لَّا تَجِدُ قَوْمًۭا يُؤْمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلْءَاخِرِ يُوَآدُّونَ مَنْ حَآدَّ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَلَوْ كَانُوٓا۟ ءَابَآءَهُمْ أَوْ أَبْنَآءَهُمْ أَوْ إِخْوَٰنَهُمْ أَوْ عَشِيرَتَهُمْ ۚ أُو۟لَٰٓئِكَ كَتَبَ فِى قُلُوبِهِمُ ٱلْإِيمَٰنَ وَأَيَّدَهُم بِرُوحٍۢ مِّنْهُ ۖ وَيُدْخِلُهُمْ جَنَّٰتٍۢ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَا ۚ رَضِىَ ٱللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا۟ عَنْهُ ۚ أُو۟لَٰٓئِكَ حِزْبُ ٱللَّهِ ۚ أَلَآ إِنَّ حِزْبَ ٱللَّهِ هُمُ ٱلْمُفْلِحُونَ ٢٢
الترجمات
You will not find a people who believe in Allāh and the Last Day having affection for those who oppose Allāh and His Messenger, even if they were their fathers or their sons or their brothers or their kindred. Those - He has decreed within their hearts faith and supported them with spirit[1648] from Him. And We will admit them to gardens beneath which rivers flow, wherein they abide eternally. Allāh is pleased with them, and they are pleased with Him - those are the party of Allāh. Unquestionably, the party of Allāh - they are the successful.
[1648] i.e., "that which gives life," explained as the guidance of the Qur’ān or victory over their opponents.
Tu não encontrarás um povo, que creia em Allah e no Derradeiro Dia, o qual tenha afeição para quem se oponha a Allah e a Seu Mensageiro, ainda que sejam seus pais ou seus filhos ou seus irmãos ou seus familiares.[1] A esses, Allah prescreveu a Fé nos corações, e amparou-os com Espírito vindo dEle, e fá-los-á entrar em Jardins, abaixo dos quais correm os rios; nesses, serão eternos. Allah Se agradará deles, e eles se agradarão dEle. Esses são o partido de Allah. Ora, por certo, os do partido de Allah, são eles os bem-aventurados.
[1] Ou seja, não é possível nem concebível, a quem quer que seja, que um crente seja amigo do inimigo de Deus.
(使徒*よ、)あなたはアッラー*と最後の日*を信仰する民が、アッラー*とその使徒*に歯向かう者を愛するのを、見出すことがない。たとえ彼らが、自分たちの父親、自分たちの兄弟、自分たちの近親だったとしても、である[1]。アッラー*は、それらの者たちの心の中に信仰を(確固たるものとして)書き定められ、かれからの魂[2]によって彼らをお支えになったのだ。そして、かれは(来世において)彼らを、その下から河川が流れる楽園にお入れになる。彼らはそこに、永遠に留まるのだ。アッラー*は、彼らをお喜びになり、彼らもかれに満足する。それらの者たちが、アッラー*の党派。本当にアッラー*の党派こそは、(現世と来世での)成功者なのではないか。
[1] 同様のアーヤ*として、イムラーン家章28とその訳注も参照。 [2] この「魂」の解釈には、「勝利」「信仰」「クルアーン*とその根拠」「アッラー*のご慈悲」「ジブリール*とその援助」といった諸説がある(アル=バガウィー5:50参照)。
اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھنے والوں کو آپ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والوں سے محبت رکھتے ہوئے ہرگز نہ پائیں گے[1] گو وه ان کے باپ یا ان کے بیٹے یا ان کے بھائی یا ان کے کنبہ (قبیلے) کے (عزیز) ہی کیوں نہ ہوں[2]۔ یہی لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے ایمان کو لکھ دیا ہے[3] اور جن کی تائید اپنی روح سے کی[4] ہے اور جنہیں ان جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں جہاں یہ ہمیشہ رہیں گے، اللہ ان سے راضی ہے اور یہ اللہ سے خوش ہیں[5] یہی لوگ اللہ کا گروہ ہیں،آگاه رہو! بے شک الله کا گروہ ہی کامیاب ہونے والا ہے .[6]
