وَلَقَدْ خَلَقْنَا ٱلْإِنسَٰنَ وَنَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهِۦ نَفْسُهُۥ ۖ وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ ٱلْوَرِيدِ ١٦
الترجمات
And We have already created man and know what his soul whispers to him, and We are closer[1528] to him than [his] jugular vein.
[1528] In absolute knowledge of everything about him. "We" has also been interpreted to mean the angels who are mentioned in the following verse.
E, com efeito, criamos o ser humano e sabemos o que a alma lhe sussurra. E Nós estamos mais Próximos[1] dele que a veia jugular,
[1] Estar mais próximo: ter conhecimento intrínseco e total de tudo quanto o homem faz e pensa.
われら*は確かに、人間を創った。われら*は彼の心が自らに囁くものを知っており、頸静脈の管よりも彼に近いのである。
ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے اور اس کے دل میں جو خیاﻻت اٹھتے ہیں ان سے ہم واقف ہیں[1] اور ہم اس کی رگ جان سے بھی زیاده اس سے قریب ہیں.[2]
[1] یعنی انسان جو کچھ چھپاتا اور دل میں مستور رکھتا ہے، وہ سب ہم جانتے ہیں۔ وسوسہ، دل میں گزرنے والےخیالات کو کہا جاتا ہے جس کا علم اس انسان کے علاوہ کسی کو نہیں ہوتا۔ لیکن اللہ ان وسوسوں کو بھی جانتا ہے۔ اسی لئے حدیث میں آتا ہے ”اللہ تعالیٰ نے میری امت سےدل میں گزرنے والے خیالات کو معاف فرما دیا ہے یعنی ان پرگرفت نہیں فرمائے گا۔ جب تک وہ زبان سے ان کا اظہار یا ان پر عمل نہ کرے“۔ (البخاري كتاب الإيمان باب إذا حنث ناسيا في الأيمان مسلم، باب تجاوز الله عن حديث النفس والخواطر بالقلب إذا لم تستقر)۔ [2] وَرِيدٌ شہ رگ یا رگ جان کو کہا جاتا ہے جس کے کٹنے سے موت واقع ہو جاتی ہے۔ یہ رگ حلق کے ایک کنارے سے انسان کے کندھے تک ہوتی ہے۔ اس قرب سے مراد قرب علمی ہے یعنی علم کے لحاظ سے ہم انسان کے بالکل بلکہ اتنے قریب ہیں کہ اس کے نفس کی باتوں کو بھی جانتے ہیں۔ امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ نَحْنُ سے مراد فرشتے ہیں۔ یعنی ہمارے فرشتے انسان کی رگ جان سے بھی قریب ہیں۔ کیونکہ انسان کے دائیں بائیں دو فرشتے ہر وقت موجود رہتے ہیں، وہ انسان کی ہر بات اور عمل کو نوٹ کرتے ہیں يَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّيَانِ کے معنی ہیں يَأْخُذَانِ وَيُثَبّتَانِ۔ امام شوکانی نے اس کا مطلب بیان کیا ہے کہ ہم انسان کےتمام احوال کو جانتے ہیں، بغیر اس کے کہ ہم ان فرشتوں کےمحتاج ہوں جن کو ہم نے انسان کے اعمال واقوال لکھنے کے لئے مقرر کیا ہے، یہ فرشتے تو ہم نے صرف اتمام حجت کے لئے مقرر کیے ہیں، دو فرشتوں سےمراد بعض کے نزدیک ایک نیکی اور دوسرا بدی لکھنےکے لئے۔ اور بعض کےنزدیک رات اور دن کے فرشتے مراد ہیں۔ رات کے دو فرشتے الگ اور دن کے دو فرشتے الگ (فتح القدیر)۔
Dan sungguh, Kami telah menciptakan manusia dan mengetahui apa yang dibisikkan oleh hatinya, dan Kami lebih dekat kepadanya daripada urat lehernya.
Şüphesiz insanı biz yarattık ve nefsinin ona ne vesveseler vermekte olduğunu da biliriz. Biz ona şahdamarından daha yakınız.
Ayant créé l’homme, Nous connaissons parfaitement les secrets de son âme. Nous sommes plus proche de lui que sa veine jugulaire,
16. Creé al ser humano y sé lo que su ego le susurra. Estoy más cerca de él que su propia vena yugular.
ما انسان را آفریدیم و از وسوسههاى ضمیرش آگاهیم؛ و از شاهرگ [وی] به او نزدیكتریم.
Wir haben ja den Menschen erschaffen und wissen, was (alles ihm) seine Seele einflüstert, und Wir sind ihm doch näher als seine Halsschlagader,
我确已创造人,我知道他心中的妄想;我比他的命脉还近于他。