أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ ١
الترجمات
Did We not expand for you, [O Muḥammad], your breast?[1944]
[1944] i.e., enlighten, assure and gladden your heart with guidance.
Não te dilatamos[1] o peito?
[1] Ou seja, Deus, engrandecendo o espírito de Muhammad, tornou-o apto para a vida profética e para a pregação do Islão, para o mundo.
(預言者*よ、)われら*はあなたのため、あなたの胸を広げてやった[1]のではないか?
[1] つまり信仰、預言者*としての使命、知識、英知を受容できるよう、心を広げ、柔らかくされた、ということ(アル=バガウィー5:274参照)。家畜章125、ター・ハー章25も参照。
کیا ہم نے تیرا سینہ نہیں کھول دیا.[1]
[1] گزشتہ سورت میں تین انعامات کا ذکر تھا، اس سورت میں مزید تین احسانات جتلائے جا رہے ہیں۔ سینہ کھول دینا، ان میں پہلا ہے۔ اس کا مطلب ہے سینے کا منور اور فراخ ہو جانا، تاکہ حق واضح بھی ہو جائے اور دل میں سما بھی جائے۔ اسی مفہوم میں قرآن کریم کی یہ آیت فَمَنْ يُرِدِ اللَّهُ أَنْ يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلإِسْلامِ (سورة الأنعام: 125 ) ”جس کو اللہ تعالیٰ ہدایت سے نوازنے کا ارادہ کرے۔ اس کا سینہ اسلام کے لئے کھول دیتا ہے“۔ یعنی وہ اسلام کو دین حق کے طور پرپہچان بھی لیتا ہے اور اسے قبول بھی کر لیتا ہے۔ اس شرح صدر میں وہ شق صدر بھی آجاتا ہے جو معتبر روایات کی رو سے دو مرتبہ نبی (صلى الله عليه وسلم) کا کیا گیا۔ ایک مرتبہ بچپن میں، جب کہ آپ (صلى الله عليه وسلم) عمر کے چوتھے سال میں تھے۔ حضرت جبرائیل (عليه السلام) آئے اور انہوں نے آپ (صلى الله عليه وسلم) کا دل چیرا اور اس سے وہ حصہ شیطانی نکال دیا جو ہر انسان کے اندر ہے، پھر اسے دھوکر بند کر دیا، ( صحيح مسلم، كتاب الإيمان، باب الإسراء) دوسری مرتبہ معراج کے موقعے پر۔ اس موقعے پر آپ (صلى الله عليه وسلم) کا سینہ مبارک چاک کرکے دل نکالا گیا، اسے آپ زمزم سے دھوکر اپنی جگہ رکھ دیا گیااور اسےایمان وحکمت سے بھر دیا گیا۔ (صحيحين، أبواب المعراج وكتاب الصلاة) ۔
Bukankah kami telah melapangkan dadamu (Muhammad)?
(Ey Muhammed!) Senin göğsünü açıp genişletmedik mi?
N’avons-Nous pas épanoui ton cœur,
1. ¿Acaso no he dado sosiego a tu corazón [¡Oh, Mujámmad!],
[ای پیامبر،] آیا ما سینهات را [برای نزول وحی] برایت نگشودیم؟
Haben Wir dir nicht deine Brust aufgetan
难道我没有为你而开拓你的胸襟吗?