يَحْلِفُونَ لَكُمْ لِتَرْضَوْا۟ عَنْهُمْ ۖ فَإِن تَرْضَوْا۟ عَنْهُمْ فَإِنَّ ٱللَّهَ لَا يَرْضَىٰ عَنِ ٱلْقَوْمِ ٱلْفَٰسِقِينَ ٩٦
الترجمات
They swear to you so that you might be satisfied with them. But if you should be satisfied with them - indeed, Allāh is not satisfied with a defiantly disobedient people.
Eles juram-vos, para que deles vos agradeis; então, se deles vos agradais, por certo, Allah não se agradará do povo perverso.
彼ら(偽信者*たち)は、あなた方が自分たちに満足してくれるようにと、あなた方に対し、(偽って)誓う。そして、たとえあなた方が彼らに満足したとしても、(そんなものは彼らには役には立たない、)本当にアッラー*が放逸な民を喜ばれることはないのだから。
یہ اس لیے قسمیں کھائیں گے کہ تم ان سے راضی ہوجاؤ۔ سو اگر تم ان سے راضی بھی ہوجاؤ تو اللہ تعالیٰ تو ایسے فاسق لوگوں سے راضی نہیں ہوتا۔[1]
[1] ان تین آیات میں ان منافقین کا ذکر ہے جو تبوک کے سفر میں مسلمانوں کے ساتھ نہیں گئے تھے نبی (صلى الله عليه وسلم) اور مسلمانوں کو بخیریت واپسی پر اپنے عذر پیش کرکے ان کی نظروں میں وفادار بننا چاہتے تھے۔ اللہ تعالٰی نے فرمایا جب ان کے پاس آؤ گے تو یہ عذر پیش کریں گے، تم ان سے کہہ دو، کہ ہمارے سامنے عذر پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہے اس لئے کہ اللہ تعالٰی نے تمہارے اصل حالات سے ہمیں باخبر کر دیا ہے۔ اب تمہارے جھوٹے عذروں کا ہم اعتبار کس طرح کر سکتے ہیں؟ البتہ ان عذروں کی حقیقت مستقبل قریب میں مزید واضح ہو جائے گی، تمہارا عمل، جسے اللہ تعالٰی بھی دیکھ رہا ہے اور رسول (صلى الله عليه وسلم) کی نظر بھی اس پر ہے، تمہارے عذروں کی حقیقت کو خود بے نقاب کر دے گا۔ اور اگر تم رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) اور مسلمانوں کو پھر بھی فریب اور مغالطہ دینے میں کامیاب رہے تو بالآخر ایک وقت وہ تو آئے گا ہی، جب تم ایسی ذات کی بارگاہ مین حاضر کئے جاؤگے جو ظاہر و باطن ہر چیز کو خوب جانتی ہے۔ اسے تو تم بہر صورت دھوکہ نہیں دے سکتے، وہ اللہ تمہارا سارا کچا چٹھا تمہارے سامنے کھول کر رکھ دے گا۔ دوسری آیت میں فرمایا کہ تمہارے لوٹنے پر یہ قسمیں کھائیں گے تاکہ تم ان سے اعراض یعنی درگزر کردو۔ پس تم انہیں ان کی حالت پر چھوڑ دو۔ یہ لوگ اپنے عقائد و اعمال کے لحاظ سے پلید ہیں، انہوں نے جو کچھ کیا ہے۔ اس کا بدلہ جہنم ہی ہے۔ تیسری آیت میں فرمایا یہ تمہیں راضی کرنے کے لئے قسمیں کھائیں گے۔ لیکن ان نادانوں کو یہ پتہ نہیں کہ اگر تم ان سے راضی ہو بھی جاؤ تو انہوں نے جس فسق یعنی اطاعت الٰہی سے گریز وفرار کا راستہ اختیار کیا ہے اس کی موجودگی میں اللہ تعالٰی ان سے راضی کیونکر ہو سکتا ہے؟۔
Mereka akan bersumpah kepadamu, agar kamu bersedia menerima mereka. Tetapi sekalipun kamu menerima mereka, Allah tidak akan rida kepada orang-orang yang fasik.
Kendilerinden razı olasınız diye size yemin ederler. Siz onlardan razı olsanız bile Allah fasıklar topluluğundan razı olmaz.
Ils vous font des serments afin de gagner vos bonnes grâces. Mais s’ils trouvent grâce à vos yeux, les hommes qui, comme eux, Lui refusent obéissance ne sauraient être en grâce auprès d’Allah.
96. Les juran por Dios para que se conformen con ellos; pero aunque ustedes se complacieran con ellos, sepan que Dios no Se complace con los corruptos.
برایتان سوگند یاد میکنند تا از آنان راضی شوید. [حتی] اگر شما از آنان راضی شوید، الله هرگز از گروه نافرمان راضی نمیگردد.
Sie schwören euch, damit ihr mit ihnen zufrieden seid. Und wenn ihr auch mit ihnen zufrieden seid, so ist Allah doch nicht zufrieden mit dem Volk der Frevler.
他们对你们发誓,以便你们喜欢他们。即使你们喜欢他们,(也无济于事),因为安拉必定不喜欢放肆的民众。