بِنَصْرِ ٱللَّهِ ۚ يَنصُرُ مَن يَشَآءُ ۖ وَهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلرَّحِيمُ ٥
الترجمات
In the victory of Allāh.[1141] He gives victory to whom He wills, and He is the Exalted in Might, the Merciful.
[1141] i.e., the victory given by Allāh to a people of the Scripture (Christians) over the Magians of Persia.
Com o socorro de Allah. Ele socorre a quem quer. E Ele é O Todo-Poderoso, O Misericordiador.
(ビサンチンに授けられた)アッラー*の勝利に。アッラー*は、かれがお望みになる者をお助けになる。かれは偉力ならびない*お方、慈愛深い*お方であられる。
اللہ کی مدد سے[1] ، وه جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے۔ اصل غالب اور مہربان وہی ہے.
[1] عہدرسالت میں دو بڑی طاقتیں تھیں۔ ایک فارس (ایران) کی، دوسری روم کی۔ اول الذکر حکومت آتش پرست اور دوسری عیسائی یعنی اہل کتاب تھی۔ مشرکین مکہ کی ہمدردیاں فارس کے ساتھ تھیں کیونکہ دونوں غیر اللہ کے پجاری تھے۔ جبکہ مسلمانوں کی ہمدردیاں روم کی عیسائی حکومت کے ساتھ تھیں، اس لیے کہ عیسائی بھی مسلمان کی طرح اہل کتاب تھے اور وحی ورسالت پر یقین رکھتے تھے۔ ان کی آپس میں ٹھنی رہتی تھی۔ نبی (صلى الله عليه وسلم) کی بعثت کے چند سال بعد ایسا ہوا کہ فارس کی حکومت عیسائی حکومت پر غالب آگئی، جس پر مشرکوں کو خوشی اور مسلمانوں کو غم ہوا، اس موقعہ پر قرآن کریم کی یہ آیات نازل ہوئیں، جن میں یہ پیش گوئی کی گئی کہ بِضْعِ سِنِينَ کے اندر رومی پھر غالب آجائیں گے اور غالب، مغلوب اور مغلوب غالب ہو جائیں گے۔ بظاہر اسباب یہ پیش گوئی ناممکن العمل نظر آتی تھی۔ تاہم مسلمانوں کو اللہ کےاس فرمان کی وجہ سےیقین تھا کہ ایسا ضرور ہو کر رہے گا۔ اسی لئےحضرت ابو بکر صدیق (رضي الله عنه) نےابوجہل سے یہ شرط باندھ لی کہ رومی پانچ سال کےاندر دوبارہ غالب آجائیں گے۔ نبی (صلى الله عليه وسلم) کے علم میں یہ بات آئی تو فرمایا کہ بِضْعٌ کا لفظ تین سےدس تک کےعدد کے لئے استعمال ہوتا ہے تم نے 5 سال کی مدت کم رکھی ہے، اس میں اضافہ کر لو۔ چنانچہ آپ (صلى الله عليه وسلم) کی ہدایت کے مطابق حضرت ابوبکر (رضي الله عنه) نے اس مدت میں اضافہ کروا لیا۔ اور پھر ایسا ہی ہوا کہ رومی 9 سال کی مدت کےاندر اندر یعنی ساتویں سال دوبارہ فارس پر غالب آگئے، جس سے یقیناً مسلمانوں کو بڑی خوشی ہوئی، (ترمذی، تفسیر سورۃ الروم) بعض کہتے ہیں کہ رومیوں کو یہ فتح اس وقت ہوئی، جب بدر میں مسلمانوں کو کافروں پر غلبہ حاصل ہوا،اور مسلمان اپنی فتح پر خوش ہوئے۔ رومیوں کی یہ فتح قرآن کریم کی صداقت کی ایک بہت بڑی دلیل ہے۔ نزدیک کی زمین سے مراد، عرب کی زمین کے قریب کے علاقے ہیں، یعنی شام وفلسطین وغیرہ، جہاں عیسائیوں کی حکومت تھی۔
karena pertolongan Allah. Dia menolong siapa yang Dia kehendaki. Dia Mahaperkasa, Maha Penyayang.
Allah’ın yardımıyla, Allah dilediğine yardım eder. O; Aziz'dir, Rahim'dir.
du secours d’Allah[4] qui accorde la victoire à qui Il veut, Lui le Tout-Puissant, le Très Miséricordieux.
[4] Offert aux Byzantins qui faisaient partie des gens du Livre, plus proches donc des musulmans que les Perses, idolâtres et adorateurs du feu.
5. por la victoria de Dios[1]. Él concede la victoria a quien quiere, Él es el Poderoso, el Misericordioso.
[1] Ya que de los dos imperios, el Bizantino era el más cercano en valores y creencias al Islam.
[این شادی،] به خاطرِ یاری رساندنِ الله [به اهل کتاب] است؛ و او تعالی هر کس را که بخواهد یاری میکند و او شکستناپذیرِ مهربان است.
über Allahs Hilfe. Er hilft, wem Er will, und Er ist der Allmächtige und Barmherzige.
这是由于安拉的援助,他援助他所意欲者。他确是万能的,确是至慈的。