إِذْ قَالَ ٱلْحَوَارِيُّونَ يَٰعِيسَى ٱبْنَ مَرْيَمَ هَلْ يَسْتَطِيعُ رَبُّكَ أَن يُنَزِّلَ عَلَيْنَا مَآئِدَةًۭ مِّنَ ٱلسَّمَآءِ ۖ قَالَ ٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ ١١٢
الترجمات
[And remember] when the disciples said, "O Jesus, Son of Mary, can your Lord[289] send down to us a table [spread with food] from the heaven?" [Jesus] said, "Fear Allāh, if you should be believers."
[289] i.e., will Allāh consent to. (His ability is undoubted.)
Lembra-lhes de quando os discípulos disseram: "Ó Jesus, filho de Maria! Teu Senhor poderá fazer-nos descer do céu uma mesa provida?" Ele disse: "Temei a Allah, se sois crentes"
(イーサーの)弟子たちが、(こう)言った時のこと(を思い起こすがよい)。「マルヤム*の子イーサー*よ、あなたの主*は、天から私たちに食卓を下すことが出来ますか?」彼(イーサー*)は言った。「アッラー*を畏れ*よ。もし、あなた方が信仰者であるならば」。
وه وقت یاد کے قابل ہے جب کہ حواریوں نے عرض کیا کہ اے عیسیٰ بن مریم! کیا آپ کا رب ایسا کرسکتا ہے کہ ہم پر آسمان سے ایک خوان ﴿دسترخوان﴾ نازل فرما دے؟[1] آپ نے فرمایا کہ اللہ سے ڈرو اگر تم ایمان والے ہو۔[2]
[1] ”مَائِدَةً“ ایسے برتن (سینی، پلیٹ یا ٹرے وغیرہ) کو کہتے ہیں جس میں کھانا ہو۔ اسی لئے دسترخوان بھی اس کا ترجمہ کرلیا جاتا ہے کیونکہ اس پر بھی کھانا چنا ہوتا ہے۔ سورت کا نام بھی اسی مناسبت سے ہے کہ اس میں اس کا ذکر ہے حَوَارِيِّينَ نے مزید اطمینان قلب کے لئے یہ مطالبہ کیا جس طرح حضرت ابراہیم (عليه السلام) نے احیائے موتی کے مشاہدے کی خواہش ظاہر فرمائی تھی۔ [2] یعنی یہ سوال مت کرو، ممکن ہے یہ تمہاری آزمائش کا سبب بن جائے کیونکہ حسب طلب معجزہ دکھائے جانے کے بعد اس قوم کی طرف سے ایمان میں کمزوری عذاب کا باعث بن سکتی ہے۔ اس لئے حضرت عیسیٰ (عليه السلام) نے انہیں اس مطالبے سے روکا اور انہیں اللہ سے ڈرایا۔ اس سے معلوم ہوا کہ جن لوگوں نے وحی کے لفظ سے یہ استدلال کیا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ اور حضرت مریم نَبِيَّةٌ تھیں، اس لئے کہ ان پر بھی اللہ کی طرف سے وحی آئی تھی، صحیح نہیں۔ اس لئے کہ یہ وحی، وحی الہام ہی تھی، جیسے یہاں «أَوْحَيْتُ إِلَى الْحَوَارِيِّينَ» میں ہے یہ وحی رسالت نہیں ہے۔
(Ingatlah), ketika pengikut-pengikut Isa yang setia berkata, "Wahai Isa putra Maryam! Bersediakah Tuhanmu menurunkan hidangan dari langit kepada kami?" Isa menjawab, "Bertakwalah kepada Allah jika kamu orang-orang beriman."
Hani Havâriler: “Ey Meryem oğlu İsâ! Rabbin gökten bize bir sofra indirebilir mi?” demişlerdi. O: “Eğer iman edenlerdenseniz, Allah’tan korkun!” demişti.
Les apôtres dirent un jour : « Jésus, fils de Marie ! Ton Seigneur peut-Il faire descendre sur nous un repas du ciel ? » Il répondit : « Craignez Allah, si vous croyez réellement en Lui ! »
112. Cuando los discípulos de Jesús dijeron: “¡Oh, Jesús hijo de María! ¿Tu Señor podría hacernos descender del cielo una mesa servida?” Dijo: “Tengan temor de Dios, si es que son verdaderos creyentes”.
و [یاد کن از] آنگاه که حواریون گفتند: «ای عیسی پسر مریم، آیا پروردگارت میتواند سفرهای [پر از غذا] از آسمان بر ما نازل کند؟». [عیسی در پاسخ] گفت: «اگر مؤمن هستید، از الله پروا کنید».
Als die Jünger sagten: O ’Isa, Sohn Maryams, kann dein Herr zu uns einen Tisch (mit Speisen) vom Himmel herabsenden? Er sagte: Fürchtet Allah, wenn ihr gläubig seid!
当时,众门徒说:“麦尔彦之子尔撒啊,你的主能从天上降筵席给我们吗?”他说:“你们当敬畏安拉,如果你们是信士的话。”