۞ ٱللَّهُ ٱلَّذِى خَلَقَكُم مِّن ضَعْفٍۢ ثُمَّ جَعَلَ مِنۢ بَعْدِ ضَعْفٍۢ قُوَّةًۭ ثُمَّ جَعَلَ مِنۢ بَعْدِ قُوَّةٍۢ ضَعْفًۭا وَشَيْبَةًۭ ۚ يَخْلُقُ مَا يَشَآءُ ۖ وَهُوَ ٱلْعَلِيمُ ٱلْقَدِيرُ ٥٤
الترجمات
Allāh is the one who created you from weakness, then made after weakness strength, then made after strength weakness and white hair. He creates what He wills, and He is the Knowing, the Competent.
Allah é Quem vos criou de fragilidade; em seguida, fez depois de fragilidade, força; em seguida fez, depois de força, fragilidade e cãs. Ele cria o que quer. E Ele é O Onisciente, O Onipotente.
アッラー*はあなた方を弱さ[1]からお創りになり、それから(幼児期の)弱さの後、(成人の)強さをお授けになり、そして強さの後に、弱さと老衰を与えられたお方。かれはお望みのものをお創りになる。かれは全知者、全能者なのだ。
[1] この「弱さ」は、精液のこと。あるいは、幼少期の弱い状態のこと(アル=クルトゥビー10:46参照)。
اللہ تعالیٰ وه ہے جس نے تمہیں کمزوری کی حالت[1] میں پیدا کیا پھر اس کمزوری کے بعد توانائی[2] دی، پھر اس توانائی کے بعد کمزوری اور بڑھاپا دیا[3] جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے[4]، وه سب سے پورا واقف اور سب پر پورا قادر ہے.
[1] یہاں سے اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کا ایک اور کمال بیان فرما رہا ہے اور وہ ہے مختلف اطوار سےانسان کی تخلیق۔ ضعف (کمزوری کی حالت) سےمراد نطفہ یعنی قطرۂ آب ہے یا عالم طفولیت۔ [2] یعنی جوانی، جس میں قوائے عقلی وجسمانی تکمیل ہو جاتی ہے۔ [3] کمزوری سے مراد کہولت کی عمر ہے جس میں عقلی وجسمانی قوتوں میں نقصان کا آغاز ہو جاتا ہے اور بڑھاپے سے مراد شیخوخت کا وہ دور ہے جس میں ضعف بڑھ جاتا ہے۔ ہمت پست، ہاتھ پیروں کی حرکت وگرفت کمزور،بال سفید اور تمام ظاہری وباطنی صفات متغیر ہو جاتی ہیں۔ قرآن نے انسان کے یہ چار بڑےاطوار بیان کیے ہیں،بعض علما نے دیگر چھوٹے چھوٹے اطوار بھی شمار کر کے انہیں قدرے تفصیل سے بیان کیا ہے جو قرآن کےاجمال کی توضیح اور اس کے اعجاز بیان کی شرح ہے مثلاً امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ انسان یکے بعد دیگرے ان حالات واطوار سےگزرتا ہے۔ اس کی اصل مٹی ہے۔ یعنی اس کے باپ آدم (عليه السلام) کی تخلیق مٹی سے ہوئی تھی۔ یا انسان جو کچھ کھاتا ہے، جس سے وہ منی پیدا ہوتی ہے جو رحم مادر میں جاکر اس کے وجود وتخلیق کا باعث بنتی ہے، وہ سب مٹی ہی کی پیداوار ہے پھر وہ نطفہ، نطفہ سے علقہ، پھر مضغہ، پھر ہڈیاں، جنہیں گوشت کا لباس پہنایا جاتا ہے۔ پھر اس میں روح پھونکی جاتی ہے۔ پھر ماں کے پیٹ سے اس حال میں نکلتا ہے کہ نحیف ونزار اور نہایت نرم ونازک ہوتا ہے۔ پھر بتدریج نشوونما پاتا، بچپن، بلوغت اور جوانی کو پہنچتا ہے اور پھر بتدریج رجعت قہقریٰ کا عمل شروع ہو جاتا ہے، کہولت، شیخوخت اور پھر کبر سنی (بڑھاپا) تا آنکہ موت اسے اپنی آغوش میں لے لیتی ہے۔ [4] انہی اشیاء میں ضعف وقوت بھی ہے۔ جس سے انسان گزرتا ہے جیسا کہ ابھی تفصیل بیان ہوئی ہے۔
Allah lah yang menciptakan kamu dari keadaan lemah, kemudian Dia menjadikan (kamu) setelah keadaan lemah itu menjadi kuat, kemudian Dia menjadikan (kamu) setelah kuat itu lemah (kembali) dan beruban. Dia menciptakan apa yang Dia kehendaki. Dan Dia Maha Mengetahui, Mahakuasa.
Allah; sizi güçsüz olarak yaratan, sonra güçsüzlüğün ardından bir güç veren, sonra gücün ardından bir güçsüzlük ve yaşlılık verendir. O, dilediğini yaratır. O; hakkıyla bilendir, hakkıyla kudret sahibidir.
C’est Allah qui vous a créés, faisant de vous, dès votre conception[11], des êtres particulièrement faibles. Puis, à cette faiblesse, Il fait succéder la vigueur qu’Il diminue progressivement, faisant finalement de vous des vieillards sans force. Il crée ce qu’Il veut, Lui l’Omniscient, l’Omnipotent.
[11] Ou : à votre naissance.
54. Dios es Quien los crea débiles [en la infancia], luego los fortalece [en la juventud], y finalmente los debilita nuevamente con la vejez. Él crea lo que quiere porque es el Sabio, el Poderoso.
الله است که شما را از [آب] بیارزشی آفرید؛ سپس بعد از ناتوانى [دوران خردسالی،] نیرومندى بخشید؛ آنگاه پس از نیرومندى، ضعف و کهنسالی پدید آورد. او هر چه بخواهد میآفریند و او دانای تواناست.
Allah ist es, der euch (zuerst) in Schwäche erschafft. Hierauf verleiht Er nach der Schwäche Kraft. Hierauf verleiht Er nach der Kraft Schwäche und weißes Haar. Er erschafft, was Er will, und Er ist der Allwissende und Allmächtige.
安拉把你们从懦弱中创造,在懦弱之后,又把你们创造成强壮的,在强壮之后又使你们成为懦弱的和白发苍苍的,他要创造什么,就创造什么。他确是全知的,确是全能的。