وَإِذْ غَدَوْتَ مِنْ أَهْلِكَ تُبَوِّئُ ٱلْمُؤْمِنِينَ مَقَٰعِدَ لِلْقِتَالِ ۗ وَٱللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ ١٢١
الترجمات
And [remember] when you, [O Muḥammad], left your family in the morning to post the believers at their stations for the battle [of Uḥud] - and Allāh is Hearing and Knowing -
E lembra-te de quando, ao amanhecer, deixaste tua família para dispor os crentes em posição de combate.[1] - E Allah é Oniouvinte, Onisciente -
[1] Alusão à Batalha de Uhud, o segundo combate dos moslimes, contra os idólatras de Makka, onde aqueles foram derrotados. A denominação desta batalha se deve a haver sido realizada perto da Montanha de Uhud, em Al Madinah.
(使徒*よ、)あなたが信仰者たちを戦闘のための持ち場に配置すべく、早朝に家族のもとを後にした時[1]のこと(を思い起こさせるがよい)。アッラー*はよくお聴きになるお方、全知者であられる。
[1] これはウフドの戦い*のこと(ムヤッサル65頁)。
اے نبی! اس وقت کو بھی یاد کرو جب صبح ہی صبح آپ اپنے گھر سے نکل کر مسلمانوں کو میدان جنگ میں لڑائی کے مورچوں پر باقاعده[1] بٹھا رہے تھے اللہ تعالیٰ سننے جاننے واﻻ ہے.
[1] جمہور مفسرین کے نزدیک اس سے مراد جنگ احد کا واقعہ ہے جو شوال ہجری میں پیش آیا۔ اس کا پس منظر مختصراً یہ ہے کہ جب جنگ بدر ہجری میں کفار کو عبرت ناک شکست ہوئی، ان کے ستر آدمی مارے گئے اور ستر قید ہوئے تو ان کفار کے لئے یہ بڑی بدنامی کا باعث اور ڈوب مرنے کا مقام تھا۔ چنانچہ انہوں نے مسلمانوں کے خلاف ایک زبردست انتقامی جنگ کی تیاری کی جس میں عورتیں بھی شریک ہوئیں۔ ادھر مسلمانوں کو جب اس کا علم ہوا کہ کافر تین ہزار کی تعداد میں احد پہاڑ کے قریب خیمہ زن ہوگئے تو نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) نے صحابہ (رضي الله عنهم) سے مشورہ کیا کہ وہ مدینہ میں ہی رہ کر لڑیں یا مدینہ سے باہر نکل کرمقابلہ کریں، بعض صحابہ (رضي الله عنهم) نے اندر رہ کر ہی مقابلہ کا مشورہ دیا اور رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی نے بھی اسی رائے کا اظہار کیا۔ لیکن اس کے برعکس بعض پرجوش صحابہ (رضي الله عنهم) نے جنہیں جنگ بدر میں حصہ لینے کی سعادت حاصل نہیں ہوئی تھی، مدینہ سے باہر جاکر لڑنے کی حمایت کی۔ آپ (صلى الله عليه وسلم) اندر حجرے میں تشریف ہتھیار پہن کرباہر آئے، دوسری رائے والوں کوندامت ہوئی کہ شاید ہم نے رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) کو آپ کی خواہش کے برعکس باہر نکلنے پر مجبور کرکے ٹھیک نہیں کیا چنانچہ انہوں نے کہا یا رسول اللہ! (صلى الله عليه وسلم) آپ اگر اندر رہ کر مقابلہ کرنا پسند فرمائیں تو اندر ہی رہیں۔ آپ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا کہ لباس حرب پہن لینے کے بعد کسی نبی کے لائق نہیں ہے کہ وہ اللہ کے فیصلے کے بغیر واپس ہو یا لباس اتارے۔ چنانچہ مسلمان ایک ہزار کی تعداد میں روانہ ہوگئے مگر صبح دم جب مقام شوط پر پہنچے توعبداللہ بن ابی اپنے تین سوساتھیوں سمیت یہ کہہ کر واپس آگیا کہ اس کی رائے نہیں مانی گئی۔ خواہ مخواہ جان دینے کا کیا فائدہ؟ اس کے اس فیصلے سے وقتی طور پر بعض مسلمان بھی متاثر ہوگئے اور انہوں نے بھی کمزوری کا مظاہرہ کیا۔ (ابن کثیر )
Dan (ingatlah), ketika engkau (Muhammad) berangkat pada pagi hari meninggalkan keluargamu untuk mengatur orang-orang beriman pada pos-pos pertempuran.[139] Allah Maha Mendengar, Maha Mengetahui,
[139] Peristiwa ini terjadi pada Perang Uhud yang menurut ahli sejarah terjadi pada tahun ke 3 H.
Hani sen Müminleri (Uhud’da) savaş mevzilerine yerleştirmek için, sabah erken ailenden (evinden) ayrılmıştın. Allah, hakkıyla işitendir, hakkıyla bilendir.
Souviens-toi lorsque, un matin, tu quittais les tiens afin de disposer les croyants en ordre de bataille[31]. Allah entend tout et sait tout.
[31] Débute ici un long récit de la bataille d’Ouhoud qui vit s’affronter à la périphérie de Médine, au pied de la montagne Ouhoud, l’armée des païens de la Mecque, forte de trois mille hommes, venus venger leurs morts tombés à Badr et l’armée musulmane, composée de près de sept cents combattants, qui subit un revers (Voir la biographie du Prophète en annexe).
121. Y recuerda [¡Oh, Mujámmad!] cuando al alba saliste de tu hogar para asignar a los creyentes sus posiciones en el campo de batalla. Dios todo lo oye, todo lo sabe.
و [ای پیامبر، به یاد آور] زمانی که [در جنگ احد،] بامدادان از خانه و کاشانهات بیرون آمدی [و] مؤمنان را برای جنگیدن در سنگرهای نظامی مستقر میکردی؛ و الله شنوای داناست.
Und als du von deinen Angehörigen frühmorgens weggingst, um den Gläubigen Stellungen für den Kampf zuzuweisen. Und Allah ist Allhörend und Allwissend.
当时,你在早晨从家里出去,把信士们布置在阵地上。安拉确是全聪的,是全知的。