القرآن الكريم ابحث في القرآن بكلمة أو برقم مثل ٢:٢٨٢Ctrl K

فَغَفَرْنَا لَهُۥ ذَٰلِكَ ۖ وَإِنَّ لَهُۥ عِندَنَا لَزُلْفَىٰ وَحُسْنَ مَـَٔابٍۢ ٢٥

سورة ص، الآية ٢٥مكية
في سورتها

الترجمات

English: Noor International Center1.1.2، QuranEnc

So We forgave him that; and indeed, for him is nearness to Us and a good place of return.

Portuguese: Helmi Nasr1.4.1، QuranEnc

Então, perdoamo-lhe isso. E, por certo, ele terá, junto de Nós, um lugar próximo, e aprazível retorno.

Japanese: Saeed Sato1.0.13، QuranEnc

それでわれら*は彼(ダーウード*)に、そのこと[1]を赦した。そして本当に彼にはまさしく、われら*のもとにおけるお近づきと、(来世における)善き戻り場所があるのだ。

[1] アッラー*はその不必要性ゆえに、「そのこと」を明言されなかったのであり、それを追求するのは行き過ぎというものである。この話の意図はそもそも、ダーウード*の優しさと悔悟、そして悔悟の後にはそれ以前よりも優れた者となった、ということなのだから(アッ=サァディー711頁参照)。 また、預言者*の無謬(むびゅう)性については、雌牛章36の訳注を参照。

Urdu: Muhammad Junagarhi1.1.3، QuranEnc

پس ہم نے بھی ان کا وه (قصور) معاف کر دیا[1] ، یقیناً وه ہمارے نزدیک بڑے مرتبہ والے اور بہت اچھے ٹھکانے والے ہیں.

[1] حضرت داود (عليه السلام) کا یہ کام کیا تھا جس پر انہیں کوتاہی کا اور توبہ وندامت کا اظہار کا احساس ہوا، اور اللہ نے اسے معاف فرما دیا۔ قرآن کریم میں اس اجمال کی تفصیل نہیں ہے اور کسی مستند حدیث میں بھی اس کی بابت کوئی وضاحت نہیں ہے۔ اس لئے بعض مفسرین نے تو اسرائیلی روایات کو بنیاد بنا کر ایسی باتیں بھی لکھ دی ہیں، جو ایک نبی کی شان سے فروتر ہیں۔ بعض مفسرین مثلاً ابن کثیر نے یہ موقف اختیار کیا کہ جب قرآن وحدیث اس معاملے میں خاموش ہیں تو ہمیں بھی اس کی تفصیلات کی کرید میں پڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔ مفسرین کا ایک تیسرا گروہ ہےجو اس واقعے کی بعض جزئیات اور تفصیلات بیان کرتا ہے تاکہ قرآن کے اجمال کی کچھ توضیح ہو جائے۔ تاہم یہ کسی ایک بیان پر متفق نہیں ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ حضرت داود (عليه السلام) نے ایک فوجی کو حکم دیا تھا کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دے دے اور یہ اس زمانے کے عرف میں معیوب بات نہیں تھی۔ حضرت داود (عليه السلام) کو اس عورت کی خوبیوں اور کمالات کا علم ہوا تھا جس بنا پر ان کے اندر یہ خواہش پیدا ہوئی کہ اس عورت کو تو ملکہ ہونا چاہئیے نہ کہ ایک عام سی عورت۔ تاکہ اس کی خوبیوں اور کمالات سے پورا ملک فیض یاب ہو۔ یہ خواہش کتنے بھی اچھے جذبے کی بنیاد پر ہو، لیکن ایک تو متعدد بیویوں کی موجودگی میں یہ نامناسب سی بات لگتی ہے۔ دوسرے بادشاہ وقت کی طرف سے اس کے اظہار میں جبر کا پہلو بھی شامل ہو جاتا ہے۔ اس لئے حضرت داود (عليه السلام) کو ایک تمثیلی واقعے سے اس کے نامناسب ہونے کا احساس دلایا گیا اور انہیں فی الواقع اس پر تنبہ ہوگیا۔ بعض کہتے ہیں کہ آنے والے یہ دو شخص فرشتے تھے جو ایک فرضی مقدمہ لے کر حاضر ہوئے، حضرت داود (عليه السلام) سے کوتاہی یہ ہوئی کہ مدعی کا بیان سن کر ہی اپنی رائے کا اظہار کر دیا اور مدعا علیہ کی بات سننے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی۔ اللہ تعالیٰ نے رفع درجات کے لئے اس آزمائش میں انہیں ڈالا، اس غلطی کا احساس ہوتے ہی وہ سمجھ گئے کہ یہ آزمائش تھی جو اللہ کی طرف سے ان پر آئی اور بارگاہ الٰہی میں جھک گئے۔ بعض کہتے ہیں کہ آنے والے فرشتے نہیں تھے، انسان ہی تھے اور یہ فرضی واقعہ نہیں، ایک حقیقی جھگڑا تھا، جس کے فیصلے کے لئے وہ آئے تھے اور اس طرح ان کے صبر وتحمل کا امتحان لیا گیا، کیونکہ اس واقعے میں ناگواری اور اشتعال طبع کے کئی پہلو تھے، ایک تو بلا اجازت دیوار پھاند کر آنا۔ دوسرے، عبادت کے مخصوص اوقات میں آکر مخل ہونا۔ تیسرے، ان کا طرز تکلﻢ بھی آپ کی حاکمانہ شان سے فروتر تھا (کہ زیادتی نہ کرنا وغیرہ) لیکن اللہ نے آپ کو توفیق دی کہ مشتعل نہیں ہوئے اور کمال صبر وتحمل کا مظاہرہ کیا۔ لیکن دل میں جو طبعی ناگواری کا ہلکا سا احساس پیدا ہوا، اس کو بھی اپنی کوتاہی پر محمول کیا، یعنی یہ اللہ کی طرف سے آزمائش تھی، اس لئے یہ طبعی انقباض بھی نہیں ہونا چاہئے تھا، جس پر انہوں نے توبہ واستغفار کا اہتمام کیا۔ وَاللهُ أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔

Indonesian: Ministry of Religious Affairs1.0.1، QuranEnc

Lalu Kami mengampuni (kesalahannya) itu. Dan sungguh, dia mempunyai kedudukan yang benar-benar dekat di sisi Kami dan tempat kembali yang baik.

Turkish: Rowwad Translation Center1.0.4، QuranEnc

Böylece onu bağışladık. Şüphesiz onun bizim katımızda gerçekten bir yakınlığı ve varılacak güzel bir yeri vardır.

French: Rachid Maach1.0.3، QuranEnc

Nous lui avons donc accordé Notre pardon et lui réservons, tout près de Nous, la plus heureuse des retraites.

Spanish: Isa Garcia1.0.2، QuranEnc

25. Lo perdoné, pues es de los más allegados a Mí, y tendrá [en la otra vida] una bella morada [en el Paraíso].

Persian: Rowwad Translation Center1.1.3، QuranEnc

آن [اشتباه] را بر او بخشیدیم؛ و به راستی، او نزد ما مقامی والا و [در آخرت] بازگشتی نیکو دارد.

German: Frank Bubenheim1.1.4، QuranEnc

Und so vergaben Wir ihm dies. Für ihn wird es fürwahr (den Zutritt in) Unsere Nähe und eine schöne Heimstatt geben.

Chinese: Muhammad Makeen1.0.2، QuranEnc

我就饶了他的过失,他在我那里,的确获得宠爱和优美的归宿。