إِنَّمَا يَسْتَـْٔذِنُكَ ٱلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلْءَاخِرِ وَٱرْتَابَتْ قُلُوبُهُمْ فَهُمْ فِى رَيْبِهِمْ يَتَرَدَّدُونَ ٤٥
الترجمات
Only those would ask permission of you who do not believe in Allāh and the Last Day and whose hearts have doubted, and they, in their doubt, are hesitating.
Apenas pedem-te isenção os que não crêem em Allah nem no Derradeiro Dia; e seus corações duvidam; então, vacilam em sua dúvida.
実にあなたに(嘘の言い訳をして、出征免除の)許可を請うのは、アッラー*と最後の日*を信じず、その心が(イスラーム*に対する)疑惑に満ちた者たちだけである。そして彼らは自らの疑惑の中で、右往左往しているのだ。
یہ اجازت تو تجھ سے وہی طلب کرتے ہیں جنہیں نہ اللہ پر ایمان ہے نہ آخرت کے دن کا یقین ہے جن کے دل شک میں پڑے ہوئے ہیں اور وه اپنے شک میں ہی سرگرداں ہیں۔[1]
[1] یہ ان منافقین کا بیان ہے جنہوں نے جھو ٹے حیلے تراش کر رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) سے جہاد میں نہ جانے کی اجازت طلب کر لی تھی۔ ان کی بابت کہا گیا ہے کہ یہ اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان نہیں رکھتے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسی عدم ایمان نے انہیں جہاد سے گریز پر مجبور کیا۔ اگر ایمان ان کے دلوں میں راسخ ہوتا تو نہ جہاد سے یہ بھاگتے نہ شکوک و شبہات ان کے دلوں میں پیدا ہوتے۔ ملحوظہ: خیال رہے کہ اس جہاد میں شرکت کے معاملے میں مسلمانوں کی چار قسمیں تھیں۔ پہلی قسم: وہ مسلمان جو بلا تامل تیار ہوگئے۔ دوسرے، وہ جنہیں ابتداء تردد ہوا اور ان کے دل ڈولے، لیکن پھر جلد ہی اس تردد سے نکل آئے۔ تیسرے، وہ جو ضعف اور بیماری یا سواری اور سفر خرچ نہ ہونے کی وجہ سے فی الواقع جانے سے معذور تھے اور جنہیں خود اللہ تعالیٰ نے اجازت دے دی تھی۔ (ان کا ذکر آیت 91- 92 میں ہے) چوتھی قسم، وہ جو محض کاہلی کی وجہ سے شریک نہیں ہوئے۔ اور جب نبی (صلى الله عليه وسلم) واپس آئے تو انہوں نے اپنے گناہ کا اعتراف کرکے اپنے آپ کو توبہ اور سزا کے لئے پیش کردیا۔ ان کے علاوہ باقی منافقین اور ان کے جاسوس تھے، یہاں مسلمانوں کے پہلے گروہ اور منافقین کا ذکر ہے۔ مسلمانوں کی باقی تین قسموں کا بیان آگے چل کر آئے گا۔
Sesungguhnya yang akan meminta izin kepadamu (Muhammad), hanyalah orang-orang yang tidak beriman kepada Allah dan hari kemudian, dan hati mereka ragu, karena itu mereka selalu bimbang dalam keraguan.
Ancak Allah’a ve ahiret gününe iman etmeyen, kalpleri şüpheye düşüp şüphelerinde bocalayan kimseler senden izin isterler.
Seuls te réclament cette dispense ceux qui ne croient ni en Allah, ni au Jour dernier, ceux qui, rongés par le doute, demeurent dans la plus grande incertitude[24].
[24] Les hypocrites dont l’attitude, au cours de l’expédition de Tabouk, va être longuement décrite dans le passage suivant.
45. Los que te presentan excusas para no alistarse [en el ejército] no creen en Dios ni en el Día del Juicio, sus corazones están llenos de dudas, y por sus dudas vacilan.
تنها كسانى از تو اجازه [معافیت از جهاد] مىخواهند كه به الله و روز واپسین ایمان ندارند و دلهایشان به تردید آلوده است و در تردید خود سرگردانند.
Um Erlaubnis bitten dich nur diejenigen, die an Allah und den Jüngsten Tag nicht glauben und deren Herzen zweifeln; so zaudern sie in ihrem Zweifel.
只有不信安拉和末日,而且心中怀疑的人才向你请假,他们在自己的怀疑中犹豫不决