لِيَقْطَعَ طَرَفًۭا مِّنَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓا۟ أَوْ يَكْبِتَهُمْ فَيَنقَلِبُوا۟ خَآئِبِينَ ١٢٧
الترجمات
That He might cut down a section of the disbelievers or suppress them so that they turn back disappointed.
E socorreu-vos, para cortar uma facção dos que renegaram a Fé, ou para desbaratá-los: então, tornariam malogrados;
(バドルでの勝利は、アッラー*が)不信仰に陥った者*たちの一部を壊滅させたり、または彼らに苦汁を嘗めさせて、敗北者として撤退させたり、
(اس امداد الٰہی کا مقصد یہ تھا کہ اللہ) کافروں کی ایک جماعت کو کاٹ دے یا انہیں ذلیل کر ڈالے اور (سارے کے سارے) نامراد ہو کر واپس چلے جائیں.[1]
[1] یہ اللہ غالب وکار فرما کی مدد کا نتیجہ بتلایا جا رہا ہے۔ سورۂ انفال میں فرشتوں کی تعداد ایک ہزار بتلائی گئی ہے - «إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ أَنِّي مُمِدُّكُمْ بِأَلْفٍ مِنَ الْمَلائِكَةِ»( الانفال: 9) ”جب تم اپنے رب سے مدد طلب کر رہے تھے، اللہ تعالیٰ نے تمہاری فریاد سنتے ہوئے کہا کہ میں ایک ہزار فرشتوں سے تمہاری مدد کروں گا“، ان الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ فرشتے واقعتاً ایک ہزار ہی نازل ہوئے اور مسلمانوں کے حوصلے اور تسلی کے لئے تین ہزار کا اور پھر پانچ ہزار کا مزید مشروط وعدہ کیا گیا۔ پھر حسب حالات مسلمانوں کی تسلی کے نقطہ نظر سے بھی ان کی ضرورت نہیں سمجھی گئی۔ اس لئے بعض مفسرین کے نزدیک یہ تین ہزار پانچ ہزار فرشتوں کا نزول نہیں ہوا کیونکہ مقصد تو مسلمانوں کے حوصلوں میں اضافہ کرنا تھا، ورنہ اصل مددگار تو اللہ تعالیٰ ہی تھا اور وہ اپنی مدد کے لئے فرشتوں کا یا کسی اور کامحتاج ہی نہیں ہے۔ چنانچہ اس نے مسلمانوں کی مدد فرمائی اور جنگ بدر میں مسلمانوں کو تاریخی کامیابی حاصل ہوئی، کفر کی طاقت کمزور ہوئی اور کافروں کا گھمند خاک میں مل گیا۔ (ایسر التفاسیر)
(Allah menolong kamu dalam perang Badar dan memberi bantuan) adalah untuk membinasakan segolongan orang kafir,[142] atau untuk menjadikan mereka hina, sehingga mereka kembali tanpa memperoleh apa pun.
[142] Yakni dengan terbunuhnya tujuh puluh pemimpin mereka dan tertawannya tujuh puluh orang lainnya.
Bir de Allah, bu (yardımı) kâfirlerden bir kısmını helâk etsin ya da perişan etsin de ümitsiz olarak dönüp gitsinler diye yaptı.
Il a voulu ainsi faire périr une partie des impies et renvoyer les autres, humiliés et frustrés, dans leur patrie.
127. [Y lo hizo también] para destruir y humillar a algunos de los que rechazaban la verdad, y que se retiraran derrotados.
[این پیروزی، برای آن بود] تا [الله] گروهی از کسانی را که کفر ورزیدند، هلاک سازد یا خوار و مغلوبشان نماید تا مأیوس [و خوار به مکه] بازگردند.
damit Er einen Teil derjenigen, die ungläubig waren, abtrennte oder sie niederwarf, so daß sie enttäuscht umkehrten.
(他援助你们),以便对于不信道的人,或剪除一部分,或全部加以凌辱,以便他们失败而归。