زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ ٱلشَّهَوَٰتِ مِنَ ٱلنِّسَآءِ وَٱلْبَنِينَ وَٱلْقَنَٰطِيرِ ٱلْمُقَنطَرَةِ مِنَ ٱلذَّهَبِ وَٱلْفِضَّةِ وَٱلْخَيْلِ ٱلْمُسَوَّمَةِ وَٱلْأَنْعَٰمِ وَٱلْحَرْثِ ۗ ذَٰلِكَ مَتَٰعُ ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا ۖ وَٱللَّهُ عِندَهُۥ حُسْنُ ٱلْمَـَٔابِ ١٤
الترجمات
Beautified for people is the love of that which they desire - of women and sons, heaped-up sums of gold and silver, fine branded horses, and cattle and tilled land. That is the enjoyment of worldly life, but Allāh has with Him the best return [i.e., Paradise].
Aformoseou-se para os homens o amor dos haveres apetitosos: as mulheres e os filhos e os quintais acumulados de ouro e prata e os cavalos assinalados e os rebanhos e os campos lavrados. Isso é o gozo da vida terrena. Mas junto de Allah está o aprazível retorno.
欲望(を誘うものへ)の愛情は、人々に煌びやかにされた。婦女、子供、莫大な金銀財宝、美しい馬[1]、家畜、農地。それらは、現世の生活における楽しみ。そしてアッラー*の御許にこそは、善い帰り所があるのだ。
[1] 「美しい馬」には外にも、「放し飼いにされた馬」とか、斑点(はんてん)や色、あるいは烙印(らくいん)などの「印によって特徴づけられた馬」、といった解釈もあり(アル=バガウィー1:417‐418参照)。
مرغوب چیزوں کی محبت لوگوں کے لئے مزین کر دی گئی ہے، جیسے عورتیں اور بیٹے اور سونے اور چاندی کے جمع کئے ہوئے خزانے اور نشاندار گھوڑے اور چوپائے اور کھیتی[1] ، یہ دنیا کی زندگی کا سامان ہے اور لوٹنے کا اچھا ٹھکانا تو اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے۔
[1] شَهَوَاتٌ سے مراد یہاں مُشْتَهَيَاتٌ ہیں یعنی وہ چیزیں جوطبعی طور پر انسان کو مرغوب اورپسندیدہ ہیں۔ اسی لئے ان میں رغبت اور ان کی محبت ناپسندیدہ نہیں ہے۔ بشرطیکہ اعتدال کے اندر اور شریعت کے دائرے میں رہے۔ ان کی تزیین بھی اللہ کی طرف سے بطور آزمائش ہے۔ «إِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَى الأَرْضِ زِينَةً لَهَا لِنَبْلُوَهُمْ» (الكهف: 7) ”ہم نے زمین پر جو کچھ ہے، اسے زمین کی زینت بنایاہے تاکہ ہم لوگوں کو آزمائیں“ سب سے پہلے عورت کا ذکر کیا ہے کیونکہ یہ ہر بالغ انسان کی سب سے بڑی ضرورت بھی ہے اور سب سے زیادہ مرغوب بھی۔ خود نبی (صلى الله عليه وسلم) کا فرمان ہے: ”حُبِّبَ إِلَيَّ النِّسَاءُ وَالطِّيبُ“ (مسند احمد) ”عورت اور خوشبو مجھے محبوب ہیں“۔ اسی طرح نبی (صلى الله عليه وسلم) نے نیک عورت کو ”دنیا کی سب سے بہتر متاع“ قرار دیا ہے ”خَيْرُ مَتَاعِ الدُّنْيَا الْمَرْأَةُ الصَّالِحَةُ“ اس لئے اس کی محبت شریعت کے دائرے سے تجاوز نہ کرے تو یہ بہترین رفیق زندگی بھی ہے اور زاد آخرت بھی۔ ورنہ یہی عورت مرد کے لئے سب سے بڑا فتنہ ہے۔ فرمان رسول (صلى الله عليه وسلم) ہے: ”مَا تَرَكْتُ بَعْدِي فِتْنَةً أَضَرَّ عَلَى الرِّجِالِ مِنَ النِّسَاءِ“ (صحيح بخاري كتاب النكاح، باب ما يتقى من شؤم المرأة)(میرے بعد جو فتنے رونما ہوں گے، ان میں مردوں کے لئے سب سے بڑا فتنہ عورتوں کا ہے۔) اسی طرح بیٹوں کی محبت ہے۔ اگر اس سے مقصد مسلمانوں کی قوت میں اضافہ اور بقا وتکثیر نسل ہے تو محمود ہے ورنہ مذموم۔ نبی (صلى الله عليه وسلم) کا فرمان ہے ”تَزَوَّجُوا الوَدُودَ الْوَلُودَ؛ فَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمُ الأُمَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ“ (بہت محبت کرنے والی اور زیادہ بچے جننے والی عورت سے شادی کرو، اس لئے کہ میں قیامت والے دن دوسری امتوں کے مقابلے میں اپنی امت کی کثرت پر فخر کروں گا) اس آیت سے رھبانیت کی تردیداور تحریک خاندانی منصوبہ بندی کی تردید بھی ثابت ہوتی ہے کیونکہ بَنِينٌ جمع ہے۔ مال ودولت سے بھی مقصود قیام معیشت، صلۂ رحمی، صدقہ وخیرات اور اسے امور خیر میں خرچ کرنا اور سوال سے بچنا ہے تاکہ اللہ کی رضا حاصل ہو، تو اس کی محبت بھی عین مطلوب ہے ورنہ مذموم۔ گھوڑوں سے مقصد جہاد کی تیاری، دیگر جانوروں سے کھیتی باڑی اور باربرداری کا کام لینا اور زمین سےاس کی پیداوار حاصل کرنا ہو تو یہ سب پسندیدہ ہیں اور اگر مقصود محض دنیا کمانا اور پھر اس پرفخر وغرور کا اظہار کرنا اور یاد الٰہی سے غافل ہو کر عیش وعشرت سے زندگی گزارنا ہے تو یہ سب مفید چیزیں اس کے لئے وبال جان ثابت ہوں گی۔ قَنَاطِيرُ قِنْطَارٌ (خزانہ) کی جمع ہے۔ مراد ہے خزانے یعنی سونے چاندی اورمال ودولت کی فراوانی اور کثرت۔ االمُسَوَّمَةِ وہ گھوڑے جو چراگاہ میں چرنے کے لئے چھوڑے گئے ہوں۔ یاجہاد کےلئے تیار کئے گئے ہوں یا نشان زدہ، جن پر امتیاز کے لئے کوئی نشان یانمبرلگادیا جائے (فتح القدیر وابن کثیر)
Dijadikan tampak indah dalam pandangan manusia cinta terhadap nafsu, berupa wanita-wanita, anak-anak, harta benda yang bertumpuk dalam bentuk emas dan perak, kuda pilihan, hewan ternak[114] dan sawah ladang. Itulah kesenangan hidup di dunia, dan di sisi Allahlah tempat kembali yang baik.
[114] Hewan-hewan yang termasuk jenis unta, sapi, kambing, dan biri-biri.
Nefsî arzulardan olan, kadınlara, evlatlara, öbek öbek yığılmış altın ve gümüşe, güzel cins atlara, davarlara ve ekinlere karşı aşırı sevgi insanlara çekici ve hoş gösterildi. Oysa bunlar, (fani olan) dünya hayatının nimetleridir. Asıl varılacak güzel yer Allah katındadır.
Dans le cœur des hommes a été suscité l’amour des choses désirables de cette vie telles que les femmes, les enfants, les trésors d’or et d’argent, les chevaux racés, les troupeaux de bestiaux et les terres cultivées. Autant de plaisirs éphémères dont jouissent les hommes ici-bas. Mais c’est auprès d’Allah que se trouve la plus heureuse des retraites.
14. Se encuentra en el corazón de las personas la inclinación por los placeres: las mujeres, los hijos, la acumulación de riquezas en oro y plata, los caballos de raza, los ganados y los campos de cultivo[1]. Ese es el breve goce de esta vida, pero lo más hermoso se encuentra junto a Dios.
[1] Ese es el conjunto de lo que ama el ser humano: una mujer en el caso del hombre, y un hombre en el caso de la mujer; hijos que llenen de alegría el hogar, riquezas con las que obtener lujos, los mejores medios de transporte y empresas que le generen riqueza y bienestar.
دلبستگی به خواستنیهای [مادی،] از [جمله] زنان و فرزندان و اموال هنگفت ـ از طلا و نقره و اسبهای نشاندار و دامها و کشتزار[ها]ـ برای مردم آراسته شده است. [امّا تمام] این[ها، لذتها و] کالای [زودگذرِ] زندگی دنیاست و [حال آنکه] سرانجام نیک، نزد الله است.
Ausgeschmückt ist den Menschen die Liebe zu den Begierden, nach Frauen, Söhnen, aufgehäuften Mengen von Gold und Silber, Rassepferden, Vieh und Saatfeldern. Das ist der Genuß im diesseitigen Leben. Doch bei Allah ist die schöne Heimstatt.
迷惑世人的,是令人爱好的事物,如妻子、儿女、金银、宝藏、骏马、牲畜、禾稼等。这些是今世生活的享受;而安拉那里,却有优美的归宿。