إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ وَمَاتُوا۟ وَهُمْ كُفَّارٌۭ فَلَن يُقْبَلَ مِنْ أَحَدِهِم مِّلْءُ ٱلْأَرْضِ ذَهَبًۭا وَلَوِ ٱفْتَدَىٰ بِهِۦٓ ۗ أُو۟لَٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌۭ وَمَا لَهُم مِّن نَّٰصِرِينَ ٩١
الترجمات
Indeed, those who disbelieve and die while they are disbelievers - never would the [whole] capacity of the earth in gold be accepted from one of them if he would [seek to] ransom himself with it. For those there will be a painful punishment, and they will have no helpers.
Por certo, os que renegam a Fé e morrem enquanto renegadores da Fé, de nenhum deles se aceitará o conteúdo da terra em ouro, ainda que queira com isso resgatar-se. Esses terão doloroso castigo e não terão socorredores.
本当に不信仰に陥り、不信仰者*のまま死んだ者たち、彼らの誰一人として、大地一杯の黄金さえ受け入れられることはない。たとえ、(復活の日*の懲罰を免じてもらうため、)それで償おうとしても(、受け入れられないのだ)。それらの者たちには痛ましい懲罰があり、彼らにはいかなる援助者もない。
ہاں جو لوگ کفر کریں اور مرتے دم تک کافر رہیں ان میں سے کوئی اگر زمین بھر سونا دے، گو فدیئے میں ہی ہو تو بھی ہرگز قبول نہ کیا جائے گا۔ یہی لوگ ہیں جن کے لئے تکلیف دینے واﻻ عذاب ہے اور جن کا کوئی مددگار نہیں.[1]
[1] حدیث میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت والے دن ایک جہنمی سے کہے گا کہ اگر تیرے پاس دنیا بھر کا سامان ہو تو کیا تو اس عذاب نار کے بدلے اسے دینا پسند کرے گا ؟ وہ کہے گا (ہاں) اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں نے دنیا میں تجھ سے اس سے کہیں زیادہ آسان بات کا مطالبہ کیا تھا کہ میرے ساتھ شرک نہ کرنا، مگر تو شرک سے باز نہیں آیا۔ (مسند احمد وھکذا اخرجہ البخاری ومسلم، ابن کثیر) اس سے معلوم ہوا کہ کافر کے لئے جہنم کا دائمی عذاب ہے۔ اس نے اگر دنیا میں کچھ کام بھی کئے ہوں گے تو کفر کی وجہ سے وہ بھی ضائع ہی جائیں گے جیسا کہ حدیث میں ہے کہ عبداللہ بن جدعان کی بابت پوچھا گیا کہ وہ مہمان نواز، غریب پرور تھا اور غلاموں کو آزاد کرنے والا تھا، کیا یہ اعمال اسے نفع دیں گے۔ نبی (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا (نہیں) کیونکہ اس نے ایک دن بھی اپنے رب سے اپنے گناہوں کی معافی نہیں مانگی (صحیح مسلم، کتاب الایمان )۔ اسی طرح اگر کوئی شخص وہاں زمین بھر سونا بطور فدیہ دے کر یہ چاہے کہ وہ عذاب جہنم سے بچ جائے، تو یہ ممکن نہیں ہو گا۔ اول تو وہاں کسی کے پاس ہوگا ہی کیا ؟ اور اگر بالفرض اس کے پاس دنیا بھر کے خزانے ہوں اور انہیں دے کر عذاب سے چھوٹ جانا چاہے تو یہ بھی نہیں ہوگا، کیونکہ اس سے وہ معاوضہ یا فدیہ قبول ہی نہیں کیا جائے گا۔ جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا «وَلا يُقْبَلُ مِنْهَا عَدْلٌ وَلا تَنْفَعُهَا شَفَاعَةٌ» ( البقرۃ: 123) ”اس سے کوئی معاوضہ قبول کیا جائے گا اور نہ کوئی سفارش اسے فائدہ پہنچائے گی“۔ «لا بَيْعٌ فِيهِ وَلا خِلالٌ» ( سورۂ ابراہیم: 31) ”اس دن میں کوئی خرید وفروخت ہوگی نہ کوئی دوستی (ہی کام آئے گی)“۔
Sungguh, orang-orang yang kafir dan mati dalam kekafiran, tidak akan diterima (tebusan) dari seseorang di antara mereka sekalipun (berupa) emas sepenuh bumi, sekiranya dia hendak menebus diri dengannya. Mereka itulah orang-orang yang mendapat azab yang pedih dan tidak memperoleh penolong.
Şüphesiz, kâfir olup bu halde kâfir olarak ölenlerin hiçbirinden, yeryüzünü dolduracak kadar altın fidye verse dahi asla kabul edilmeyecektir. İşte acıklı azap bunlar içindir. Onlar için hiçbir yardımcı da yoktur.
De ceux qui renient la foi et meurent en mécréants, nul rachat ne sera accepté, quand bien même ils offriraient tout l’or du monde. Voilà ceux qui sont voués à un douloureux châtiment et que nul ne pourra sauver.
91. A los que rechazaron la verdad y los tomó la muerte siendo aún incrédulos, aunque ofrecieran como rescate todo el oro que hubiera en la Tierra, no les será aceptado. Ellos recibirán un castigo doloroso y no tendrán quién pueda socorrerlos.
کسانی که کفر ورزیدند و در حال کفر از دنیا رفتند، اگر زمین پر از طلا باشد و [بتوانند] آن را به عنوان فدیه [و کفّارۀ اعمال بدِ خویش] بپردازند، هرگز از هیچیک از آنها پذیرفته نخواهد شد و مجازاتی دردناک [در پیش] دارند و یاورانی نخواهند داشت.
Gewiß, diejenigen, die ungläubig geworden sind und als Ungläubige sterben, - von keinem von ihnen würde die (ganze) Erde voll Gold angenommen werden, auch wenn er sich damit loskaufen wollte. Für jene wird es schmerzhafte Strafe geben; und sie werden keine Helfer haben.
在世时没有信道,临死时仍不信道的人,即使以满地的黄金赎罪,也不被接受,这等人将受痛苦的刑罚,他们绝没有任何援助者。