لَقَدْ خَلَقْنَا ٱلْإِنسَٰنَ فِىٓ أَحْسَنِ تَقْوِيمٍۢ ٤
الترجمات
We have certainly created man in the best of stature;[1948]
[1948] i.e., upright, symmetrical, and balanced in form and nature.
Com efeito, criamos o ser humano na mais bela forma.[1]
[1] Ao lado do corpo perfeito, o ser humano é dotado de razão e vontade.
われら*は確かに人間を、最善の形に創造した。
یقیناً ہم نے انسان کو بہترین صورت میں پیدا کیا.[1]
[1] یہ جواب قسم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر مخلوق کو اس طرح پیدا کیا ہے کہ اس کا منہ نیچے کو جھکا ہوا ہے صرف انسان کو دراز قامت، سیدھا بنایا ہے جو اپنے ہاتھوں سے کھاتا پیتاہے۔ پھر اس کے اعضا کو نہایت تناسب کے ساتھ بنایا، ان میں جانوروں کی طرح بےڈھنگا پن نہیں ہے۔ ہر اہم عضو دو دو بنائے اور ان میں نہایت مناسب فاصلہ رکھا، پھر اس میں عقل وتدبر، فہم وحکمت اور سمع وبصر کی قوتیں ودیعت کیں، جو دراصل یہ انسان اللہ کی قدرت کا مظہر اور اس کا پر تو ہے۔ بعض علما نے اس حدیث کوبھی اسی معنی ومفہوم پر محمول کیا ہے، جس میں ہے کہ إِنَّ اللهَ خَلَقَ آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ ( مسلم، كتاب البر والصلة والآداب ) اللہ تعالیٰ نے آدم کو اپنی صورت میں پیدا فرمایا انسان کی پیدائش میں ان تمام چیزوں کا اہتمام ہی احسن تقویم ہے، جس کا ذکر اللہ نے تین قسموں کے بعد فرمایا۔ (فتح القدیر)۔
Sungguh, Kami telah menciptakan manusia dalam bentuk yang sebaik-baiknya,
Biz, gerçekten insanı en güzel bir biçimde yarattık.
Nous avons créé l’homme en le dotant de la nature la plus pure[2],
[2] Une nature le disposant à adorer son Seigneur sans Lui associer d’autres divinités. Allah dit par ailleurs : « Tourne-toi donc, en monothéiste pur et sincère, vers la vraie religion, la religion naturelle à laquelle Allah a prédisposé les hommes » (sourate 30, verset 30).
4. Que he creado al ser humano con la mejor conformación.
[که] یقیناً ما انسان را در بهترین صورت [و با فطرت پاک] آفریدیم.
Wir haben den Menschen ja in schönster Gestaltung erschaffen,
我确已把人造成具有最美的形态,