قُلْ إِنَّ رَبِّى يَبْسُطُ ٱلرِّزْقَ لِمَن يَشَآءُ مِنْ عِبَادِهِۦ وَيَقْدِرُ لَهُۥ ۚ وَمَآ أَنفَقْتُم مِّن شَىْءٍۢ فَهُوَ يُخْلِفُهُۥ ۖ وَهُوَ خَيْرُ ٱلرَّٰزِقِينَ ٣٩
الترجمات
Say, "Indeed, my Lord extends provision for whom He wills of His servants and restricts [it] for him. But whatever thing you spend [in His cause] - He will compensate it; and He is the best of providers."
Dize: "Por certo, meu Senhor prodigaliza o sustento a quem quer, de Seus servos, e restringe-lho. E o que quer que despendais, Ele vo-lo restituirá. E Ele é O melhor dos sustentadores."
(使徒*よ)言ってやれ。「本当に我が主は、その僕たちの内、かれがお望みの者に糧を豊富に与えられ、また控えられる[1]。そして、あなた方がどんなものでも(アッラー*に命じられたことに)費やせば、かれはそれを(褒美で)継がせ給う[2]。かれは、最もよく糧を授けられるお方」。
[1] アーヤ36の訳注を参照。 [2] 現世においてはそれに代わるもので、来世においては褒美で償(つぐな)われる、ということ(ムヤッサル432頁参照)。
کہہ دیجیئے! کہ میرا رب اپنے بندوں میں جس کے لئے چاہے روزی کشاده کرتا ہے اور جس کے لئے چاہے تنگ کردیتا ہے[1] ، تم جو کچھ بھی اللہ کی راه میں خرچ کرو گے اللہ اس کا (پورا پورا) بدلہ دے گا[2] اور وه سب سے بہتر روزی دینے واﻻ ہے.[3]
[1] پس وہ کبھی کافر کو بھی خوب مال دیتا ہے، لیکن کس لئے؟ استدراج کے طور پر، اور کبھی مومن کو تنگ دست رکھتا ہے، کس لئے؟ اس کے اجروثواب میں اضافے کے لئے۔ اس لئے مجردمال کی فراوانی اس کی رضا کی اور اس کی کمی، اس کی ناراضی کی دلیل نہیں ہے۔ یہ تکرار بطور تاکید کے ہے۔ [2] إِخْلافٌ کے معنی ہیں، عوض اور بدلہ دینا۔ یہ بدلہ دنیا میں بھی ممکن ہے اور آخرت میں تو یقینی ہے۔ حدیث قدسی میں آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ «أَنْفِقْ أُنْفِقْ عَلَيْكَ» (صحيح بخاري سورة هود) ”تو خرچ کر، میں تجھ پر خرچ کروں گا“ (یعنی بدلہ دوں گا) دو فرشتے ہر روز اعلان کرتے ہیں، ایک کہتا ہے «اللَّهُمَّ أَعْطِ مُمْسِكًا تَلَفًا» ”اے اللہ! نہ خرچ کرنے والے کے مال کو ضائع کردے“ دوسرا کہتا ہے، «اللَّهُمَّ أَعْطِ مُنْفِقًا خَلَفًا» ”اے اللہ! خرچ کرنے والے کو بدلہ عطا فرما۔ (البخاري، كتاب الزكاة، باب ، فأما من أعطى واتقى)۔ [3] کیونکہ ایک بندہ اگر کسی کو کچھ دیتا ہے تو اس کا یہ دینا اللہ تعالیٰ کی توفیق وتیسیر اور اس کی تقدیر سے ہی ہے۔ حقیقت میں دینے والا اس کا رازق نہیں ہے، جس طرح بچوں کا باپ، بچوں کا، یا بادشاہ اپنے لشکر کا کفیل کہلاتا ہے حالانکہ امیر اور مامور بچے اور بڑے سب کا رازق حقیقت میں اللہ تعالیٰ ہی ہے جو سب کا خالق بھی ہے۔ اس لئے جو شخص اللہ کے دیئے ہوئے مال میں سے کسی کو کچھ دیتا ہے تو وہ ایسے مال میں تصرف کرتا ہے جو اللہ ہی نے اسے دیا ہے، پس درحقیقت رازق بھی اللہ ہی ہوا۔ تاہم یہ اس کا مزید فضل وکرم ہے کہ اس کے دیئے ہوئے مال میں اس کی مرضی کے مطابق تصرف (خرچ کرنے) پر وہ اجر وثواب بھی عطا فرماتا ہے۔
Katakanlah, "Sungguh, Tuhanku melapangkan rezeki dan membatasinya bagi siapa yang Dia kehendaki di antara hamba-hamba-Nya." Dan apa saja yang kamu infakkan, Allah akan menggantinya dan Dialah pemberi rezeki yang terbaik.
De ki: "Rabbim, kullarından dilediğine bol rızık verir ve (dilediğinden de) kısar. Allah yolunda her ne harcarsanız, Allah onun yerine başkasını verir. O, rızık verenlerin en hayırlısıdır."
Dis : « Mon Seigneur dispense Ses faveurs à qui Il veut parmi Ses serviteurs, comblant certaines de Ses créatures, accordant aux autres avec mesure. Tout don que vous ferez par charité vous sera remplacé par votre Seigneur, le plus généreux des pourvoyeurs. »
39. Diles: “Mi Señor aumenta el sustento a quien Él quiere de Sus siervos y se lo restringe [a quien quiere], y todo lo que gasten en caridad, Él se los compensará. Él es el mejor proveedor”.
[ای پیامبر،] بگو: «بیتردید، پروردگارم [نعمت و] روزی را بر هر کس که بخواهد، میگشاید و [یا] تنگ میگرداند؛ و هر چیزی را [که در راه الله] انفاق کنید، او به جای آن [مال ـ و بهتر از آن ـ به شما] بازپس میدهد؛ و او تعالی بهترین روزیدهنده است».
Sag: Gewiß, mein Herr gewährt die Versorgung großzügig, wem von Seinen Dienern Er will, und bemißt auch. Und was immer ihr auch ausgebt, so wird Er es euch ersetzen, und Er ist der Beste der Versorger.
你说:“我的主,的确欲使哪个仆人的给养宽裕,就使他宽裕;欲使哪个仆人的给养窘迫,就使他窘迫。你们所施舍的东西,他将补偿它;他是最优的供给者。”