وَإِذَا نَادَيْتُمْ إِلَى ٱلصَّلَوٰةِ ٱتَّخَذُوهَا هُزُوًۭا وَلَعِبًۭا ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌۭ لَّا يَعْقِلُونَ ٥٨
الترجمات
And when you call to prayer, they take it in ridicule and amusement. That is because they are a people who do not use reason.
E, quando chamais à oração, tomam-na por objeto de zombaria e diversão. Isto, porque são um povo que não razoa.
また(信仰者たちよ)、あなた方が礼拝へと呼びかければ、彼らはそれを嘲笑と遊興の的とした。それというのも彼らは、分別しない民であるからなのだ。
اور جب تم نماز کے لئے پکارتے ہو تو وہ اسے ہنسی کھیل ٹھرا لیتے ہیں[1] ۔ یہ اس واسطے کہ بےعقل ہیں۔
[1] حدیث میں آتا ہے کہ جب شیطان اذان کی آواز سنتا ہے تو گوز مارتا ہوا بھاگ جاتا ہے، جب اذان ختم ہو جاتی ہے تو پھر آ جاتا ہے، تکبیر کے وقت پھر پیٹھ پھیر کر چل دیتا ہے، جب تکبیر ختم ہو جاتی ہے تو پھر آ کر نمازیوں کے دلوں میں وسوسے پیدا کرتا ہے۔ الحدیث (صحيح بخاري- كتاب الأذان، صحيح مسلم، كتاب الصلاة) شیطان ہی کی طرح شیطان کے پیروکاروں کو اذان کی آواز اچھی نہیں لگتی، اس لئے وہ اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی قرآن کی طرح دین کا ماخذ اور اسی طرح حجت ہے۔ کیونکہ قرآن نے نماز کے لئے ”ندا“ کا تو ذکر کیا ہے لیکن یہ ”ندا“ کس طرح دی جائے گی؟ اس کے الفاظ کیا ہوں گے؟ یہ قرآن کریم میں کہیں نہیں ہے۔ یہ چیزیں حدیث سے ثابت ہیں، جو اس کی حجیت اور ماخذ دین ہونے پر دلیل ہیں۔ حجیت حدیث کا مطلب: حدیث کے ماخذ دین اور حجت شرعیہ ہونے کا مطلب ہے، کہ جس طرح قرآن کریم کی نص سے ثابت ہونے والے احکام وفرائض پر عمل کرنا ضروری اور ان کا انکار کفر ہے۔ اسی طرح حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہونے والے احکام کا ماننا بھی فرض، ان پر عمل کرنا ضروری اور ان کا انکار کفر ہے۔ تاہم حدیث کا صحیح مرفوع اور متصل ہونا ضروری ہے۔ صحیح حدیث چاہے متواتر ہو یا آحاد، قولی ہو، فعلی ہو یا تقریری۔ یہ سب قابل عمل ہیں۔ حدیث کا خبر واحد کی بنیاد پر، یا قرآن سے زائد ہونے کی بنیاد پر یا ائمہ کے قیاس واجتہادات کی بنیاد پر یا راوی کی عدم فقاہت کے دعویٰ کی بنیاد پر یا عقلی استحالے کی بنیاد پر یا اسی قسم کے دیگر دعوؤں کی بنیاد پر، رد کرنا صحیح نہیں ہے۔ یہ سب حدیث سے اعراض کی مختلف صورتیں ہیں۔
Dan apabila kamu menyeru (mereka) untuk (melaksanakan) salat, mereka menjadikannya bahan ejekan dan permainan. Yang demikian itu adalah karena mereka orang-orang yang tidak mengerti.
Namaza çağırdığınızda, onu alaya ve eğlenceye alırlar. Bu, onların akletmeyen bir toplum olmasındandır.
Lorsque vous lancez l’appel à la prière, c’est pour eux l’occasion de la tourner en dérision et de se moquer de vous. Ce sont en effet des êtres privés de tout entendement.
58. Cuando ustedes convocan a la oración, ellos se burlan y la toman a broma, porque son gente que no razona.
و [این افراد کسانی هستند که] وقتی [توسط اذان، مردم را] به نماز مىخوانید، آن را به مسخره و بازى مىگیرند؛ زیرا آنان گروهی هستند كه نمىاندیشند.
Wenn ihr zum Gebet ruft, machen sie sich darüber lustig und nehmen es zum Gegenstand des Spiels. Dies, weil sie Leute sind, die nicht begreifen.
当你们召人来礼拜的时候,他们以你们的拜功为笑柄,为嬉戏。这是因为他们是不了解的民众。