قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِكُمْ سُنَنٌۭ فَسِيرُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ فَٱنظُرُوا۟ كَيْفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلْمُكَذِّبِينَ ١٣٧
الترجمات
Similar situations [as yours] have passed on before you, so proceed throughout the earth and observe how was the end of those who denied.
Com efeito passaram, antes de vós, procedimentos exemplares de castigo. Então, caminhai na terra, e olhai como foi o fim dos desmentidores!
あなた方以前にも既に、(信仰者が不信仰者*との闘いという試練に遭い、最後には勝利するという)アッラー*の摂理が過ぎ去ってきた。ならば、あなた方は地上を旅して、(アッラー*と使徒*を)嘘呼ばわりした者たちの結末がどのようなものであったか、見てみるがよい。
تم سے پہلے بھی ایسے واقعات گزر چکے ہیں، سو زمین میں چل پھر کر دیکھ لو کہ (آسمانی تعلیم کے) جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا؟[1]
[1] جنگ احد میں مسلمانوں کا لشکر سات سو افراد پر مشتمل تھا، جس میں سے تیر اندازوں کا ایک دستہ آپ نے عبداللہ ابن جبیر (رضي الله عنه) کی قیادت میں ایک پہاڑی پر مقرر فرما دیا اور انہیں تاکید کر دی کہ چاہے ہمیں فتح ہو یا شکست، تم یہاں سے نہ ہلنا اور تمہارا کام یہ ہے کہ جو گھڑ سوار تمہاری طرف آئے تیروں سے اسے پیچھے دھکیل دینا۔ لیکن جب مسلمان فتح یاب ہوگئے اور مال واسباب سمیٹنے لگے تو اس دستے میں اختلاف ہوگیا۔ کچھ کہنے لگے کہ نبی (صلى الله عليه وسلم) کے فرمان کا مقصد تو یہ تھا کہ جب تک جنگ جاری رہے یہیں جمے رہنا، لیکن جب یہ جنگ ختم ہوگئی ہے اور کفار بھاگ رہے ہیں تو یہاں رہنا ضروری نہیں۔ چنانچہ انہوں نے بھی وہاں سے ہٹ کر مال واسباب جمع کرنا شروع کر دیا اور وہاں نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) کے فرمان کی اطاعت میں صرف دس آدمی باقی رہ گئے۔ جس سے کافروں نے فائدہ اٹھایا اور ان کے گھڑ سوار پلٹ کر وہیں سے مسلمانوں کے عقب میں جا پہنچے اور ان پر اچانک حملہ کر دیا جس سے مسلمانوں میں افراتفری مچ گئی اور وہ غیر متوقع حملے سے سخت سراسیمہ ہوگئے جس سے مسلمانوں کو قدرتی طور پر بہت تکلیف ہوئی۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو تسلی دے رہا ہے کہ تمہارے ساتھ جو کچھ ہوا ہے، کوئی نئی بات نہیں ہے۔ پہلے بھی ایسا ہوتا آیا ہے۔ تاہم بالآخر تباہی وبربادی اللہ ورسول کی تکذیب کرنے والوں کا ہی مقدر بنی ہے۔
Sungguh, telah berlalu sebelum kamu sunah-sunah (Allah),[146] karena itu berjalanlah kamu ke (segenap penjuru) bumi dan perhatikanlah bagaimana kesudahan orang yang mendustakan (rasul-rasul).
[146] Yang dimaksud dengan sunnah Allah di sini ialah hukuman-hukuman Allah berupa malapetaka, bencana yang ditimpakan kepada orang-orang yang mendustakan Rasul.
Sizden önce nice (milletler hakkında) ilahi kanunlar gelip geçmiştir. Onun için yeryüzünde gezin de (Allah'ın ayetlerini) yalancıların sonunun ne olduğuna bir bakın!
Bien des nations ont subi un sort identique[33]. Parcourez donc la terre et voyez le sort des peuples qui ont traité les Messagers d’imposteurs.
[33] Au vôtre, musulmans, qui avez subi un revers à Ouhoud. Mais la victoire finale leur fut acquise.
137. En la antigüedad Dios ha escarmentado [a otros pueblos]; viajen por el mundo y observen cómo terminaron aquellos que desmintieron la verdad.
[ای آسیبدیدگانِ اُحُد،] بیتردید، پیش از شما [نیز مؤمنانی بودهاند که رنج کشیدند و] سنتهایی گذشته است؛ پس در زمین بگردید و بنگرید که سرانجامِ تکذیبکنندگان [آیات الهی] چگونه بوده است.
Schon vor euch sind Gesetzmäßigkeiten ergangen. So reist doch auf der Erde umher und schaut, wie das Ende der Leugner war.
有许多常道,已在你们之前逝去了;故你们当在大地上旅行,以观察否认者的结局是怎样的。