وَرُسُلًۭا قَدْ قَصَصْنَٰهُمْ عَلَيْكَ مِن قَبْلُ وَرُسُلًۭا لَّمْ نَقْصُصْهُمْ عَلَيْكَ ۚ وَكَلَّمَ ٱللَّهُ مُوسَىٰ تَكْلِيمًۭا ١٦٤
الترجمات
And [We sent] messengers about whom We have related [their stories] to you before and messengers about whom We have not related to you. And Allāh spoke to Moses with [direct] speech.
E enviamos Mensageiros, de que, com efeito, te fizemos menção antes e Mensageiros, de que não te fizemos menção; e Allah falou a Moisés efetivamente.
また、われら*が以前、あなたに語って聞かせた使徒*たちと、まだあなたに語って聞かせてはいない使徒*たちを(遣わした)。そしてアッラー*はムーサー*に、直々に語りかけられたのだ。
اور آپ سے پہلے کے بہت سے رسولوں کے واقعات ہم نے آپ سے بیان کئے ہیں[1] اور بہت سے رسولوں کے نہیں بھی کئے[2] اور موسیٰ (علیہ السلام) سے اللہ تعالیٰ نے صاف طور پر کلام کیا۔[3]
[1] جن نبیوں اور رسولوں کے اسمائے گرامی اور ان کے واقعات قرآن کریم میں بیان کئے گئے ہیں ان کی تعداد 24 یا 25 ہے۔ (1) آدم (2) ادریس (3) نوح (4) ہود (5) صالح (6) ابراہیم (7) لوط (8) اسماعیل (9) اسحاق (10) یعقوب (11) یوسف (12) ایوب (13) شعیب (14) موسیٰ (15) ہارون (16) یونس (17) داود (18) سلیمان (19) الیاس (20) الیسع (21) زکریا (22) یحیی(23) عیسیٰ (24) ذوالکفل۔ (اکثر مفسرین کے نزدیک) (25)حضرت محمد صلوٰت اللہ وسلامہ علیہ و علیہم اجمعین۔ [2] جن انبیا ورسل کے نام اور واقعات قرآن میں بیان نہیں کئے گئے، ان کی تعداد کتنی ہے؟ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔ ایک حدیث میں جو بہت مشہور ہے ایک لاکھ 24 ہزار اور ایک حدیث میں 8 ہزار تعداد بتلائی گئی ہے۔ لیکن یہ روایات سخت ضعیف ہیں۔ قرآن وحدیث سے صرف یہی معلوم ہوتا ہے کہ مختلف ادوار وحالات میں مبشرین ومنذرین (انبیاء) آتے رہے ہیں۔ بالآخر یہ سلسلۂ نبوت حضرت محمد پر ختم فرما دیا گیا۔ آپ سے پہلے کتنے نبی آئے (صلى الله عليه وسلم) ان کی صحیح تعداد اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا تاہم آپ (صلى الله عليه وسلم) کے بعد جتنے بھی دعوے داران نبوت ہو گزرے یا ہوں گے، سب کے سب دجال اور کذاب ہیں اور ان کی جھوٹی نبوت پر ایمان لانے والے دائرۂ اسلام سے خارج ہیں اور امت محمدیہ سے الگ ایک متوازی امت ہیں۔ جیسے امت بابیہ، بہائیہ اور امت مرزائیہ وغیرہ۔ اسی طرح مرزا قادیانی کو مسیح موعود ماننے والے لاہوری مرزائی ہیں۔ [3] یہ موسیٰ (عليه السلام) کی وہ خاص صفت ہے جس میں وہ دوسرے انبیا سے ممتاز ہیں۔ صحیح ابن حبان کی ایک روایت کی رو سے امام ابن کثیر نے اس صفت ہم کلامی میں حضرت آدم (عليه السلام) وحضرت محمد (صلى الله عليه وسلم) کو بھی شریک مانا ہے۔ (تفسير ابن كثير زیر آیت تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ)
Dan ada beberapa Rasul yang telah Kami kisahkan mereka kepadamu sebelumnya dan ada beberapa Rasul (lain) yang tidak Kami kisahkan mereka kepadamu. Dan kepada Musa, Allah berfirman langsung.[246]
[246] Allah berfirman langsung dengan Nabi Musa -'alaihissalām-, merupakan keistimewaan Nabi Musa-'alaihissalām-. Dan karenanya Nabi Musa -'alaihissalām- disebut Kalīmullāh, sedang Rasul-rasul yang lain mendapat wahyu dari Allah dengan perantaraan Jibril. Dalam pada itu Nabi Muhammad -ṣallallāhu 'alaihi wa sallam- pernah berbicara secara langsung dengan Allah pada malam hari waktu mi'raj.
Peygamberlerden bir kısmını daha önce sana anlatmış, bir kısmını da anlatmamıştık ve Allah, Mûsâ ile gerçekten konuştu.
Il est des Messagers dont Nous t’avons fait le récit et d’autres dont Nous ne t’avons pas fait mention. Allah a bel et bien parlé à Moïse.
164. Te he mencionado [¡Oh, Mujámmad!] algunos de los Mensajeros que envié [a la humanidad] y otros no. Y sabe que Dios habló con Moisés directamente.
و پیامبرانى [فرستادیم] كه در حقیقت، [سرگذشت] آنان را پیش از این برای تو حكایت نمودیم و پیامبرانى [را نیز برانگیختهایم] كه [داستان] آنان را برایت بیان نكردهایم؛ و الله با موسى آشكارا [و بیواسطه] سخن گفت.
Und (Wir sandten) Gesandte, über die Wir dir schon zuvor berichtet haben, und andere, über die Wir dir nicht berichtet haben, und zu Musa hat Allah unmittelbar gesprochen -,
我确已派遣许多使者,他们中有我在以前已告诉你的,有我未告诉你的。安拉曾与穆萨对话。