إِذْ قَالَتِ ٱلْمَلَٰٓئِكَةُ يَٰمَرْيَمُ إِنَّ ٱللَّهَ يُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍۢ مِّنْهُ ٱسْمُهُ ٱلْمَسِيحُ عِيسَى ٱبْنُ مَرْيَمَ وَجِيهًۭا فِى ٱلدُّنْيَا وَٱلْءَاخِرَةِ وَمِنَ ٱلْمُقَرَّبِينَ ٤٥
الترجمات
[And mention] when the angels said, "O Mary, indeed Allāh gives you good tidings of a word[125] from Him, whose name will be the Messiah, Jesus, the son of Mary - distinguished in this world and the Hereafter and among those brought near [to Allāh].
[125] See footnote to 3:39.
Lembra-lhes de quando os anjos disseram: "Ó Maria! Por certo, Allah te alvissara um Verbo, vindo dEle; seu nome é O Messias, Jesus, Filho de Maria, sendo honorável na vida terrena e na Derradeira Vida, e dos achegados a Allah.
天使*たちが、(こう)言った時のこと(を思い起こさせるがよい)。「マルヤム*よ、本当にアッラー*は、ご自身からの御言葉[1]についての吉報を、あなたにお伝えになる。その名はマスィーフ*、マルヤム*の子イーサー*。現世でも来世でも栄誉ある者であり、(アッラー*の御許ではその)側近の一人。
[1] 「アッラー*からの御言葉」については、アーヤ*39の訳注を参照。
جب فرشتوں نے کہا اے مریم اللہ تعالیٰ تجھے اپنے ایک کلمے[1] کی خوشخبری دیتا ہے جس کا نام مسیح عیسیٰ بن[2] مریم ہے جو دنیا اور آخرت میں ذیعزت ہے اور وه میرے مقربین میں سے ہے۔
[1] حضرت عیسیٰ (عليه السلام) کو کلمہ یعنی کلمہ اللہ اس اعتبار سے کہا گیا ہے کہ ان کی ولادت اعجازی شان کی مظہر اور عام انسانی اصول کے برعکس، باپ کے بغیر، اللہ کی خاص قدرت اوراسکے کلمہ کن کی تخلیق ہے۔ [2] مَسِيحٌ مسح سے ہےأي: مَسَحَ الأَرْضَ یعنی کثرت سے زمین کی سیاحت کرنے والا، یا اس کے معنی ہاتھ پھیرنے والا ہے، کیونکہ آپ ہاتھ پھیر کر مریضوں کو باذن اللہ شفایاب فرماتے تھے۔ ان دونوں معنوں کے اعتبار سے یہ فَعِيلٌ بمعنی فاعل ہے اور قیامت کے قریب ظاہر ہونے والے دجال کو جو مسیح کہا جاتا ہے وہ یا تو بمعنی مفعول یعنی مَمْسُوحُ الْعَينِ( اس کی ایک آنکھ کانی ہوگی) کے اعتبار سے ہے یا وہ بھی چونکہ کثرت سے دنیا میں پھرے گا اور مکہ اور مدینہ کے سوا ہر جگہ پہنچے گا، (بخاری ومسلم) اور بعض روایات میں بیت المقدس کا بھی ذکر ہے اس لئے اسے بھی الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ کہا جاتا ہے۔ عام اہل تفسیر نے عموماً یہی بات درج کی ہے۔ کچھ اور محققین کہتے ہیں کہ مسیح یہود ونصاریٰ کی اصطلاح میں بڑے مامور من اللہ پیغمبر کو کہتے ہیں، یعنی ان کی یہ اصطلاح تقریباً اولوالعزم پیغمبر کے ہم معنی ہے۔ دجال کو مسیح اس لئے کہا گیا ہے کہ یہود کو جس انقلاب آفریں مسیح کی بشارت دی گئی ہے۔ اور جس کے وہ غلط طور پر اب بھی منتظر ہیں، دجال اسی مسیح کے نام پر آئے گا یعنی اپنے آپ کو وہی مسیح قرار دے گا۔ مگر وہ اپنے اس دعویٰ سمیت تمام دعوؤں میں دجل وفریب کا اتنا بڑا پیکر ہوگا کہ اولین وآخرین میں اس کی کوئی مثال نہ ہوگی اس لئے وہ الدجال کہلائے گا۔ اور عیسیٰ عجمی زبان کا لفظ ہے۔ بعض کے نزدیک یہ عربی اورعَاسَ يَعُوسُ سے مشتق ہے جس کے معنی سیاست وقیادت کے ہیں (قرطبی وفتح القدیر)
(Ingatlah), ketika para malaikat berkata, "Wahai Maryam! Sesungguhnya Allah menyampaikan kabar gembira kepadamu tentang suatu kalimat (firman) dari-Nya (yaitu seorang putera) namanya Al-Masih Isa putra Maryam, seorang terkemuka di dunia dan di akhirat, dan termasuk orang-orang yang didekatkan (kepada Allah),
Melekler demişti ki: Ey Meryem! Allah sana adı Mesih Meryemoğlu İsa olan, dünya ve ahirette itibarlı ve öncülerden/mukarrebinden olacak kendisinden bir kelimeyi (İsa’yı) müjdeliyor.
Les anges dirent : « Marie ! Allah t’annonce la naissance d’un fils né d’un verbe émanant de Lui, qui aura pour nom le Messie, Jésus fils de Marie, honoré ici-bas et dans l’au-delà, et du nombre des plus proches élus du Seigneur.
45. Entonces los ángeles dijeron: “¡María! Dios te albricia con Su Palabra [¡Sea!], será conocido como el Mesías Jesús, hijo de María. Será noble en esta vida y en la otra, y se contará entre los próximos a Dios.
و [ای پیامبر، یاد کن از] هنگامی که فرشتگان گفتند: «ای مریم، الله تو را به کلمهای از جانب خویش بشارت میدهد که نامش مسیح ـ عیسی پسر مریم ـ است؛ در حالی که [او] در دنیا و آخرت آبرومند و از نزدیکان [درگاه الهی] است.
Als die Engel sagten: „O Maryam, Allah verkündet dir ein Wort von Ihm, dessen Name al-Masih ’Isa, der Sohn Maryams ist, angesehen im Diesseits und Jenseits und einer der (Allah) Nahegestellten.
当时,天使说:“麦尔彦啊!安拉的确把从他发出的一句话向你报喜。他的名字是麦西哈.尔萨.本.麦尔彦,在今世和后世都是有面子的,是亲近于安拉的。