ٱلَّذِينَ إِن مَّكَّنَّٰهُمْ فِى ٱلْأَرْضِ أَقَامُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتَوُا۟ ٱلزَّكَوٰةَ وَأَمَرُوا۟ بِٱلْمَعْرُوفِ وَنَهَوْا۟ عَنِ ٱلْمُنكَرِ ۗ وَلِلَّهِ عَٰقِبَةُ ٱلْأُمُورِ ٤١
الترجمات
[And they are] those who, if We give them authority in the land, establish prayer and give zakāh and enjoin what is right and forbid what is wrong. And to Allāh belongs the outcome of [all] matters.
Esses são os que, se os empossamos na terra, cumprem a oração e concedem as esmolas,[1] e ordenam o conveniente e coíbem o reprovável. E de Allah é o fim de todas as determinações.
[1] Cf II 43 n5.
(われら*が援助を約束した者たちとは、)われら*が彼らに地上で力を授ければ、礼拝を遵守*し、浄財*を払い、善事を命じて悪事を禁じる[1]者たち[2]。そしてアッラー*にこそ、全ての物事の結末は属する[3]。
[1] この「善事」と「悪事」に関しては、イムラーン家章104の訳注を参照。 [2] 同様のアーヤ*として、御光章55も参照。 [3] 力を授かっても、それをアッラー*の命令の実行に用いる敬虔*な者たちにはよき結末が、それを私欲に、用いて暴虐(ぼうぎゃく)を行う者たちには(アッ=サァディー539頁参照)。
یہ وه لوگ ہیں کہ اگر ہم زمین میں ان کے پاؤں جما دیں تو یہ پوری پابندی سے نمازیں قائم کریں اور زکوٰتیں دیں اور اچھے کاموں کا حکم کریں اور برے کاموں سے منع کریں[1] ۔ تمام کاموں کا انجام اللہ کے اختیار میں ہے.[2]
[1] اس آیت میں اسلامی حکومت کی بنیادی اہداف اور اغراض و مقاصد بیان کئے گئے ہیں، جنہیں خلافت راشدہ کی دیگر اسلامی حکومتوں میں بروئے کار لایا گیا اور انہوں نے اپنی ترجیحات میں ان کو سر فہرست رکھا تو ان کی بدولت ان کی حکومتوں میں امن اور سکون بھی رہا، رفاہیت و خوش حالی بھی رہی اور مسلمان سربلند اور سرفراز بھی رہے۔ آج بھی سعودی عرب کی حکومت میں بحمد اللہ ان چیزوں کا اہتمام ہے، تو اس کی برکت سے وہ اب بھی امن و خوش حالی کے اعتبار سے دنیا کی بہترین اور مثالی مملکت ہے۔ آجکل اسلامی ملکوں میں فلاحی مملکت کے قیام کا بڑا غلغلہ اور شور ہے اور ہرآنے جانے والاحکمران اس کے دعوے کرتا ہے لیکن ہر اسلامی ملک میں بدامنی، فساد، قتل وغارت اور ادبار وپستی اور زبوں حالی روز افزوں ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ سب اللہ کے بتلائے ہوئے راستے کو اختیار کرنے کے بجائے مغرب کے جمہوری اور لادینی نظام کے ذریعے سے فلاح وکامرانی حاصل کرنا چاہتے ہیں جو آسمان میں تھگلی لگانے اور ہوا کو مٹھی میں لینے کے مترادف ہے جب تک مسلمان مملکتیں قرآن کے بتلائے ہوئے اصول کے مطابق اقامت صلوۃ و زکوۃ اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا اہتمام نہیں کریں اور اپنی ترجیحات میں ان کو سرفہرست نہیں رکھیں گی وہ فلاحی ممللکت کے قیام میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکیں گی۔ [2] یعنی ہر بات کا مرجع اللہ کا حکم اور اس کی تدبیر ہی ہے اس کے حکم کے بغیر کائنات میں کوئی پتہ بھی نہیں ہلتا۔ چہ جائیکہ کوئی اللہ کے احکام اور ضابطوں سے انحراف کرکے حقیقی فلاح و کامیابی سے ہمکنار ہو جائے۔
(Yaitu) orang-orang yang jika Kami berikan kedudukan di bumi, mereka melaksanakan salat, menunaikan zakat, dan menyuruh berbuat makruf dan mencegah dari yang mungkar; dan kepada Allah lah kembali segala urusan.
Onlar öyle kimselerdir ki, şâyet kendilerine yeryüzünde imkân ve iktidar versek; namazı dosdoğru kılar, zekâtı verir, iyiliği emreder ve kötülüğü yasaklarlar. Bütün işlerin âkıbeti Allah’a aittir.
ceux qui, si Nous leur accordons le pouvoir sur terre, accomplissent la prière, s’acquittent de l’aumône, incitent les autres à la vertu et condamnent le vice. C’est Allah qui décide de l’issue de toute chose.
41. Aquellos que, si les doy autoridad en la Tierra, cumplen con la oración, pagan el zakat, ordenan el bien y prohíben el mal. A Dios pertenece el resultado de todas las cosas.
[همان] کسانی که هر گاه در زمین به آنان قدرت [و حکومت] ببخشیم، نماز برپا میدارند و زکات میپردازند و [مردم را] به نیکی فرمان میدهند و از کارهای ناپسند بازمیدارند؛ و سرانجامِ کارها از آنِ الله است.
(Ihnen), die, wenn Wir Ihnen eine feste Stellung auf der Erde verleihen, das Gebet verrichten und die Abgabe entrichten, das Rechte gebieten und das Verwerfliche verbieten. und Allah gehört das Ende der Angelegenheiten.
如果我使那些人在地面上得势,他们将谨守拜功,完纳天课,劝善戒恶。万事的结局只归安拉。 .如果我使那些人在地面上得势,他们将谨守拜功,完纳天课,劝善戒恶。万事的结局只归安拉。