يَٰقَوْمِ ٱدْخُلُوا۟ ٱلْأَرْضَ ٱلْمُقَدَّسَةَ ٱلَّتِى كَتَبَ ٱللَّهُ لَكُمْ وَلَا تَرْتَدُّوا۟ عَلَىٰٓ أَدْبَارِكُمْ فَتَنقَلِبُوا۟ خَٰسِرِينَ ٢١
الترجمات
O my people, enter the blessed land [i.e., Palestine] which Allāh has assigned to you and do not turn back [from fighting in Allāh's cause] and [thus] become losers."
"Ó meu povo! Entrai na terra sagrada, que Allah vos prescreveu, e não volteis atrás: tornar-vos-íeis, pois, perdedores."
我が民よ、アッラー*があなた方に約束された聖なる地[1]に入るのだ。そして背を向けて退散するのではない。そうすればあなた方は、損失者として帰って来ることになろう」。
[1] この「聖なる地」とは、エルサレムとその周辺のことと言われる(ムヤッサル111頁参照)。
اے میری قوم والو! اس مقدس زمین[1] میں داخل ہو جاؤ جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے نام لکھ دی ہے[2] اور اپنی پشت کے بل روگردانی نہ کرو[3] کہ پھر نقصان میں جا پڑو۔
[1] بنو اسرائیل کے مورث اعلیٰ حضرت یعقوب (عليه السلام) کا مسکن بیت المقدس تھا۔ لیکن حضرت یوسف (عليه السلام) کے امارت مصر کے زمانے میں یہ لوگ مصر جا کر آباد ہوگئے تھے اور پھر تب سے اس وقت تک مصر ہی میں رہے، جب تک کہ موسیٰ (عليه السلام) انہیں راتوں رات (فرعون سے چھپ کر) مصر سے نکال نہیں لے گئے۔ اس وقت بیت المقدس پر عمالقہ کی حکمرانی تھی جو ایک بہادر قوم تھی۔ جب حضرت موسیٰ (عليه السلام) نے پھر بیت المقدس جا کر آباد ہونے کا عزم کیا تو اس کے لئے وہاں قابض عمالقہ سے جہاد ضروری تھا۔ چنانچہ حضرت موسی (عليه السلام) نے اپنی قوم کو اس ارض مقدسہ میں داخل ہونے کا حکم دیا اور نصرت الٰہی کی بشارت بھی سنائی۔ لیکن اس کے باوجود بنواسرائیل عمالقہ سے لڑنے پر آمادہ نہیں ہوئے۔ (ابن کثیر ) [2] اس سے مراد وہی فتح و نصرت ہے جس کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے جہاد کی صورت میں ان سے کر رکھا تھا۔ [3] یعنی جہاد سے اعراض مت کرو۔
Wahai kaumku! Masuklah ke tanah suci (Palestina) yang telah ditentukan Allah bagimu,[271] dan janganlah kamu berbalik ke belakang (karena takut kepada musuh), nanti kamu menjadi orang yang rugi.
[271] Tanah Palestina itu ditentukan Allah bagi kaum Yahudi selama mereka beriman dan taat kepada Allah.
Ey kavmim! Allah’ın size yazdığı Arz-ı Mukaddes'e /kutsal yere girin. Ardınıza dönmeyin! Yoksa hüsrana uğrayanlar olursunuz, demişti.
Mon peuple ! Pénétrez dans cette terre sainte[21] qu’Allah vous a promise. Ne tournez pas le dos à l’ennemi, courant ainsi à votre perte. »
[21] La terre de Canaan.
21. ¡Oh, pueblo mío! Entren en la Tierra Santa que Dios destinó para ustedes y no renieguen [de su fe], porque se convertirían en perdedores”.
ای قوم من، به سرزمین مقدسی که الله برایتان مقرر نموده است وارد شوید و به عقب بازنگردید [و از دینتان دست نکشید] که زیانکار خواهید شد».
O mein Volk, tretet in das geheiligte Land ein, das Allah für euch bestimmt hat, und kehrt nicht den Rücken, denn dann werdet ihr als Verlierer zurückkehren.
我的宗族啊!你们当进安拉所为你们注定的圣地,你们不可败北;否则,你们要变成亏折的人。”