ٱلنَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا غُدُوًّۭا وَعَشِيًّۭا ۖ وَيَوْمَ تَقُومُ ٱلسَّاعَةُ أَدْخِلُوٓا۟ ءَالَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ ٱلْعَذَابِ ٤٦
الترجمات
The Fire; they are exposed to it morning and evening.[1374] And the Day the Hour appears [it will be said], "Make the people of Pharaoh enter the severest punishment."
[1374] From the time of their death until the Day of Resurrection, when they will be driven into it.
O Fogo, a ele serão expostos, ao amanhecer e ao anoitecer. E, um dia, quando a Hora advier, dir-se-á: "Fazei o povo de Faraó entrar no mais veemente castigo."
(更にその死後には、)朝に夕に晒されることになる業火が(、彼らを包囲する)。そして(復活*の)その時が起こる日、(彼らにはこう言われるのだ、)「フィルアウン*の一族を、最も厳しい懲罰に入れよ」。[1]
[1] 死後、復活の日*まで、彼らの魂は業火に晒される。そして復活の日*が来れば、魂と肉体が合わさった形で、地獄の業火に入れられることになる(イブン・カスィール7:146参照)。
آگ ہے جس کے سامنے یہ ہر صبح شام ﻻئے جاتے ہیں[1] اور جس دن قیامت قائم ہوگی (فرمان ہوگا کہ) فرعونیوں کو سخت ترین عذاب میں ڈالو.[2]
[1] اس آگ پر برزخ میں یعنی قبروں میں وہ لوگ روزانہ صبح و شام پیش کیے جاتے ہیں، جس سے عذاب قبرکا اثبات ہوتا ہے۔ جس کا بعض لوگ انکار کرتےہیں۔ احادیث میں تو بڑی وضاحت سے عذاب قبرپرروشنی ڈالی گئی ہے۔ مثلاً حضرت عائشہ (رضی الله عنها) کے سوال کےجواب میں نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا نَعَمْ عَذَابُ الْقَبْرِ حَقٌّ (صحيح بخاري ، كتاب الجنائز ، باب ما جاء في عذاب القبر) ہاں قبر کا عذاب حق ہے اسی طرح ایک اور حدیث میں فرمایا گیا جب تم میں سے کوئی مرتا ہے تو (قبر میں) اس پر صبح و شام اس کی جگہ پیش کی جاتی ہے یعنی اگر وہ جنتی ہے تو جنت اور جہنمی ہے تو جہنم اس کے سامنےپیش کی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ یہ تیری اصل جگہ ہے، جہاں قیامت والے دن اللہ تعالیٰ تجھے بھیجے گا۔ (صحيح بخاري، باب الميت يعرض عليه مقعده بالغداة والعشي - مسلم ، كتاب الجنة ، باب عرض مقعد الميت) اس کا مطلب ہے کہ منکرین عذاب قبر قرآن و حدیث دونوں کی صراحتوں کو تسلیم نہیں کرتے۔ [2] اس سے بالکل واضح ہے کہ عرض علی النار کا معاملہ،جو صبح و شام ہوتا ہے، قیامت سے پہلے کا ہے اور قیامت سے پہلے برزخ اور قبر ہی کی زندگی ہے۔ قیامت والے دن ان کو قبر سے نکال کر سخت ترین عذاب یعنی جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ آل فرعون سےمراد فرعون، اس کی قوم اور اس کےسارے پیروکار ہیں۔ یہ کہناکہ ہمیں تو قبر میں مردہ آرام سے پڑا نظر آتا ہے، اسے اگر عذاب ہو تو اس طرح نظر نہ آئے لغو ہے کیونکہ عذاب کے لیے یہ ضروری نہیں کہ ہمیں نظر بھی آئے۔ اللہ تعالیٰ ہرطرح عذاب دینےپر قادر ہے۔ کیا ہم دیکھتے نہیں کہ خواب میں ایک شخص نہایت المناک مناظر دیکھ کر سخت کرب و اذیت محسوس کرتا ہے لیکن دیکھنے والوں کوذرا محسوس نہیں ہوتا کہ یہ خوابیدہ شخص شدید تکلیف سے دوچار ہے۔ اس کے باوجود عذاب قبرکا انکار، محض ہٹ دھرمی اور بے جا تحکم ہے۔ بلکہ بیداری میں بھی انسان کو جو تکالیف ہوتی ہیں وہ خود ظاہر نہیں ہوتیں بلکہ صرف انسان کا تڑپنا اور تلملانا ظاہرہوتا ہے۔ اور وہ بھی اس صورت میں جبکہ وہ تڑپے اور تلملائے۔
Kepada mereka diperlihatkan neraka, pada pagi dan petang, dan pada hari terjadinya Kiamat. (Lalu kepada malaikat diperintahkan), "Masukkanlah Fir'aun dan kaumnya ke dalam azab yang sangat keras!"
Onlar sabah akşam o ateşe sunulurlar. Kıyametin kopacağı gün de: Firavun ailesini azabın en çetinine sokun (denilecek)!
Ils sont exposés au feu matin et soir[12] et lorsque l’Heure sonnera, il sera ordonné : « Introduisez Pharaon et les siens dans le plus terrible des tourments[13]. »
[12] Dans leurs tombes, expliquent nombre d’exégètes pour qui ce verset est une preuve de l’existence du châtiment de la tombe. [13] En Enfer.
46. [En la tumba] el fuego los alcanzará por la mañana y por la tarde[1], pero el día que llegue la Hora [del Juicio, se les ordenará a los ángeles:] “Arreen al Faraón y sus seguidores al castigo más severo”.
[1] Este versículo es uno de los que evidencia un castigo temporal entre el momento de la muerte y el Día del Juicio Final, el cual es conocido como Adab al-Qabr o “el tormento de la tumba”.
همان آتشی كه [در قبرهایشان] بامداد و شامگاه بر آن عرضه مىشوند؛ و روزی که قیامت برپا گردد، [فرمان میرسد که:] «فرعونیان را در سختترین عذاب درآورید».
das (Höllen)feuer, dem sie morgens und abends vorgeführt werden. Und am Tag, da sich die Stunde erhebt (, wird es heißen): Laßt die Leute Fir’auns in die strengste Strafe eingehen.
他们朝夕受火刑。复活时来临之日,或者将说:“你们让法老的宗族进去受最严厉的刑罚吧!”