وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ سَنُدْخِلُهُمْ جَنَّٰتٍۢ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَآ أَبَدًۭا ۖ لَّهُمْ فِيهَآ أَزْوَٰجٌۭ مُّطَهَّرَةٌۭ ۖ وَنُدْخِلُهُمْ ظِلًّۭا ظَلِيلًا ٥٧
الترجمات
But those who believe and do righteous deeds - We will admit them to gardens beneath which rivers flow, wherein they abide forever. For them therein are purified spouses, and We will admit them to deepening shade.
E aos que crêem e fazem as boas obras, fá-los-emos entrar em Jardins, abaixo dos quais correm os rios; nesses, serão eternos, para todo o sempre. Nesses, terão mulheres puras. E fá-los-emos entrar em sombra sombrosa.
一方、信仰して正しい行い*を行う者たち、われら*は彼らを、その下から川が流れる楽園に入れてやろう。(彼らは)そこにずっと永遠に留まるのだ。そこには彼らのために、純潔な妻[1]たちがいる。そしてわれら*は彼らを、幾重にも重なる陰の中に入れてやるのだ。
[1] 「純潔な妻」については、雌牛章25の訳注参照。
اور جو لوگ ایمان ﻻئے اور شائستہ اعمال کئے[1] ہم عنقریب انہیں ان جنتوں میں لے جائیں گے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں، جن میں وه ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے، ان کے لئے وہاں صاف ستھری بیویاں ہوں گی اور ہم انہیں گھنی چھاؤں (اور پوری راحت) میں لے جائیں گے۔[2]
[1] کفار کے مقابلے میں اہل ایمان کے لئے جو ابدی نعمتیں ہیں، ان کا تذکرہ کیا جا رہا ہے۔ لیکن وہ اہل ایمان جو اعمال صالحہ کی دولت سے مالا مال ہوں گے، جَعَلَنَا اللهُ مِنْهُمْ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ہر جگہ ایمان کے ساتھ اعمال صالح کا ذکر کرکے واضح کر دیا کہ ان کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔ ایمان، عمل صالح کے بغیر ایسے ہی ہے جیسے پھول ہو مگر خوشبو کے بغیر، درخت ہولیکن بے ثمر۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور خیرالقرون کے دوسرے مسلمانوں نے اس نکتے کو سمجھ لیا تھا۔ چنانچہ ان کی زندگیاں ایمان کے پھل، اعمال صالحہ سے مالا مال تھیں۔ اس دور میں بے عمل یا بدعملی کے ساتھ ایمان کا تصور ہی نہیں تھا۔ اس کے برعکس آج ایمان صرف زبانی جمع خرچ کا نام رہ گیا ہے۔ اعمال صالحہ سے دعوے داران ایمان کا دامن خالی ہے۔ هَدَانَا اللهُ تَعَالَى، اسی طرح اگر کوئی شخص ایسے عمل کرتا ہے جو اعمال صالحہ کی ذیل میں آتے ہیں۔ مثلا راست بازی، امانت ودیانت، ہمدردی وغم گساری اور دیگر اخلاقی خوبیاں۔ لیکن ایمان کی دولت سے یہ محروم ہے تو اس کے یہ اعمال، دنیا میں تو اس کی شہرت ونیک نامی کا ذریعہ ثابت ہو سکتے ہیں لیکن اللہ کی بارگاہ میں ان کی کوئی قدروقیمت نہ ہوگی اس لئے کہ ان کا سر چشمہ ایمان نہیں ہے جو اچھے اعمال کو عنداللہ بار آور بناتا ہے بلکہ صرف اور صرف دینوی مفادات یا قومی اخلاق وعادات ان کی بنیاد ہے۔ [2] گھنی، گہری، عمدہ اور پاکیزہ چھاؤں جس کو ترجمہ میں پوری راحت سے تعبیر کیا گیا ہے۔ ایک حدیث میں ہے جنت میں ایک درخت ہے جس کا سایہ اتنا ہے کہ ایک سوار سو سال میں بھی اسے طے نہیں کر سکے گا یہ شجرۃ الخلد ہے۔ (مسند أحمد،جلد 2 ص 455، وأصله في البخاري، كتاب بدء الخلق باب نمبر ٨ما جاء في صفة الجنة وأنها مخلوقة)
Adapun orang-orang yang beriman dan mengerjakan kebajikan, kelak akan Kami masukkan ke dalam surga yang mengalir di bawahnya sungai-sungai, mereka kekal di dalamnya selama-lamanya. Di sana mereka mempunyai pasangan-pasangan yang suci, dan Kami masukkan mereka ke tempat yang teduh lagi nyaman.
İman edip salih amel işleyenleri, altından ırmaklar akan, içinde ebedî kalacakları Cennetlere sokacağız. Onlar için orada tertemiz eşler vardır. Onları kalıcı gölgeliklere yerleştireceğiz.
Quant à ceux qui croient et accomplissent de bonnes œuvres, Nous les admettrons dans des jardins traversés de rivières où, sous d’épais ombrages, ils demeureront à jamais en compagnie des épouses les plus pures.
57. [En cambio] los creyentes que obren correctamente estarán en jardines por donde corren ríos, en los que morarán eternamente, donde tendrán esposas purificadas bajo buena sombra.
و کسانی را که ایمان آوردهاند و کارهای شایسته انجام دادهاند، به باغهایی [از بهشت] وارد خواهیم نمود که از زیر [درختان] آن جویبارها جاری است؛ همواره در آن خواهند ماند و در آنجا همسران پاکیزه دارند و آنان را زیر سایههایی گسترده [و انبوه] جای میدهیم.
Diejenigen aber, die glauben und rechtschaffene Werke tun, werden Wir in Gärten eingehen lassen, durcheilt von Bächen, ewig und auf immer darin zu bleiben. Darin haben sie vollkommen gereinigte Gattinnen; und Wir lassen sie in vollkommenen Schatten eingehen.
信道而且行善者,我将使他们入下临诸河的乐园,而永居其中。他们在乐园里有纯洁的配偶,我将使他们入于永恒的庇荫中。