وَمِن رَّحْمَتِهِۦ جَعَلَ لَكُمُ ٱلَّيْلَ وَٱلنَّهَارَ لِتَسْكُنُوا۟ فِيهِ وَلِتَبْتَغُوا۟ مِن فَضْلِهِۦ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ ٧٣
الترجمات
And out of His mercy He made for you the night and the day that you may rest therein and [by day] seek from His bounty and [that] perhaps you will be grateful.
E, de Sua misericórdia, Ele fez-vos a noite e o dia, para, naquela, repousardes, e para, neste, buscardes algo de Seu favor, e para serdes agradecidos.
(人々よ、)かれは、そのご慈悲ゆえに、あなた方のために夜と昼を設けられた。(それは)あなた方がそこ(夜)において休息し、また(昼には)かれのご恩寵を求め(て活動す)るため。そして、あなた方が(かれからの恩恵に)感謝するようになるためなのだ。
اسی نے تو تمہارے لیے اپنے فضل وکرم سے دن رات مقرر کر دیے ہیں کہ تم رات میں آرام کرو اور دن میں اس کی بھیجی ہوئی روزی تلاش کرو[1] ، یہ اس لیے کہ تم شکر ادا کرو.[2]
[1] دن اور رات، یہ دونوں اللہ کی بہت بڑی نعمتیں ہیں۔ رات کو تاریک بنایا تاکہ سب لوگ آرام کرسکیں۔ اس اندھیرے کی وجہ سے ہر مخلوق سونے اور آرام کرنے پر مجبور ہے۔ ورنہ اگر آرام کرنے اور سونے کے اپنے اپنے اوقات ہوتے تو کوئی بھی مکمل طریقے سے سونے کا موقع نہ پاتا، جب کہ معاشی تگ ودو اور کاروبار جہاں کے لیے نیند کا پورا کرنا نہایت ضروری ہے۔ اس کے بغیر توانائی بحال نہیں ہوتی۔ اگر کچھ لوگ سو رہے ہوتے اور کچھ جاگ کر مصروف تگ وتاز ہوتے، تو سونے والوں کے آرام وراحت میں خلل پڑتا، نیز لوگ ایک دوسرے کے تعاون سے بھی محروم رہتے، جب کہ دنیا کا نظام ایک دوسرے کے تعاون وتناصر کا محتاج ہے اس لیے اللہ نے رات کو تاریک کر دیا تاکہ ساری مخلوق بیک وقت آرام کرے اور کوئی کسی کی نیند اور آرام میں مخل نہ ہوسکے۔ اسی طرح دن کو روشن بنایا تاکہ روشنی میں انسان اپنا کاروبار بہتر طریقے سے کرسکے۔ دن کی یہ روشنی نہ ہوتی تو انسان کو جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ، اسے ہر شخص بآسانی سمجھتا اور اس کا ادراک رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی ان نعمتوں کے حوالے سے اپنی توحید کا اثبات فرمایا ہے کہ بتلاؤ اگر اللہ تعالیٰ دن اور رات کا یہ نظام ختم کرکے ہمیشہ کے لیے تم پر رات ہی مسلط کر دے۔ تو کیا اللہ کے سوا کوئی اور معبود ایسا ہے جو تمہیں دن کی روشنی عطا کر دے؟ یا اگر وہ ہمیشہ کے لیے دن ہی دن رکھے تو کیا کوئی تمہیں رات کی تاریکی سے بہرہ ور کرسکتا ہے، جس میں تم آرام کرسکو؟ نہیں۔ یقیناً نہیں۔ یہ صرف اللہ کی کمال مہربانی ہے کہ اس نے دن اور رات کا ایسا نظام قائم کر دیا ہے کہ رات آتی ہے تو دن کی روشنی ختم ہو جاتی ہے اور تمام مخلوق آرام کر لیتی ہے اور رات جاتی ہے تو دن کی روشنی سے کائنات کی ہر چیز نمایاں اور واضح تر ہو جاتی ہے اور انسان کسب ومحنت کے ذریعے سے اللہ کا فضل (روزی) تلاش کرتا ہے۔ [2] یعنی اللہ کی حمدوثنا بھی بیان کرو (یہ زبانی شکر ہے) اور اللہ کی دی ہوئی دولت، صلاحیتوں اور توانائیوں کو اس کے احکام وہدایات کے مطابق استعمال کرو۔ (یہ عملی شکر ہے)
Dan adalah karena rahmat-Nya, Dia jadikan untukmu malam dan siang, agar kamu beristirahat pada malam hari dan agar kamu mencari sebagian karunia-Nya (pada siang hari) dan agar kamu bersyukur kepada-Nya.
Geceyi ve gündüzü sizin için onda sükûn bulasınız ve lütfundan arayısınız diye yaratmış olması onun rahmetindendir. Olur ki şükredersiniz.
Mais Allah, dans Sa miséricorde, a établi la nuit et le jour, l’une vous permettant de trouver le repos et l’autre de rechercher Ses faveurs. Peut-être Lui en serez-vous reconnaissants !
73. Por misericordia fue Dios que creó la noche y el día para que ustedes pudieran descansar [durante la noche] y procurar [durante el día] Su favor[1]. Deberían ser agradecidos.
[1] El sustento.
و الله از رحمت خویش شب و روز را برایتان قرار داد تا در شب آرام گیرید و در روز [تلاش کنید و] از بخشش او [روزی] بجویید و باشد که سپاس گزارید.
In Seiner Barmherzigkeit hat Er euch die Nacht und den Tag gemacht, damit ihr darin ruht und damit ihr (auch) nach etwas von Seiner Huld trachtet, und auf daß ihr dankbar sein möget.
他为怜惜你们而为你们创造了黑夜和白昼,以便你们在黑夜安息,而在白昼寻求他的恩惠,以便你们感谢。