صِرَٰطَ ٱلَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ ٱلْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا ٱلضَّآلِّينَ ٧
الترجمات
The path of those upon whom You have bestowed favor, not of those who have earned [Your] anger or of those who are astray.
À senda dos que agraciaste; não à dos incursos em Tua ira nem à dos descaminhados
あなたが恩恵をお授けになった者たち[1]、つまり、(あなたの)お怒りを受けるでもなく、迷うでもない者たち[2]の道へ。[3]
[1] 婦人章66-69も参照。 [2] 「お怒りを受ける」者たちとは、知識を預かってはいても、それに沿って行わなかった当時のユダヤ教徒*、および彼らと同様の状態にある者たちのこと。また「迷う」者たちとは、無知ゆえに導かれず、正しい道から迷い去ってしまった当時のキリスト教徒*、および彼らと同様の状態にある者たちのこと(前掲書、同頁参照)。 [3] 礼拝中かどうかに関わらず、開端章を読み終えた後には、「アーミーン(アッラーよ、聞き届けたまえ)」と唱えることが薦(すす)められている(前掲書、同頁参照)。
ان لوگوں کی راه جن پر تو نے انعام کیا[1] ان کی نہیں جن پر غضب کیا گیا (یعنی وه لوگ جنہوں نے حق کو پہچانا، مگر اس پر عمل پیرا نہیں ہوئے) اور نہ گمراہوں کی[2] (یعنی وه لوگ جو جہالت کے سبب راه حق سے برگشتہ ہوگئے)۔
[1] یہ صراط مستقیم کی وضاحت ہے کہ یہ سیدھا راستہ وہ ہے جس پر وہ لوگ چلے، جن پر تیرا انعام ہوا، یہ منعم علیہ گروہ ہے انبیا شہدا صدیقین اور صالحین کا۔ جیسا کہ سورۂ نساء میں ہے: «وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا» (النساء: 69) ”اور جو اللہ اور اس کے رسول (صلى الله عليه وسلم) کی اطاعت کرتے ہیں، وہ قیامت کے روز ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام کیا، یعنی انبیا، صدیقین، شہدا، اور صالحین، اور ان لوگوں کی رفاقت بہت ہی خوب ہے۔“ اس آیت میں یہ بھی وضاحت کردی گئی ہے کہ انعام یافتہ لوگوں کا یہ راستہ اطاعت الٰہی اور اطاعت رسول (صلى الله عليه وسلم) ہی کا راستہ ہے، نہ کہ کوئی اور راستہ۔ [2] بعض روایات سے ثابت ہے کہ «مَغْضُوبٌ عَلَيْهِمْ» ”جن پر اللہ کا غضب نازل ہوا“ سے مراد یہودی اور «ضَالِّيْنَ» ”گمراہوں“ سے مراد نصاریٰ (عیسائی) ہیں۔ ابن ابی حاتم کہتے ہیں کہ مفسرین کے درمیان اس میں کوئی اختلاف نہیں۔ ”لا أَعْلَمُ خِلافًا بَيْنَ الْمُفَسِّرِينَ فِي تَفْسِيرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ : بِالْيَهُود وَ الضَّالِّينَ بالنَّصَارَى“ (فتح القدیر)، اس لئے صراط مستقیم پر چلنے کی خواہش رکھنے والوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ یہود اور نصاریٰ دونوں کی گمراہیوں سے بچ کر رہیں۔ یہود کی بڑی گمراہی یہ تھی کہ وہ جانتے بوجھتے صحیح راستے پر نہیں چلتے تھے، آیات الٰہی میں تحریف اور حیلہ کرنے سے گریز نہیں کرتے تھے، حضرت عزیر (عليه السلام) کو ”ابن اللہ“ کہتے، اپنے احبار ورھبان کو حرام وحلال کرنے کا مجاز سمجھتے تھے۔ نصاریٰ کی بڑی غلطی یہ تھی کہ انہوں نے حضرت عیسیٰ (عليه السلام) کی شان میں غلو کیا اور انہیں ”ابْنُ اللهِ“ اور ”ثَالِثُ ثَلاثَةٍ“ (اللہ کا بیٹا اور تین خدا میں سے ایک) قرار دیا۔ افسوس ہے کہ امت محمدیہ میں بھی یہ گمراہیاں عام ہیں اور اسی وجہ سے وہ دنیا میں ذلیل و رسوا ہیں۔ اللہ تعالیٰ اسے ضلالت کے گڑھے سے نکالے، تاکہ ادبار ونکبت کے بڑھتے ہوئے سائے سے وہ محفوظ رہ سکیں۔ سورۂ فاتحہ کے آخر میں آمین کہنے کی نبی (صلى الله عليه وسلم) نے بڑی تاکید اور فضیلت فرمائی ہے۔ اس لئے امام اور مقتدی ہر ایک کو آمین کہنی چاہیے۔ نبی (صلى الله عليه وسلم) جہری نمازوں میں اونچی آواز سے آمین کہا کرتے تھے اور صحابہ (رضي الله عنهم) بھی، حتیٰ کہ مسجد گونج اٹھتی۔ (ابن ماجہ۔ ابن کثیر)، بنابریں آمین اونچی آواز سے کہنا سنت اور صحابہ کرام (رضي الله عنهم) کا معمول بہ ہے۔ آمین کے معنی مختلف بیان کیے گئے ہیں۔ ”كَذَلِكَ فَلْيَكُنْ“ (اسی طرح ہو)، ”لا تُخَيِّبْ رَجَاءَنا“ (ہمیں نامراد نہ کرنا)، ”اللَّهُمَّ! اسْتَجِبْ لَنَا“ (اے اللہ ہماری دعا قبول فرمالے)۔
(yaitu) jalan orang-orang yang telah Engkau beri nikmat kepadanya; bukan (jalan) mereka yang dimurkai, dan bukan (pula jalan) mereka yang sesat.[3]
[3] Mereka yang dimurkai, adalah mereka yang sengaja menentang ajaran Islam. Mereka yang sesat adalah mereka yang sengaja mengambil jalan lain selain ajaran Islam.
Nimet verdiğin kimselerin yoluna. Gazaba uğrayanların ve sapanların değil.
chemin de ceux que Tu as comblés de Tes grâces, non celui des réprouvés[3], ni celui des égarés[4].
[3] Littéralement : ceux qui ont attiré sur eux la colère d’Allah. Et ce, pour avoir sciemment tourné le dos à la vérité. [4] Ceux qui, par ignorance, se sont détournés du droit chemin.
7. El camino de los que has colmado con Tus favores, no el de los que han caído en Tu ira, ni el de los que se extraviaron.
راه کسانی [همچون پیامبران، شهیدان، راستگویان و نیکوکاران] که به آنان نعمت دادهای، نه [راه] کسانی که بر آنان خشم گرفته شده است [= یهود] و نه [راه] گمراهان [= نصاری].
den Weg derjenigen, denen Du Gunst erwiesen hast, nicht derjenigen, die (Deinen) Zorn erregt haben, und nicht der Irregehenden!
你所祐助者的路,不是受谴怒者的路,也不是迷误者的路。