القرآن الكريم ابحث في القرآن بكلمة أو برقم مثل ٢:٢٨٢Ctrl K

إِذْ جَعَلَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ فِى قُلُوبِهِمُ ٱلْحَمِيَّةَ حَمِيَّةَ ٱلْجَٰهِلِيَّةِ فَأَنزَلَ ٱللَّهُ سَكِينَتَهُۥ عَلَىٰ رَسُولِهِۦ وَعَلَى ٱلْمُؤْمِنِينَ وَأَلْزَمَهُمْ كَلِمَةَ ٱلتَّقْوَىٰ وَكَانُوٓا۟ أَحَقَّ بِهَا وَأَهْلَهَا ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيمًۭا ٢٦

سورة الفتح، الآية ٢٦مدنية
في سورتها

الترجمات

English: Noor International Center1.1.2، QuranEnc

When those who disbelieved had put into their hearts chauvinism - the chauvinism of the time of ignorance. But Allāh sent down His tranquility upon His Messenger and upon the believers and imposed upon them the word of righteousness, and they were more deserving of it and worthy of it. And ever is Allāh, of all things, Knowing.

Portuguese: Helmi Nasr1.4.1، QuranEnc

Quando os que renegaram a Fé fizeram existir,em seus corações, o ardor, o ardor da ignorância,[1] então, Allah fez descer Sua serenidade sobre Seu Mensageiro e sobre os crentes,e impôs-lhes a Palavra da piedade;[2] e dela eram mais merecedores e a ela mais achegados. E Allah, de todas as cousas, é Onisciente.

[1] Ou seja, o ardor dos Tempos da Ignorância: a tola obstinação dos idólatras, em proibirem o Profeta e os moslimes de entrarem em Makkah. Com respeito aos Tempos da Ignorância, vide III 154 n2, V 50 n1 e XXXIII 33 n2. [2] A palavra da Piedade ou a frase da unicidade divina: "Não há deus senão Allah, e Muhammad é Seu Profeta."

Japanese: Saeed Sato1.0.13، QuranEnc

不信仰に陥った者*たちが、その心の中に尊大さ、ジャーヒリーヤ*の尊大さを宿した時のこと[1](を思い起こさせよ。)にも関わらず、アッラー*はかれの静寂を、その使徒*と信仰者たちの上に下された。そして彼らに敬虔さ*の言葉[2]を命じられたのであり、彼らはそれに(シルク*の徒)より相応しく、その適任者だったのである。アッラー*はもとより、全てのことをご存知のお方。

[1] 彼らはフダイビーヤの和議*の際、預言者*が協定文書に「慈悲あまねく*慈愛深い*アッラー*の御名において」「アッラー*の使徒*ムハンマド*」と書くことを認めず、削除させた(ムヤッサル514頁参照)。 [2] 「敬虔さ*の言葉」とは、大半の解釈学者によれば、「アッラー*以外に崇拝*(すうはい)すべき、いかなるものもなし」という言葉(アル=バガウィー4:243参照)。

Urdu: Muhammad Junagarhi1.1.3، QuranEnc

جب کہ[1] ان کافروں نے اپنے دلوں میں حمیت کو جگہ دی اور حمیت بھی جاہلیت کی، سو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر اور مومنین پر اپنی طرف سے تسکین نازل فرمائی[2] اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو تقوے کی بات پر جمائے رکھا[3] اور وه اس کے اہل اور زیاده مستحق تھے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جانتا ہے.

