إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا ٥٦
الترجمات
Indeed, Allāh confers blessing upon the Prophet, and His angels [ask Him to do so]. O you who have believed, ask [Allāh to confer] blessing upon him and ask [Allāh to grant him] peace.
Por certo, Allah e Seus anjos oram pelo Profeta.[1] Ó vós que credes! Orai por ele e saudai-o, permanentemente;
[1] A oração de Allah: confere misericórdia. A oração dos anjos: pede benção divina.
本当にアッラー*とその天使*たちは、預言者*のために(善きことを)念じる[1]。信仰する者たちよ、彼のために(善きことを)念じ、平安を祈るのだ[2]。
[1] アッラー*が預言者*のために「念じる」とは、かれのお傍(そば)に控えている天使*たちのもとで、彼を讃美(さんび)すること。天使*たちが彼のために「念じる」とは、彼を讃美し、彼のために祈願することとされる(ムヤッサル426頁参照)。 [2] ムスリム*が預言者*のために「念じる」形式には、様々なものがある。その内の代表的なものとして、アル=ブハーリー4797に収録されたものを参照(前掲書、同頁参照)。また、「平安を祈る」については、家畜章54の訳注を参照。
اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اس نبی پر رحمت بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم (بھی) ان پر درود بھیجو اور خوب سلام (بھی) بھیجتے رہا کرو.[1]
[1] اس آیت میں نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) کے اس مرتبہ و منزلت کا بیان ہے جو ملأ اعلیٰ (آسمانوں) میں آپ (صلى الله عليه وسلم) کو حاصل ہے اور وہ یہ کہ اللہ تبارک تعالیٰ فرشتوں میں آپ (صلى الله عليه وسلم) کی ثناو تعریف کرتا اور آپ (صلى الله عليه وسلم) پر رحمتیں بھیجتا ہے اور فرشتے بھی آپ (صلى الله عليه وسلم) کی بلندی درجات کی دعا کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے عالم سفلی (اہل زمین) کو حکم دیا کہ وہ بھی آپ (صلى الله عليه وسلم) پر صلوٰۃ وسلام بھیجیں تاکہ آپ (صلى الله عليه وسلم) کی تعریف میں علوی اورسفلی دونوں عالم متحد ہوجائیں۔ حدیث میں آتا ہے، صحابہ کرام (رضي الله عنهم) نے عرض کیا، یا رسول اللہ ! سلام کا طریقہ تو ہم جانتے ہیں (یعنی التحیات میں السَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ ! پڑھتے ہیں) ہم درود کس طرح پڑھیں؟ اس پر آپ (صلى الله عليه وسلم) نے وہ درود ابراہیمی بیان فرمایا جو نمازمیں پڑھا جاتا ہے۔ (صحيح بخاري، تفسير سورة الأحزاب) علاوہ ازیں احادیث میں درود کے اور بھی صیغے آتے ہیں، جو پڑھے جاسکتے ہیں۔ نیز مختصراً صلی اللہ علیٰ رسول اللہ وسلم بھی پڑھا جاسکتا ہے تاہم الصَّلاةُ وَالسَّلامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ ! پڑھنا اس لئے صحیح نہیں کہ اس میں نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) سے خطاب ہے اور یہ صیغہ نبی کریم سے عام درود کے وقت منقول نہیں ہے اور تحیات میں السَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ ! چونکہ آپ (صلى الله عليه وسلم) سے منقول ہے اس وجہ سے اس وقت میں پڑھنے میں کوئی قباحت نہیں مزید برآں اس کا پڑھنے والا اس فاسد عقیدے سے پڑھتا ہے کہ آپ (صلى الله عليه وسلم) اسے براہ راست سنتے ہیں۔ یہ عقیدہ فاسدہ قرآن و حدیث کے خلاف ہے اور اس عقیدے سے مذکورہ خانہ ساز درود پڑھنا بھی غیر صحیح ہے۔ اسی طرح اذان سے قبل اسے پڑھنا بھی بدعت ہے، جو ثواب نہیں، گناہ ہے۔ احادیث میں درود کی بڑی فضیلت وارد ہے۔ نماز میں اس کا پڑھنا واجب ہے یا سنت؟ جمہور علما اسے سنت سمجھتے ہیں اور امام شافعی اور بہت سے علما واجب۔ اور احادیث سے اس کے وجوب ہی کی تائید ہوتی ہے۔ اسی طرح احادیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح آخری تشہد میں درود پڑھنا واجب ہے، پہلے تشہد میں بھی درود پڑھنے کی وہی حیثیت ہے۔ اس لئے نماز کے دونوں تشہد میں درود پڑھنا ضروری ہے۔ اس کے دلائل مختصراً حسب ذیل ہیں۔ ایک دلیل یہ ہے کہ مسند احمد میں صحیح سند سے مروی ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) سے سوال کیا، یا رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) آپ (صلى الله عليه وسلم) پر سلام کس طرح پڑھنا ہے، یہ تو ہم نے جان لیا (کہ ہم تشہد میں السَّلامُ عَلَيْكَ پڑھتے ہیں) لیکن جب ہم نماز میں ہوں تو آپ (صلى الله عليه وسلم) پر درود کس طرح پڑھیں؟ تو آپ (صلى الله عليه وسلم) نے درود ابراہیمی کی تلقین فرمائی (الفتح الربانی، ج 4، ص 20۔21) مسند احمد کے علاوہ یہ روایت صحیح ابن حبان، سنن کبری بیہقی، مستدرک حاکم اور ابن خزیمہ میں بھی ہے۔ اس میں صراحت ہے کہ جس طرح سلام نماز میں پڑھا جاتا ہے یعنی تشہد میں، اسی طرح یہ سوال بھی نماز کے اندر درود پڑھنے سے متعلق تھا، نبی (صلى الله عليه وسلم) نے درود ابراہیمی پڑھنے کا حکم فرمایا۔ جس سے معلوم ہوا کہ نماز میں سلام کے ساتھ درود بھی پڑھنا چاہیئے، اور اس کا مقام تشہد ہے۔ اور حدیث میں یہ عام ہے، اسے پہلے یا دوسرے تشہد کے ساتھ خاص نہیں کیا گیا ہے جس سے یہ استدلال کرنا صحیح ہے کہ (پہلے اور دوسرے) دونوں تشہد میں سلام اور درود پڑھا جائے۔ اور جن روایات میں تشہد اول کا بغیر درود کے ذکر ہے، انہیں سورۂ احزاب کی آیت صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا کے نزول سے پہلے پر محمول کیا جائے گا۔ لیکن اس آیت کے نزول یعنی 5 ہجری کے بعد جب نبی (صلى الله عليه وسلم) نے صحابہ (رضي الله عنهم) کے استفسار پر درود کے الفاظ بھی بیان فرما دیئے تو اب نماز میں سلام کے ساتھ صلوٰۃ (درود شریف) کا پڑھنا بھی ضروری ہوگیا، چاہے وہ پہلا تشہد ہو یا دوسرا۔ اس کی ایک اور دلیل یہ ہے کہ حضرت عائشہ (رضی الله عنها) نے بیان فرمایا کہ نبی (صلى الله عليه وسلم) (بعض دفعہ) رات کو 9 رکعات ادا فرماتے، آٹھویں رکعت میں تشہد بیٹھتے تو اس میں اپنے رب سے دعا کرتے اور اس کے پیغمبر (صلى الله عليه وسلم) پر درود پڑھتے، پھر سلام پھیرے بغیر کھڑے ہوجاتے اور نویں رکعت پوری کرکے تشہد میں بیٹھتےتو اپنے رب سے دعا کرتے اور اس کے پیغمبر پر درود پڑھتے اور پھر دعا کرتے، پھر سلام پھیر دیتے (السنن الكبرى للبيهقي، ج2 ص704 طبع جديد سنن النسائي، مع التعليقات السلفية، كتاب قيام الليل، ج1 ص202۔ مزید ملاحظہ ہو، صفة صلاة النبي صلى الله عليه وسلم للألباني صفحة 145) اس میں بالکل صراحت ہے کہ نبی (صلى الله عليه وسلم) نے اپنی رات کی نماز میں پہلے اور آخری دونوں تشہد میں درود پڑھا ہے۔ یہ اگرچہ نفلی نماز کا واقعہ ہے لیکن مذکورہ عمومی دلائل کی آپ (صلى الله عليه وسلم) کے اس عمل سے تائید ہوجاتی ہے، اس لئے اسے صرف نفلی نماز تک محدود کردینا صحیح نہیں ہوگا۔
Sesungguhnya Allah dan para malaikat-Nya berselawat untuk Nabi.[688] Wahai orang-orang yang beriman! Berselawatlah kamu untuk Nabi dan ucapkanlah salam dengan penuh penghormatan kepadanya.[689]
[688] Selawat dari Allah berarti memberi rahmat; dari malaikat memohonkan ampunan dan kalau dari orang-orang mukmin berarti berdoa agar diberi rahmat seperti dengan perkataan, Allāhumma salli 'alā Muhammad. [689] Dengan mengucapkan perkataan seperti Assalāmu'alaika ayyuhan Nabi, artinya semoga keselamatan kepadamu wahai Nabi.
Şüphesiz Allah ve melekleri Nebi’ye salat ederler. Ey Müminler siz de ona salat ve selam edin.
Allah et Ses anges bénissent le Prophète. Vous qui croyez ! Bénissez-le et saluez-le vous aussi !
56. Dios bendice al Profeta y Sus ángeles piden [a Dios] que lo bendiga. ¡Oh, creyentes! Pidan bendiciones y paz por él.
به راستی، الله و فرشتگانش بر پیامبر درود میفرستند؛ [پس] ای کسانی که ایمان آوردهاید، [شما نیز] بر او درود فرستید و به شایستگی سلام گویید.
Gewiß, Allah und Seine Engel sprechen den Segen über den Propheten. O die ihr glaubt, sprecht den Segen über ihn und grüßt ihn mit gehörigem Gruß.
安拉和他的天使们确实祝福先知。信士们啊!你们应当祝福他,祝他平安!