فَقَالَ إِنِّى سَقِيمٌۭ ٨٩
Translations
And said, "Indeed, I am [about to be] ill."
E disse: "Por certo, estou doente."[1]
[1] Para ficar a sós com os ídolos e poder destruí-los, Abraão disse a seu povo que havia contraído peste. Temendo o contágio, todos fugiram, deixando-o só.
(民に)言った。「本当に私は、病気なのです」。
اور کہا میں تو بیمار ہوں.[1]
[1] آسمان پر غور وفکر کے لئے دیکھا جیسا کہ بعض لوگ ایسا کرتے ہیں۔ یا اپنی قوم کے لوگوں کو مغالطے میں ڈالنے کے لئے ایسا کیا، جو کہ ستاروں کی گردش کو حوادث زمانہ میں موثر مانتے تھے۔ یہ واقعہ اس وقت کا ہے کہ جب ان کی قوم کا وہ دن آیا، جسے وہ باہر جا کر بطور عید اور قومی تہوار منایا کرتی تھی۔ قوم نے حضرت ابراہیم (عليه السلام) کو بھی ساتھ چلنے کی دعوت دی۔ لیکن ابراہیم (عليه السلام) تنہائی اور موقعے کی تلاش میں تھے، تاکہ ان کے بتوں کا تیاپانچہ کیا جا سکے۔ چنانچہ انہوں نے یہ موقع غنیمت جانا کہ کل ساری قوم باہر میلے میں چلی جائے گی تو میں اپنا منصوبہ بروئے کار لے آؤں گا۔ اور کہہ دیا کہ میں بیمار ہوں یا آسمانوں کی گردش بتلاتی ہے کہ میں بیمار ہونے والا ہوں۔ یہ بات بالکل جھوٹی تو نہیں تھی، ہر انسان کچھ نہ کچھ بیمار ہوتا ہی ہے، علاوہ ازیں قوم کا شرک حضرت ابراہیم (عليه السلام) کے دل کا ایک مستقل روگ تھا، جسے دیکھ کر وہ کڑھتے رہتے تھے۔ یوں حضرت ابراہیم (عليه السلام) نے تعریض اور توریے کا اظہار فرمایا جو اگرچہ جھوٹ نہیں ہوتا لیکن مخاطب اس کے متبادر مفہوم سے مغالطے کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس لئے حدیث ثلاث کذبات میں اسے جھوٹ سے تعبیر کیا گیا ہے، جیسا کہ اس کی ضروری تفصیل سورۂ انبیاء: 63 میں گزر چکی ہے۔
kemudian dia (Ibrahim) berkata, "Sesungguhnya aku sakit."
“Ben hastayım.” dedi.
il dit : « Je suis malade[15]. »
[15] Ces mots ne sont pas en soi mensongers puisqu’il était bel et bien « malade » de leurs pratiques idolâtres.
89. y exclamó: “Estoy enfermo[1]”.
[1] Para excusarse de acompañar a su pueblo a una fiesta en honor a sus dioses en las afueras de la ciudad.
و گفت: «من بیمارم [و در جشن شرکت نمیکنم]».
und sagte: Gewiß, ich bin krank.
然后说:“我势必要害病。”