[1] إِذْ کا ظرف یا تو لَعَذَّبْنَا سے یا وَاذْكُرُوا محذوف ہے۔ یعنی اس وقت کو یاد کرو، جب کہ ان کافروں نے۔۔۔ [2] کفار کی اس حمیت جاہلیہ (عار اور غرور) سے مراد اہل مکہ کا مسلمانوں کو مکے میں داخل ہونے سے روکنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے ہمارے بیٹوں اور باپوں کو قتل کیا ہے۔ لات وعزیٰ کی قسم ہم انہیں کبھی داخل نہیں ہونے دیں گے یعنی انہوں نےاسے اپنی عزت اور وقار کا مسئلہ بنا لیا، اسی کو حمیت جاہلیہ کہا گیا ہے، کیونکہ خانہ کعبہ میں عبادت کے لئے آنے سے روکنے کاکﺴی کو حق نہیں تھا۔ قریش مکہ کے اس معاندانہ رویے کے جواب میں خطرہ تھا کہ مسلمانوں کے جذبات میں بھی شدت آجاتی اور وہ بھی اسے اپنےوقار کا مسئلہ بنا کر مکے جانے پر اصرار کرتے، جس سے دونوں کے درمیان لڑائی چھڑ جاتی، اور یہ لڑائی مسلمانوں کے لئے سخت خطرناک رہتی (جیسا کہ پہلےاشارہ کیا جا چکا ہے) اس لئے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کےدلوں میں سکینت نازل فرما دی یعنی انہیں صبر وتحمل کی توفیق دے دی اور وہ پیغمبر(صلى الله عليه وسلم) کے ارشاد کے مطابق حدیبیہ میں ہی ٹھہرے رہےجوش اور جذبے میں آکر مکے جانے کی کوشش نہیں کی۔ بعض کہتے ہیں کہ اس حمیت جاہلیہ سے مراد قریش مکہ کا وہ رویہ ہے جو صلح کے لئے معاہدے کے وقت انہوں نے اختیار کیا۔ یہ رویہ اور معاہدہ دونوں مسلمانوں کے لئے بظاہر ناقابل برداشت تھا۔ لیکن انجام کے اعتبار سےچونکہ اس میں اسلام اور مسلمانوں کا بہترین مفاد تھا، اس لئے اللہ تعالیٰ نےمسلمانوں کو نہایت ناگواری اور گرانی کے باوجود اسے قبول کرنے کا حوصلہ عطا فرما دیا۔ اس کی مختصر تفصیل اس طرح ہے۔ کہ جب رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) نےقریش مکہ کے بھیجےہوئے نمائندوں کی یہ بات تسلیم کر لی کہ اس سال مسلمان عمرے کے لئے مکہ نہیں جائیں گے اور یہیں سے واپس ہو جائیں گے تو پھر آپ ﹲ نے حضرت علی (رضي الله عنه) کو معاہدہ لکھنے کا حکم دیا۔ انہوں نے آپ (صلى الله عليه وسلم) کے حکم سے، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ لکھی، انہوں نے اس پر اعتراض کر دیا کہ رحمٰن، رحیم کو ہم نہیں جانتے۔ ہمارے ہاں جو لفظ استعمال ہوتا ہے، اس کے ساتھ یعنی بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ (اے اللہ ! تیرے نام سے) لکھیں چنانچہ آپ(صلى الله عليه وسلم) نے اسی طرح لکھوایا۔ پھر آپ(صلى الله عليه وسلم) نےلکھوایا یہ وہ دستاویز ہے جس پر محمد رسول اللہ ((صلى الله عليه وسلم)) نے اہل مکہ سے مصالحت کی ہے قریش کے نمائندوں نے کہا، اختلاف کی بنیاد تو آپ (صلى الله عليه وسلم)کی رسالت ہی ہے، اگر ہم آپ (صلى الله عليه وسلم)کو رسول اللہ مان لیں تو اس کے بعد جھگڑا ہی کیا رہ جاتا ہے؟ پھر ہمیں آپ(صلى الله عليه وسلم) سے لڑنے کی اور بیت اللہ میں جانے سے روکنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ آپ ﹲ یہاں محمد رسول اللہ کی جگہ محمد بن عبداللہ لکھیں۔ چنانچہ آپ نے حضرت علی (رضي الله عنه) کو ایسا ہی لکھنے کا حکم دیا۔ (یہ مسلمانوں کے لئے نہایت اشتعال انگیز صورت حال تھی، اگر اللہ تعالیٰ مسلمانوں پر سکینت نازل نہ فرماتا تو وہ کبھی سے برداشت نہ کرتے) حضرت علی (رضي الله عنه) نے اپنےہاتھ سے محمد رسول اللہ کے الفاظ مٹانے اور کاٹنے سے انکار کر دیا، تو نبی کریم ﹲ نے کہا کہ یہ لفظ کہاں ہے؟ بتانے کے بعد خود آپ ﹲ اسے اپنے دست مبارک سے مٹا دیا اور اس کی جگہ محمد بن عبداللہ تحریر کرنے کو فرمایا۔ اس کے بعد اس معاہدے یا صلح نامے میں تین باتیں لکھیں گئیں۔ 1۔ اہل مکہ میں سےجو مسلمان ہو کر آپ کےپاس آئے گا، اسے واپس کر دیا جائے گا۔ 2 - جو مسلمان اہل مکہ سے جا ملے گا، وہ اس کو واپس کرنے کا پابند نہیں ہوں گے۔ 3 - مسلمان آئندہ سال مکے میں ائیں گے اور یہاں تین دن قیام کر سکیں گے، تاہم انہیں ہتھیار ساتھ لانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ (صحيح مسلم، كتاب الجهاد، باب صلح الحديبية في الحديبية) اور اس کے ساتھ دو باتیں اور لکھی گئیں۔ 1۔ اس سال لڑائی موقوف رہے گی۔ 2 - قبائل میں سے جو چاہے مسلمانوں کے ساتھ اور جو چاہے قریش کے ساتھ ہو جائے۔ [3] اس سے مراد کلمۂ توحید ورسالت لا إِلَهَ إِلا اللهَ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ ہے، جس سے حدیبیہ والے دن مشرکین نے انکار کیا (ابن کثیر) یا وہ صبر ووقار ہےجس کا مظاہرہ انہوں نے حدیبیہ میں کیا یا وہ وفائے عہد اور اس پر ثبات ہے جو تقویٰ کا نتیجہ ہے۔ (فتح القدیر)