[1] اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے وضاحت فرمائی کہ جو ایمان باللہ اور ایمان بالآخرت میں کامل ہوتے ہیں، وہ اللہ اور رسول (صلى الله عليه وسلم) کے دشمنوں سے محبت اور تعلق خاطر نہیں رکھتے۔ گویا ایمان اور اللہ اور رسول (صلى الله عليه وسلم) کے دشمنوں کی محبت ونصرت ایک دل میں جمع نہیں ہوسکتے۔ یہ مضمون قرآن مجید میں اور بھی کئی مقامات پر بیان کیا گیا ہے ، مثلاً آل عمران: 28۔ سورۂ توبہ: 24 وغیرہ۔ [2] اس لیے کہ ان کا ایمان ان کو ان کی محبت سے روکتا ہے اور ایمان کی رعایت ، ابوت، بنوت ، اخوت اور خاندان وبرادری کی محبت ورعایت سے زیادہ اہم اور ضروری ہے۔ چنانچہ صحابہ کرام (رضي الله عنهم) نے عملاً ایسا کرکے دکھایا۔ ایک مسلمان صحابی نے اپنے باپ، اپنے بیٹے، اپنے بھائی اور اپنے چچا، ماموں اور دیگر رشتے داروں کو قتل کرنے سے گریز نہیں کیا، اگر وہ کفر کی حمایت میں کافروں کے ساتھ لڑنے والوں میں شامل ہوتے۔ سیر وتواریخ کی کتابوں میں یہ مثالیں درج ہیں۔ اسی ضمن میں جنگ بدر کا واقعہ بھی قابل ذکر ہے، جب اسیران بدر کے بارے میں مشورہ ہوا کہ ان کو فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے یا قتل کر دیا جائے۔ تو حضرت عمر (رضي الله عنه)، نے مشورہ دیا تھا کہ ان کافر قیدیوں میں سے ہر قیدی کو اس کے رشتے دار کے سپرد کر دیا جائے جسے وہ خود اپنے ہاتھوں سے قتل کرے۔ اور اللہ تعالیٰ کو حضرت عمر (رضي الله عنه)، کا یہی مشورہ پسند آیا تھا۔ (تفصیل کے لیے دیکھئے سورۂ انفال آیت 67 کا حاشیہ)۔ [3] یعنی راسخ اور مضبوط کر دیا ہے۔ [4] روح سے مراد اپنی نصرت خاص، یا نور ایمان ہے جو انہیں ان کی مذکورہ خوبی کی وجہ سے حاصل ہوا۔ [5] یعنی جب یہ اولین مسلمان، صحابہ کرام (رضي الله عنهم) ، ایمان کی بنیاد پر اپنے عزیز واقارب سے ناراض ہوگئے، حتیٰ کہ انہیں اپنے ہاتھوں سے قتل تک کرنے میں تامل نہیں کیا تو اس کے بدلے میں اللہ نے ان کو اپنی رضامندی سے نواز دیا۔ اور ان پر اس طرح اپنے انعامات کی بارش فرمائی کہ وہ بھی اللہ سے راضی ہوگئے۔ اس لیے آیت میں بیان کردہ اعزاز۔ ”رضي الله عنهم ورضوا عنہ“ اگرچہ خاص صحابہ کرام کے بارے میں نازل نہیں ہوا ہے، تاہم وہ اس کا مصداق اولین اور مصداق اتم ہیں۔ اسی لیے اس کے لغوی مفہوم کو سامنے رکھتے ہوئے مذکورہ صفات سے متصف ہر مسلمان ”رضي الله عنه“ کا مستحق بن سکتا ہے، جیسے لغوی معنی کے لحاظ سے ہر مسلمان شخص پر علیہ الصلوٰۃ والسلام کا (دعائیہ جملے کے طور پر) اطلاق کیا جاسکتا ہے۔ لیکن اہل سنت نے ان کے مفہوم لغوی سے ہٹ کر، ان کو صحابہ کرام (رضي الله عنهم) اور انبیاء علیہم السلام کے علاوہ کسی اور کے لیے بولنا، لکھنا جائز قرار نہیں دیا ہے۔ یہ گویا شعار ہیں۔ (رضي الله عنهم) ، صحابہ کے لیے اور علیہم الصلوٰۃ والسلام انبیائے کرام کے لیے۔ یہ ایسے ہی ہے، جیسے رحمتہ اللہ علیہ (اللہ کی رحمت اس پر ہو، یا اللہ اس پر رحم فرمائے) کا اطلاق لغوی مفہوم کی رو سے زندہ اور مردہ دونوں پر ہوسکتا ہے۔ کیونکہ یہ ایک دعائیہ کلمہ ہے جس کے ضرورت مند زندہ اور مردہ دونوں ہی ہیں۔ لیکن ان کا استعمال مردوں کے لیے خاص ہوچکا ہے۔ اس لیے اسے زندہ کے لیے استعمال نہیں کیا جاتا۔ [6] یعنی یہی گروہ مومنین فلاح سے ہمکنار ہوگا، دوسرے ان کی بہ نسبت ایسے ہی ہوں گے ، جیسے وہ فلاح سے بالکل محروم ہیں، جیسا کہ واقعی وہ آخرت میں محروم ہوں گے۔
Engkau (Muhammad) tidak akan mendapatkan suatu kaum yang beriman kepada Allah dan hari akhirat, saling berkasih sayang dengan orang-orang yang menentang Allah dan Rasul-Nya, sekalipun orang-orang itu bapaknya, anaknya, saudaranya atau keluarganya. Mereka itulah orang-orang yang dalam hatinya telah ditanamkan Allah keimanan, dan Allah telah menguatkan mereka dengan pertolongan[834] yang datang dari Dia. Lalu Dia (Allah) memasukkan mereka ke dalam surga yang mengalir di bawahnya sungai-sungai, mereka kekal di dalamnya. Allah rida terhadap mereka dan mereka pun merasa puas terhadap (limpahan rahmat)-Nya. Merekalah golongan Allah. Ingatlah, sesungguhnya golongan Allah itulah yang beruntung.
