے موت سے ہمکنار کردے، یہی دعوت انہیں سورت جمعہ میں بھی دی گئی ہے۔ نجر ان کے عیسائیوں کو دعوت مباہلہ دی گئی تھی، جیسا کہ آل عمران میں ہے۔ لیکن چونکہ یہودی بھی، عیسائیوں کی طرح، جھوٹے تھے، اس لئے عیسائیوں ہی کی طرح یہودیوں کے بارے میں بھی اللہ تعالیٰ نے فرمایا، کہ یہ ہرگز موت کی آرزو (یعنی مباہلہ) نہیں کریں گے۔ حافظ ابن کثیر نے اسی تفسیر کو ترجیح دی ہے۔ (تفسیر ابن کثیر)
Tetapi mereka tidak akan menginginkan kematian itu sama sekali, karena dosa-dosa yang telah dilakukan tangan-tangan mereka. Dan Allah Maha Mengetahui orang-orang zalim.
Fakat kendi elleriyle önceden yaptıkları işler yüzünden ölümü hiçbir zaman temenni edemezler. Allah, o zalimleri en iyi bilendir.
Mais, conscients du mal qu’ils ont commis, ils ne l’appelleront jamais de leurs vœux. Allah connaît parfaitement les impies.
95. Pero jamás la desearán por lo que han cometido, y Dios bien sabe quiénes son los injustos.
ولی آنان به خاطر آنچه [که از کفر و تکذیب و تحریف] پیش فرستادهاند هرگز آرزوی مرگ نخواهند کرد؛ و الله به [احوال] ستمکاران داناست.
Aber sie werden ihn sich niemals wünschen wegen dessen, was ihre Hände (an Taten) vorausgeschickt haben. Und Allah weiß über die Ungerechten Bescheid.
他们因为曾今犯罪,所以绝不希望早死。安拉对于不义的人,是全知的。