Indonesian: Ministry of Religious Affairs1.0.1، QuranEnc

Ketika orang-orang yang kafir menanamkan kesombongan dalam hati mereka (yaitu) kesombongan jahiliah, maka Allah menurunkan ketenangan kepada Rasul-Nya, dan kepada orang-orang mukmin, dan (Allah) mewajibkan kepada mereka tetap taat menjalankan kalimat takwa,[808] dan mereka lebih berhak dengan itu dan patut memilikinya. Dan Allah Maha Mengetahui segala sesuatu.

[808] “Kalimat takwa” ialah kalimat tauhid dan memurnikan ketaatan kepada Allah.

Turkish: Rowwad Translation Center1.0.4، QuranEnc

Zira kâfirler, kalplerine taassubu/bağnazlığı, (hem de) cahiliye bağnazlığını yerleştirmişlerdi. Allah da Rasûlüne ve Müminlere sükûnet ve güvenini indirdi, onları takva sözüne (kelime-i tevhide) bağlı kıldı. Zaten onlar buna layık ve ehil kimselerdi. Allah her şeyi bilendir.

French: Rachid Maach1.0.3، QuranEnc

Les mécréants affichèrent alors une fierté digne de l’époque païenne[12], tandis qu’Allah suscitait quiétude et sérénité dans le cœur de Son Messager et des croyants[13], les obligeant à des paroles de piété qu’ils étaient plus en droit de prononcer et dont ils étaient plus dignes. Allah a une parfaite connaissance de toute chose.

[12] Refusant de laisser les musulmans accomplir le petit pèlerinage. [13] Qui purent donc contenir leur colère et accepter les termes du traité qui les obligeaient à rebrousser chemin sans accomplir le petit pèlerinage cette année-là.

Spanish: Isa Garcia1.0.2، QuranEnc

26. Cuando los que se negaron a creer cerraron sus corazones con una arrogancia[1] similar a la de la época de la ignorancia [previa al Islam], Dios hizo descender el sosiego sobre Su Mensajero y sobre los creyentes, y los hizo mantenerse leales al compromiso[2], pues eran los más merecedores y los más dignos de él. Dios lo sabe todo.

[1] Impidiéndoles a los creyentes ingresar a La Meca. [2] Referencia al compromiso de fe, rectitud y justicia que encierra el testimonio de fe “La ilaha ila Al-lah”.

Persian: Rowwad Translation Center1.1.3، QuranEnc

[به یاد آور] آنگاه كه کافران [مکه در حدیبیه] قلباً دستخوش تعصب، [آن هم] تعصب جاهلیت شده بودند، الله آرامش [خاطرى از جانب] خویش بر پیامبرش و بر مؤمنان فروفرستاد و آنان را به اصل [و اساس توحید و] پرهیزگاری [= لا اله الا الله] پایبند ساخت؛ چرا كه [نسبت به مشرکان،] به آن سزاوارتر و شایسته‌تر بودند؛ و الله به هر چیزى داناست.

German: Frank Bubenheim1.1.4، QuranEnc

Als diejenigen, die ungläubig waren, in ihren Herzen die Hitzigkeit entfachten, die Hitzigkeit der Unwissenheit -, da sandte Allah Seine innere Ruhe auf Seinen Gesandten und auf die Gläubigen herab und ließ sie an dem Wort der Gottesfurcht festhalten. Sie hatten ja ein größeres Anrecht darauf und waren dessen würdig. Und Allah weiß über alles Bescheid.

Chinese: Muhammad Makeen1.0.2، QuranEnc

当不信道者心怀愤怒——蒙昧时代的愤怒——的时候,安拉曾降镇静给使者和信士们,使他们坚持敬畏辞。他们是更宜于敬畏辞的,是应受敬畏辞的。安拉对于万事是全知的。