قَالَ فَإِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ عَلَيْهِمْ ۛ أَرْبَعِينَ سَنَةًۭ ۛ يَتِيهُونَ فِى ٱلْأَرْضِ ۚ فَلَا تَأْسَ عَلَى ٱلْقَوْمِ ٱلْفَٰسِقِينَ ٢٦
الترجمات
[Allāh] said, "Then indeed, it is forbidden to them for forty years [in which] they will wander throughout the land. So do not grieve over the defiantly disobedient people."
Allah disse: "Então, por certo, ela lhes será proibida por quarenta anos, errando eles, na terra. Então, não te aflijas com o povo perverso"
かれ(アッラー*)は、仰せられた。「では、実にそこは彼らに四十年間禁じられ、彼らは(その間、)地を彷徨うことになろう。ならば、放逸な民のために悲しむのではない」。
ارشاد ہوا کہ اب زمین ان پر چالیس سال تک حرام کر دی گئی ہے، یہ خانہ بدوش ادھر ادھر سرگرداں پھرتے رہیں گے[1] اس لئے تم ان فاسقوں کے بارے میں غمگین نہ ہونا۔[2]
[1] یہ میدان تیہ کہلاتا ہے، جس میں چالیس سال یہ قوم اپنی نافرمانی اور جہاد سے اعراض کی وجہ سے سرگرداں رہی۔ اس میدان میں اس کے باوجود ان پر من وسلویٰ کا نزول ہوا، جس سے اکتا کر انہوں نے اپنے پیغمبر سے کہا کہ روز روز ایک ہی کھانا کھا کر ہمارا جی بھر گیا ہے۔ اپنے رب سے دعا کر کہ وہ مختلف قسم کی سبزیاں اور دالیں ہمارے لئے پیدا فرمائے۔ یہیں ان پر بادلوں کا سایہ ہوا، پتھر پر حضرت موسیٰ (عليه السلام) کی لاٹھی مارنے سے بارہ قبیلوں کے لئے بارہ چشمے جاری ہوئے، اور اس طرح کے دیگر انعامات ہوتے رہے۔ چالیس سال بعد پھر ایسے حالات پیدا کئے گئے کہ یہ بیت المقدس کے اندر داخل ہوئے۔ [2] پیغمبر، دعوت وتبلیغ کے باوجود جب دیکھتا ہے کہ میری قوم سیدھا راستہ اختیار کرنے کے لئے تیار نہیں، جس میں اس کے لئے دین ودنیا کی سعادتیں اور بھلائیاں ہیں تو فطری طور پر اس کو سخت افسوس اور دلی قلق ہوتا ہے۔ یہی نبی (صلى الله عليه وسلم) کا بھی حال ہوتا تھا، جس کا ذکر قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے متعدد جگہ فرمایا ہے۔ لیکن آیت میں حضرت موسیٰ (عليه السلام) سے خطاب کرکے کہا جا رہا ہے کہ جب تو نے فریضۂ تبلیغ ادا کردیا اور پیغام الٰہی لوگوں تک پہنچا دیا اور اپنی قوم کو ایک عظیم الشان کامیابی کے نقطۂ آغاز پر لاکھڑا کیا۔ لیکن اب وہ اپنی دون ہمتی اور بددماغی کے سبب تیری بات ماننے کو تیار نہیں تو، تو اپنے فرض سے سبک دوش ہو گیا اور اب تجھے ان کے بارے میں غمگین ہونے کی ضرورت نہیں۔ ایسے موقع پر غمگینی تو ایک فطری چیز ہے۔ لیکن مراد اس تسلی سے یہ ہے کہ تبلیغ ودعوت کے بعد اب تم عند اللہ بری الذمہ ہو۔
(Allah) berfirman, "(Jika demikian), maka (negeri) itu terlarang buat mereka selama empat puluh tahun, (selama itu) mereka akan mengembara kebingungan di bumi. Maka janganlah engkau (Musa) bersedih hati (memikirkan nasib) orang-orang yang fasik itu."
Allah da: Orası onlara kırk yıl haram kılındı. Yeryüzünde şaşkın şaşkın dolaşacaklar. Sen, fasık toplum için tasalanma! dedi.
Allah dit : « Ce pays leur sera interdit quarante années durant lesquelles ils seront condamnés à errer sur terre. Ne t’afflige donc pas pour ce peuple désobéissant. »
26. Dijo [Dios a Moisés]: “Les estará prohibida [la entrada en Tierra Santa]. Vagarán por la tierra durante cuarenta años. No te aflijas por la gente perversa”.
[الله] فرمود: «در این صورت، [ورود به] آن [سرزمین مقدس] تا چهل سال بر آنان حرام شده است؛ [و پیوسته] در زمین سرگردان خواهند بود؛ پس بر این گروهِ نافرمان افسوس مخور».
Er (Allah) sagte: Gewiß, so soll es ihnen denn für vierzig Jahre verwehrt sein, (während derer) sie auf der Erde umherirren. So sei nicht betrübt über das Volk der Frevler!
安拉说:“在四十年内,他们不得进入圣地,他们要漂泊在旷野;故你不要哀悼犯罪的民众。”