أَلَمْ تَرَ أَنَّ ٱللَّهَ يُولِجُ ٱلَّيْلَ فِى ٱلنَّهَارِ وَيُولِجُ ٱلنَّهَارَ فِى ٱلَّيْلِ وَسَخَّرَ ٱلشَّمْسَ وَٱلْقَمَرَ كُلٌّۭ يَجْرِىٓ إِلَىٰٓ أَجَلٍۢ مُّسَمًّۭى وَأَنَّ ٱللَّهَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌۭ ٢٩
الترجمات
Do you not see [i.e., know] that Allāh causes the night to enter the day and causes the day to enter the night and has subjected the sun and the moon, each running [its course] for a specified term, and that Allāh, of whatever you do, is Aware?
Não viste que Allah insere a noite no dia e insere o dia na noite e submete o sol e a lua, cada qual correndo até um termo designado, e que Allah, do que fazeis, é Conhecedor?
(使徒*よ、)一体あなたは、アッラー*が夜を昼にお入れになり、昼を夜にお入れになる[1]のを見ないのか?また、かれが太陽と月ーー(その)いずれも、定められた時期(である復活の日*)まで運行し続けるーーを仕えさせられたのを?また、アッラー*があなた方の行うこと(全てに)通暁されているのを?
[1] 「夜に昼に・・・」については、イムラーン家章27の訳注を参照。
کیا آپ نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ رات کو دن میں اور دن کو رات میں کھپا دیتا ہے[1] ، سورج چاند کو اسی نے فرماں بردار کر رکھا ہے ہر ایک مقرره وقت تک چلتا رہے[2]، اللہ تعالیٰ ہر اس چیز سے جو تم کرتے ہو خبردار ہے.
[1] یعنی رات کا کچھ حصہ لے کر دن میں شامل کر دیتا ہے، جس سے دن بڑا اور رات چھوٹی ہو جاتی ہے۔ جیسے گرمیوں میں ہوتا ہے، اور پھر دن کا کچھ حصہ لے کر رات میں شامل کر دیتا ہے، جس سے رات بڑی اور دن چھوٹا ہو جاتا ہے۔ جیسے سردیوں میں ہوتا ہے۔ [2] مقررہ وقت تک سے مراد قیامت تک ہے یعنی سورج اور چاند کے طلوع وغروب کا یہ نظام، جس کا اللہ نے ان کو پابند کیا ہوا ہے، قیامت تک یوں ہی قائم رہے گا دوسرا مطلب ہے ایک متعینہ منزل تک یعنی اللہ نے ان کی گردش کے لئے ایک منزل اور ایک دائرہ متعین کیا ہوا ہے جہاں ان کا سفر ختم ہوتا ہے اور دوسرے روز پھر وہاں سے شروع ہو کر پہلی منزل پر آکر ٹھہر جاتا ہے۔ ایک حدیث سے بھی اس مفہوم کی تائید ہوتی ہے۔ نبی (صلى الله عليه وسلم) نے حضرت ابوذر (رضي الله عنه) سے فرمایا: جانتے ہو، یہ سورج کہاں جاتا (غروب ہوتا) ہے؟ ابوذر (رضي الله عنه) کہتے ہیں، میں نے کہا اللہ اور اس کے رسول (صلى الله عليه وسلم) خوب جانتے ہیں فرمایا: اس کی آخری منزل عرش الٰہی ہے یہ وہاں جاتا ہے اور زیر عرش سجدہ ریز ہوتا ہے پھر (وہاں سے نکلنے کی) اپنے رب سے اجازت مانگتا ہے۔ ایک وقت آئے گا کہ اس کو کہا جائے گا۔ ارجعي من حيث جئت تو جہاں سے آیا ہے وہیں لوٹ جا تو وہ مشرق سے طلوع ہونے کے بجائے مغرب سے طلوع ہوگا۔ جیسا کہ قرب قیامت کی علامت میں آتا ہے۔ (صحيح بخاري ، كتاب التوحيد ـ ومسلم، كتاب التوحيد، ومسلم، كتاب الإيمان، باب بيان الزمن الذي لا يقبل فيه الإيمان) حضرت ابن عباس (رضي الله عنهما) فرماتے ہیں سورج رہٹ کی طرح ہے، دن کو آسمان پر اپنے مدار پر چلتا رہتا ہے، جب غروب ہو جاتا ہے، تو رات کو زمین کے نیچے اپنے مدار پر چلتا رہتا ہے یہاں تک کہ مشرق سے طلوع ہو جاتا ہے۔ اسی طرح چاند کا معاملہ ہے۔ (ابن کثیر)۔
Tidakkah engkau memperhatikan, bahwa Allah memasukkan malam ke dalam siang dan memasukkan siang ke dalam malam, dan Dia menundukkan matahari dan bulan, masing-masing beredar sampai kepada waktu yang ditentukan. Sungguh, Allah Mahateliti atas apa yang kamu kerjakan.
Görmedin mi ki, Allah geceyi gündüze, gündüzü de geceye katıyor? Güneş'i ve Ay'ı sizin hizmetinize sunmuştur. Her biri belli bir süreye (kadar) akıp gider. Allah, yaptığınız her şeyden haberdardır.
Ne vois-tu pas qu’Allah fait pénétrer la nuit dans le jour et le jour dans la nuit, et qu’Il a soumis le soleil et la lune à des lois, l’un et l’autre poursuivant leur course jusqu’à un terme fixé ? Ne sais-tu pas qu’Allah est parfaitement informé de ce que vous faites ?
29. ¿Acaso no ven que Dios inserta la noche en el día y el día en la noche, y sometió al Sol y a la Luna haciendo que cada uno recorra [su órbita] hasta un plazo prefijado? Dios está bien informado de lo que hacen.
آیا ندیدی که الله از شب میکاهد و بر روز میافزاید و از روز میکاهد و بر شب میافزاید؛ و خورشید و ماه را به خدمت [انسان] گماشته است که هر یک تا زمانی معیّن در [مدار خود] در حرکت باشد؟ بیتردید، الله از آنچه میکنید آگاه است.
Siehst du denn nicht, daß Allah die Nacht in den Tag eindringen und den Tag in die Nacht eindringen läßt und die Sonne und den Mond dienstbar gemacht hat - ein jedes läuft auf eine festgesetzte Frist zu -, und daß Allah dessen Kundig ist, was ihr tut?
难道你不知道吗?安拉使黑夜侵入白昼,使白昼侵入黑夜,并制服日月,各自运行,至一定期。安拉是彻知你们的行为的。