وَقَاسَمَهُمَآ إِنِّى لَكُمَا لَمِنَ ٱلنَّٰصِحِينَ ٢١
الترجمات
And he swore [by Allāh] to them, "Indeed, I am to you from among the sincere advisors."
E jurou-lhes: "Por certo, sou para ambos de vós um dos conselheiros"
そして彼は、二人に向かって(こう)誓った。「本当に私はまさしく、あなた方二人に対する忠告者である」。
اور ان دونوں کے روبرو قسم کھالی کہ یقین جانیئے میں تم دونوں کا خیر خواه ہوں>[1]
[1] جنت کی جو نعمتیں اور آسائشیں حضرت آدم وحوا علیھما الّسلام کو حاصل تھیں، اس کے حوالے سے شیطان نے دونوں کو بہلایا اور جھوٹ بولا کہ اللہ تمہیں ہمیشہ جنت میں رکھنا نہیں چاہتا، اسی لئے اس درخت کا پھل کھانے سے منع فرمایا ہے کیونکہ اس کی تاثیر ہی یہ ہے کہ جو اسے کھا لیتا ہے، وہ فرشتہ بن جاتا ہے یا دائمی زندگی اسے حاصل ہوجاتی ہے پھر قسم کھا کر اپنا خیرخواہ ہونا بھی ظاہر کیا، جس سے حضرت آدم وحّو ا علیھما السلام متاثر ہوگئے اس لئے کہ اللہ والے، اللہ کے نام پر آسانی سے دھوکہ کھا جاتے ہیں۔
Dan dia (setan) bersumpah kepada keduanya, "Sesungguhnya aku ini benar-benar termasuk para penasihatmu,"
Ve: “Şüphesiz ben size öğüt verenlerdenim.” diye de onlara yemin etti.
Il leur jura : « Je suis pour vous un fidèle conseiller. »
21. Y les juró: “Yo solo soy un consejero [sincero]”.
و برای آن دو سوگند یاد کرد که: «من قطعاً خیرخواهتان هستم».
Und er schwor ihnen: Ich gehöre wahrlich zu denjenigen, die euch guten Rat geben.
他对他俩盟誓说:“我确是忠于你俩的。”