[834] Kemauan dan kekuatan batin, kebersihan hati, kemenangan terhadap musuh dan lain-lain.
Allah’a ve ahiret gününe iman eden hiçbir topluluğun babaları, oğulları, kardeşleri yahut akrabaları olsalar bile, Allah’a ve Peygamberine düşman olan kimselere sevgi beslediğini göremezsin. İşte Allah, onların kalplerine imanı yazmış ve onları kendi katından bir ruh ile desteklemiştir. Onları, içlerinden ırmaklar akan ve içlerinde ebedî kalacakları Cennetlere sokacaktır. Allah onlardan razı olmuş, onlar da Allah’tan razı olmuşlardır. İşte onlar, Allah’ın tarafında olanlardır. İyi bilin ki, Allah’ın tarafında olanlar kurtuluşa erenlerin ta kendileridir.
Tu ne trouveras personne, parmi ceux qui croient en Allah et au Jour dernier, qui témoigne de l’affection à ceux qui s’opposent à Allah et Son Messager, fussent-ils leurs pères, leurs fils, leurs frères ou leurs proches parents. Voilà ceux dont Allah a rempli le cœur de foi, auxquels Il a apporté Son soutien et qu’Il admettra pour l’éternité dans des jardins traversés de rivières. Allah est satisfait de ces hommes qui eux-mêmes sont satisfaits de Lui. Voilà les partisans d’Allah. Bienheureux sont les partisans d’Allah.
22. No encontrarás ningún pueblo, que crea en Dios y en el Día del Juicio, que sienta afecto por quienes combaten a Dios y a Su Mensajero, aunque estos sean sus padres, sus hijos, sus hermanos o sus parientes. A ellos [Dios] les ha grabado la fe en sus corazones, los ha fortalecido con Su luz y los ingresará en jardines por donde corren ríos por toda la eternidad. Dios se complace de ellos y ellos de Él. Estos son los aliados de Dios, y los aliados de Dios son los verdaderos triunfadores.
[ای پیامبر،] هیچ قومی را نمییابی که به الله و روز قیامت ایمان داشته باشند [و در عین حال،] با کسانی که با الله و رسولش [دشمنی و] مخالفت میورزند، دوستی کنند؛ اگر چه پدرانشان یا فرزندانشان یا برادرانشان یا خویشاوندانشان باشند. آنها کسانی هستند که [الله] ایمان را در [صفحۀ] دلهایشان نوشته است و به روحی از جانب خود، آنها را تقویت [و تأیید] نموده است؛ و آنها را به باغهایی [از بهشت] وارد میکند که از زیر [درختان] آن جویبارها جاری است؛ جاودانه در آن میمانند. الله از آنها راضی است و آنها [نیز] از الله راضیَند. آنها حزبِ الله هستند. آگاه باشید! بیتردید، حزبِ الله رستگارند.
Du findest keine Leute, die an Allah und den Jüngsten Tag glauben und denjenigen Zuneigung bezeigen, die Allah und Seinem Gesandten zuwiderhandeln, auch wenn diese ihre Väter wären oder ihre Söhne oder ihre Brüder oder ihre Sippenmitglieder. Jene - in ihre Herzen hat Er den Glauben geschrieben und sie mit Geist von Sich gestärkt. Er wird sie in Gärten eingehen lassen, durcheilt von Bächen, ewig darin zu bleiben. Allah hat Wohlgefallen an ihnen, und sie haben Wohlgefallen an Ihm. Jene sind Allahs Gruppierung. Sicherlich, Allahs Gruppierung, dies sind diejenigen, denen es wohl ergeht.
你不会发现确信安拉和末日的民众,会与违抗安拉和使者的人相亲相爱,即使那等人是他们的父亲,或儿子,或兄弟,或亲戚。这等人,安拉曾将正信铭刻在他们的心上,并且以从他降下的精神援助他们。他将使他们入下临诸河的乐园,而永居其中。安拉喜悦他们,他们也喜悦他。这等人是安拉的党羽,真的,安拉的党羽确是成功的。