وَٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ وَلِقَآئِهِۦٓ أُو۟لَٰٓئِكَ يَئِسُوا۟ مِن رَّحْمَتِى وَأُو۟لَٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌۭ ٢٣
الترجمات
And the ones who disbelieve in the signs of Allāh and the meeting with Him - those have despaired of My mercy, and they will have a painful punishment.
E os que renegam os sinais de Allah e Seu deparar, esses se desesperam de Minha misericórdia. E esses terão doloroso castigo.
そしてアッラー*の御徴と、かれとの拝謁を否定した者たち、それらの者たちは(来世において)わが慈悲に絶望することになる者たち。それらの者たち、彼らには痛ましい懲罰があるーー。
جو لوگ اللہ تعالیٰ کی آیتوں اور اس کی ملاقات کو بھلاتے ہیں وه میری رحمت سے ناامید ہو جائیں[1] اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے.
[1] اللہ تعالیٰ کی رحمت، دنیا میں عام ہے جس سے کافر اور مومن، منافق اور مخلص اور نیک اور بد سب یکساں طور پر مستفیض ہو رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سب کو دنیا کے وسائل، آسائشیں اور مال ودولت عطا کر رہا ہے یہ رحمت الٰہی کی وہ وسعت ہے جسے اللہ تعالیٰ نے دوسرے مقام پر فرمایا «وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ» (الأعراف: 156) ”میری رحمت نے ہر چیز کو گھیر لیا ہے“۔ لیکن آخرت چونکہ دارالجزا ہے، انسان نے دنیا کی کھیتی میں جو کچھ بویا ہوگا، اسی کی فصل اسے وہاں کاٹنی ہوگی، جیسے عمل کیے ہوں گے، اسی کی جزا اسے وہاں ملے گی۔ اللہ کی بارگاہ میں بےلاگ فیصلے ہوں گے۔ دنیا کی طرح اگر آخرت میں بھی نیک وبد کے ساتھ یکساں سلوک ہو اور مومن وکافر دونوں ہی رحمت الٰہی کے مستحق قرار پائیں تو اس سے ایک تو اللہ تعالیٰ کی صفت عدل پر حرف آتا ہے، دوسرے قیامت کا مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے۔ قیامت کا دن تو اللہ نے رکھا ہی اس لیے ہے کہ وہاں نیکوں کو ان کی نیکیوں کے صلے میں جنت اور بدوں کو ان کی بدیوں کی جزا میں جہنم دی جائے۔ اس لیے قیامت والے دن اللہ تعالیٰ کی رحمت صرف اہل ایمان کے لیے خاص ہوگی۔ جسے یہاں بھی بیان کیا گیا ہے کہ جو لوگ آخرت اور معاد کے ہی منکر ہوں گے وہ میری رحمت سے ناامید ہوں گے یعنی ان کے حصے میں رحمت الٰہی نہیں آئے گی۔ سورۂ اعراف میں ان کو ان الفاظ سے بیان کیا گیا ہے۔ «فَسَأَكْتُبُهَا لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَالَّذِينَ هُمْ بِآيَاتِنَا يُؤْمِنُونَ» (الأعراف: 156) ”میں یہ رحمت (آخرت میں) ان لوگوں کے لیے لکھوں گا جو متقی، زکوٰۃ ادا کرنے والے اور ہماری آیتوں پر ایمان رکھنے والے ہوں گے“۔
Dan orang-orang yang mengingkari ayat-ayat Allah dan pertemuan dengan-Nya, mereka putus asa dari rahmat-Ku, dan mereka itu akan mendapat azab yang pedih.
Allah’ın ayetlerine ve O’na kavuşmaya (iman etmeyip) kâfir olanlar var ya; işte onlar benim rahmetimden ümit kesmişlerdir. İşte onlar için elem dolu bir azap vardır.
Ceux qui renient les signes d’Allah et Sa rencontre n’ont aucun espoir de bénéficier de Ma miséricorde. Ils sont, au contraire, voués à un douloureux châtiment.
23. Quienes no crean en los signos de Dios y en el encuentro con Él, esos son los que no tienen esperanza en Mi misericordia, tendrán un castigo doloroso.
و کسانی که به آیاتِ الله و دیدار او کفر ورزیدند، آنانند که از رحمت من مأیوسند و عذاب دردناکی برایشان [در پیش] است.
Diejenigen, die Allahs Zeichen und die Begegnung mit Ihm ableugnen, diese haben die Hoffnung auf Meine Barmherzigkeit aufgegeben, und für diese wird es schmerzhafte Strafe geben.
不信安拉的迹象及与安拉会见的人,这等人,对我的恩惠已绝望了,这等人,将受痛苦的刑罚。