ثُمَّ ٱجْتَبَٰهُ رَبُّهُۥ فَتَابَ عَلَيْهِ وَهَدَىٰ ١٢٢
الترجمات
Then his Lord chose him and turned to him in forgiveness and guided [him].
Em seguida, seu Senhor elegeu-o, e voltou-Se para ele, remindo-o, e guiou-o.
それから、かれの主*は彼(アーダム*)をお選びになり、彼の悔悟をお受け入れになり、お導きになった。
پھر اس کے رب نے نوازا، اس کی توبہ قبول کی اور اس کی رہنمائی کی.[1]
[1] اس سے بعض لوگ استدال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ حضرت آدم (عليه السلام) سے مذکورہ غلطیوں کا ہونا، نبوت سے قبل ہوا، اور نبوت سے اس کے بعد آپ کو نوازا گیا۔ لیکن ہم نے گزشتہ صفحے میں اس ”معصیت“ کی حقیقت بیان کی ہے، وہ عصمت کے منافی نہیں رہتی۔ کیونکہ ایسا سہو و نسیان، جس کا تعلق تبلیغ رسالت اور تشریع سے نہ ہو، بلکہ ذاتی افعال سے ہو اور اس میں بھی اس کا سبب ضعف ارادہ ہو تو یہ دراصل وہ معصیت ہی نہیں ہے، جس کی بناء پر انسان غضب الٰہی کا مستحق بنتا ہے۔ اس پر جو معصیت کا اطلاق کیا گیا ہے تو محض ان کی عظمت شان اور مقام بلند کی وجہ سے کہ بڑوں کی معمولی غلطی کو بھی بڑا سمجھ لیا جاتا ہے، اس لئے آیت کا مطلب یہ نہیں کہ ہم نے اس کے بعد اسے نبوت کے لئے چن لیا، بلکہ مطلب یہ ہے کہ ندامت اور توبہ کے بعد ہم نے اسے پھر اسی مقام پر فائز کر دیا، جو پہلے انہیں حاصل تھا۔ ان کو زمین پر اتار نے کا فیصلہ، ہماری مشیت اور حکمت و مصلحت پر مبنی تھا، اس سے یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ یہ ہمارا غضب ہے جو آدم پر نازل ہوا ہے۔
Kemudian Tuhannya memilih dia,[528] maka Dia menerima tobatnya dan memberinya petunjuk.
[528] Allah memilih Nabi Adam -'alaihissalām- untuk menjadi orang yang dekat kepada-Nya.
Sonra Rabbi; onu seçti, tevbesini kabul etti ve hidayete erdirdi.
Son Seigneur l’a ensuite élu, acceptant son repentir et le remettant sur le droit chemin.
122. Más tarde, su Señor lo eligió [como Profeta], lo perdonó y lo guió.
سپس پروردگارش او را برگزید و توبهاش را پذیرفت و هدایتش کرد.
Hierauf erwählte ihn sein Herr, und so wandte Er Sich ihm Reue annehmend zu und leitete (ihn) recht.
嗣后,他的主挑选了他,饶恕了他,引导了他。