لَا شَرِيكَ لَهُۥ ۖ وَبِذَٰلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا۠ أَوَّلُ ٱلْمُسْلِمِينَ ١٦٣
الترجمات
No partner has He. And this I have been commanded, and I am the first [among you] of the Muslims."[361]
[361] i.e., those who submit to the will of Allāh.
"Ele não tem parceiro. E isso me foi ordenado, e eu sou o primeiro dos muçulmanos"
かれには(その唯一性*において、)いかなる同位者もない。私はそれ[1]こそを命じられたのだ。そして私は(我が共同体において)、服従する者(ムスリム*)の先駆けなのである」。
[1] つまり、アッラーの唯一性*信仰の子と(ムヤッサル150頁参照)。
اس کا کوئی شریک نہیں اور مجھ کو اسی کا حکم ہوا ہے اور میں سب ماننے والوں میں سے پہلا ہوں۔[1]
[1] توحید الوہیت کی یہی دعوت تمام انبیا نے دی، جس طرح یہاں آخری پیغمبر کی زبان مبارک سے کہلوایا گیا کہ ”مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں سب ماننے والوں سے پہلا ہوں“۔ دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ”ہم نےآپ سے پہلے جتنے بھی انبیا بھیجے، سب کو یہی وحی کی کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، تم میری ہی عبادت کرو“ (الانبیاء: 25) چنانچہ حضرت نوح علیہ السلام نے بھی یہ اعلان فرمایا «وَأُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ» (يونس: 72) حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں آتا ہے جب اللہ تعالیٰ نے انہیں کہا کہ أَسْلِمْ (فرمانبردار ہوجا) تو انہوں نے فرمایا «أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ» (البقرة: 131) ”میں رب العالمین کے لئے مسلمان یعنی فرمانبردار ہوگیا“، حضرت ابراہیم السلام ویعقوب علیہ السلام نے اپنی اولاد کو وصیت فرمائی «فَلا تَمُوتُنَّ إِلا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ» (البقرة: 132) ”تمہیں موت اسلام پر آنی چاہیے“، حضرت یوسف علیہ السلام نے دعا فرمائی «تَوَفَّنِي مُسْلِمًا» (يوسف: 101) ”مجھے اسلام کی حالت میں دنیا سے اٹھانا“، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا «فَعَلَيْهِ تَوَكَّلُوا إِنْ كُنْتُمْ مُسْلِمِينَ» (يونس: 84) ”اگر تم مسلمان ہو تو اسی اللہ پر بھروسہ کرو“، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں نے کہا «وَاشْهَدْ بِأَنَّنَا مُسْلِمُونَ» (المائدة: 111) اسی طرح اور بھی تمام انبیاء اور ان کے مخلص پیروکاروں نے اسی اسلام کو اپنایا جس میں توحید الوہیت کو بنیادی حیثیت حاصل تھی۔ گو بعض بعض شرعی احکام ایک دوسرے سے مختلف تھے۔
tidak ada sekutu bagi-Nya; dan demikianlah yang diperintahkan kepadaku dan aku adalah orang yang pertama-tama berserah diri (muslim)."
“O’nun hiçbir ortağı yoktur. İşte ben bununla emrolundum ve ben Müslümanların ilkiyim.”
auquel je rends, comme cela m’a été ordonné, un culte exclusif et sincère et auquel je suis le premier à faire acte de soumission[57]. »
[57] Dans la nation musulmane, tous les prophètes s’étant soumis à Allah avant lui.
163. Quien no tiene iguales. Esto es lo que se me ha ordenado creer, y soy el primero en someterse a Dios”.
[همان ذاتی كه] شریكى ندارد؛ و به این [عبادت الله به یگانگی و خالصانه] دستور یافتهام و من نخستین مسلمان [از این قوم] هستم».
Er hat keinen Teilhaber. Dies ist mir befohlen worden, und ich bin der erste der (Ihm) Ergebenen.
他绝无伙伴,我只奉到这个命令,我是首先顺服的人。”