وَإِذَا قُرِئَ ٱلْقُرْءَانُ فَٱسْتَمِعُوا۟ لَهُۥ وَأَنصِتُوا۟ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ ٢٠٤
الترجمات
So when the Qur’ān is recited, then listen to it and pay attention that you may receive mercy.
E, quando for lido o Alcorão, ouvi-o e escutai-o, na esperança de obterdes misericórdia.
クルアーン*が読まれたら、あなた方が慈しまれるよう、それに耳を傾け、傾聴せよ。
اور جب قرآن پڑھا جایا کرے تو اس کی طرف کان لگا دیا کرو اور خاموش رہا کرو امید ہے کہ تم پر رحمت ہو۔[1]
[1] یہ ان کافروں کو کہا جارہا ہے جو قرآن کی تلاوت کرتے وقت شور کرتے تھے اور اپنے ساتھیوں کو کہتے تھے: «لَا تَسۡمَعُواْ لِهَٰذَا ٱلۡقُرۡءَانِ وَٱلۡغَوۡاْ فِيهِ» [فصلت: 26] ”یہ قرآن مت سنو اور شور کرو“، ان سے کہا گیا کہ اس کے بجائے تم اگر غور سے سنو اور خاموش رہو تو شاید اللہ تعالیٰ تمہیں ہدایت سے نواز دے۔ اور یوں تم رحمت الٰہی کے مستحق بن جاؤ۔ بعض ائمۂ دین اسے عام مراد لیتے ہیں جب بھی قرآن پڑھا جائے، چاہے نماز ہو یا غیر نماز، سب کو خاموشی سے قرآن سننے کا حکم ہے اور پھر وہ اس عموم سے استدلال کرتے ہوئے جہری نمازوں میں مقتدی کے سورۂ فاتحہ پڑھنے کو بھی اس قرآنی حکم کے خلاف بتاتے ہیں ۔ لیکن دوسرے علماء کی رائے یہ ہے کہ جہری نمازوں میں امام کے پیچھے سورۂ فاتحہ پڑھنے کی تاکید نبی (صلى الله عليه وسلم) سے صحیح احادیث سے ثابت ہے۔ ان کے نزدیک اس آیت کو صرف کفار کے متعلق ہی سمجھنا صحیح ہے، جیسا کہ اس کے مکی ہونے سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ لیکن اگر اسے عام سمجھا جائے تب بھی اس عموم سے نبی (صلى الله عليه وسلم) نے مقتدیوں کو خارج فرما دیا اور یوں قرآن کے اس عموم کے باوجود جہری نمازوں میں مقتدیوں کا سورہ فاتحہ پڑھنا ضروری ہوگا۔ کیونکہ قرآن کے اس عموم کی یہ تخصیص صحیح وقوی احادیث سے ثابت ہے۔ بنا بریں جس طرح اور بعض عمومات قرآنی کی تخصیص احادیث کی بنیاد پر تسلیم کی جاتی ہے، مثلاً آیت «الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا» الآية (النور: 2) کے عموم سے شادی شدہ زانی کا اخراج، اور «وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ» (المائدۃ: 38) کے عموم سے ایسے چور کا اخراج یا تخصیص جس نے ربع دینار سے کم مالیت کی چیز چوری کی ہو یا چوری شدہ چیز، حرز میں نہ رکھی ہو، وغیرہ۔ اسی طرح «فَٱسۡتَمِعُواْ لَهُۥ وَأَنصِتُواْ» کے عمومی حکم سے مقتدی خارج ہوں گے اور ان کے لیے جہری نمازوں میں بھی سورۂ فاتحہ کا پڑھنا ضروری ہوگا، کیونکہ نبی (صلى الله عليه وسلم) نے اس کی تاکید فرمائی ہے۔ (جیسا کہ سورۂ فاتحہ کی تفسیر میں یہ احادیث بیان کی گئی ہیں)۔
Dan apabila dibacakan Al-Qur`an, maka dengarkanlah dan diamlah, agar kamu mendapat rahmat."[355]
[355] Jika dibacakan Al-Qur`an kita diwajibkan mendengar dan memperhatikan sambil berdiam diri, baik di dalam salat maupun di luar salat, kecuali dalam salat berjamaah makmum boleh membaca surah Al-Fātiḥah sendiri atau mendengarkan saja ketika imam membaca ayat-ayat Al-Qur`an.
Kur’an okunduğu zaman ona kulak verip dinleyin ve susun ki, merhamet olunasınız.
Lorsque le Coran est récité, prêtez-lui une oreille attentive et gardez le silence afin d’être touchés par Sa grâce.
204. Cuando el Corán sea leído, escúchenlo con atención y guarden silencio para que se les tenga misericordia.
و هنگامی که قرآن خوانده میشود، به آن گوش فرادهید و خاموش باشید؛ باشد که مشمول رحمت شوید».
Und wenn der Qur’an vorgetragen wird, dann hört ihm zu und horcht hin, auf daß ihr Erbarmen finden möget!
当别人诵读《古兰经》的时候,你们当侧耳细听,严守缄默,以便你们蒙受安拉的怜悯。