وَبَشَّرْنَٰهُ بِإِسْحَٰقَ نَبِيًّۭا مِّنَ ٱلصَّٰلِحِينَ ١١٢
الترجمات
And We gave him good tidings of Isaac, a prophet from among the righteous.[1299]
[1299] This verifies that the firstborn son who was to be sacrificed was Ishmael and not Isaac, as claimed by the Jews and Christians.
E alvissaramo-lhe Isaque, como profeta, entre os íntegros.
またわれら*は彼(イブラーヒーム*)に、(後に)正しい者*の一人である預言者*となる、イスハーク*(誕生)の吉報を伝えた。
اور ہم نے اس کو اسحاق (علیہ السلام) نبی کی بشارت دی جو صالح لوگوں میں سے ہوگا.[1]
[1] حضرت ابراہیم (عليه السلام) کے مذکورہ واقعے کے بعد اب ایک بیٹے اسحاق (عليه السلام) کی اور اس کے نبی ہونے کی خوش خبری دینے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے پہلے جس بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم دیا گیا تھا، وہ اسماعیل (عليه السلام) تھے۔ جو اس وقت ابراہیم (عليه السلام) کے اکلوﺗے بیٹے تھے، اسحاق (عليه السلام) کی ولادت ان کے بعد ہوئی ہے۔ مفسرین کے درمیان اس کی بابت اختلاف ہے کہ ذبیح کون ہے، اسماعیل (عليه السلام) یا اسحاق (عليه السلام) ؟ امام ابن جریر نے حضرت اسحاق (عليه السلام) کو اور ابن کثیر اور اکثر مفسرین نے حضرت اسماعیل (عليه السلام) کو ذبیح قرار دیا ہے اور یہی بات صحیح ہے۔ امام شوکانی نے اس میں توقف اختیار کیا ہے۔ (تفصیل کے لئے دیکھئے تفسیر فتح القدیر اور تفسیر ابن کثیر)۔
Dan Kami beri dia kabar gembira dengan (kelahiran) Ishak seorang nabi yang termasuk orang-orang yang saleh.
Biz ona, salihlerden bir peygamber olarak İshak'ı müjdeledik.
Nous lui avons également annoncé la naissance d’Isaac, prophète et serviteur vertueux,
112. Lo albricié con [el nacimiento de] Isaac, quien sería un Profeta virtuoso.
و او را به [تولد] اسحاق که پیامبری از شایستگان بود بشارت دادیم.
Und Wir verkündeten ihm Ishaq als einen Propheten von den Rechtschaffenen.
我以将为先知和清廉者的易司哈格向他报喜。