فَلَمَّا رَءَا ٱلشَّمْسَ بَازِغَةًۭ قَالَ هَٰذَا رَبِّى هَٰذَآ أَكْبَرُ ۖ فَلَمَّآ أَفَلَتْ قَالَ يَٰقَوْمِ إِنِّى بَرِىٓءٌۭ مِّمَّا تُشْرِكُونَ ٧٨
الترجمات
And when he saw the sun rising, he said, "This is my lord; this is greater." But when it set, he said, "O my people, indeed I am free from what you associate with Allāh.
E, quando viu o sol surgindo, disse: "Eis meu Senhor; este é o maior!" E, quando ele se pôs, disse: "Ó meu povo! Por certo, estou em rompimento com o que idolatrais.
それから太陽が昇るのを見た時、彼は言った。「これが我が主*だ。これは(前者)より大きい」。そしてそれが姿を消した時、彼は言った。「我が民よ、本当に私は、あなた方が(アッラー*に)並べて(崇めて)いるものとは無縁なのだ。
پھر جب آفتاب کو دیکھا چمکتا ہوا تو فرمایا کہ[1] یہ میرا رب ہے یہ تو سب سے بڑا ہے پھر جب وه بھی غروب ہوگیا تو آپ نے فرمایا بےشک میں تمہارے شرک سے بیزار ہوں۔[2]
[1] ”شَمْسٌ“ (سورج) عربی میں مونث ہے۔ لیکن اسم اشارہ مذکر ہے۔ مراد الطالع ہے یعنی یہ طلوع ہونے والا سورج، میرا رب ہے۔ کیونکہ یہ سب سے بڑا ہے۔ جس طرح کہ سورﺝ پرستوں کو مغالطہ لگا اور وہ اس کی پرستش کرتے ہیں۔ (اجرام سماویہ میں سورج سب سے بڑا اور سب سے زیادہ روشن ہے اور انسانی زندگی کے بقا ووجود کے لئے اس کی اہمیت وافادیت محتاج وضاحت نہیں۔ اسی لئے مظاہر پرستوں میں سورج کی پرستش عام رہی ہے حضرت ابراہیم (عليه السلام) نے نہایت لطیف پیرائے میں چاند سورج کے پجاریوں پر ان کے معبودوں کی بے حیثیتی کو واضح فرمایا۔ [2] یعنی ان تمام چیزوں سے، جن کو تم اللہ کا شریک بناتے ہو اور جن کی عبادت کرتے ہو، میں بیزار ہوں۔ اس لئے کہ ان میں تبدیلی آتی رہتی ہے، کبھی طلوع ہوتے، کبھی غروب ہوتے ہیں، جو اس بات کی دلیل ہے کہ یہ مخلوق ہیں اور ان کا خالق کوئی اور ہے جس کے حکم کے یہ تابع ہیں۔ جب یہ خود مخلوق اور کسی کے تابع ہیں تو کسی کو نفع نقصان پہنچانے پر کس طرح قادر ہوسکتے ہیں؟ مشہور ہے کہ اس وقت کے بادشاہ نمرود نے اپنے ایک خواب اور کاہنوں کی تعبیر کی وجہ سے نو مولود لڑکوں کو قتل کرنے کا حکم دے رکھا تھا، حضرت ابراہیم (عليه السلام) بھی ان ہی ایام میں پیدا ہوئے جس کی وجہ سے انہیں ایک غار میں رکھا گیا تاکہ نمرود اور اس کے کارندوں کے ہاتھوں قتل ہونے سے بچ جائیں۔ وہیں غار میں جب کچھ شعور آیا اور چاند سورﺝ دیکھے تو یہ تاثرات ظاہر فرمائے، لیکن یہ غار والی بات مستند نہیں ہے۔ قرآن کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ قوم سے گفتگو اور مکالمے کے وقت حضرت ابراہیم (عليه السلام) نے یہ باتیں کی ہیں، اسی لئے آخر میں قوم سے خطاب کرکے فرمایا کہ میں تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریکوں سے بیزار ہوں۔ اور مقصد اس مکالمے سے معبودان باطل کی اصل حقیقت کی وضاحت تھی۔
Kemudian ketika dia melihat matahari terbit, dia berkata, "Inilah Tuhanku, ini lebih besar."Tetapi ketika matahari terbenam, dia berkata, "Wahai kaumku! Sungguh, aku berlepas diri dari apa yang kamu persekutukan."
Güneşi doğarken görünce de: “İşte benim Rabbim! Bu daha büyük” dedi. O da batınca (kavmine dönüp), “Ey kavmim! Ben sizin Allah’a ortak koştuğunuz şeylerden uzağım.” dedi.
Voyant alors le soleil se lever, il dit : « Voici mon Seigneur ! Celui-ci est plus grand. » Mais lorsque le soleil se fut couché, il dit : « Mon peuple ! Je désavoue ce que vous associez au culte d’Allah.
78. Y cuando vio salir el Sol dijo: “¡Este es mi Señor, este es el más grande [de los astros]!” Pero cuando desapareció dijo: “¡Pueblo mío! Yo estoy libre de asociarle, como ustedes, divinidades a Dios.
پس هنگامی که خورشید را درخشنده دید گفت: «این پروردگارِ من است. این بزرگتر است»؛ اما وقتی که غروب کرد گفت: «ای قوم، من از آنچه [برای الله] شریک قرار میدهید بیزارم.
Als er dann die Sonne aufgehen sah, sagte er: Das ist mein Herr. Das ist größer. Als sie aber unterging, sagte er: O mein Volk, ich sage mich ja von dem los, was ihr (Ihm) beigesellt.
当看见太阳升起的时候,他说:“这是我的主;这是更大的。”当太阳没落的时候,他说:“我的宗族啊!我对于你们所用来配主的事物,是无关系的。