مَن كَانَ عَدُوًّۭا لِّلَّهِ وَمَلَٰٓئِكَتِهِۦ وَرُسُلِهِۦ وَجِبْرِيلَ وَمِيكَىٰلَ فَإِنَّ ٱللَّهَ عَدُوٌّۭ لِّلْكَٰفِرِينَ ٩٨
الترجمات
Whoever is an enemy to Allāh and His angels and His messengers and Gabriel and Michael - then indeed, Allāh is an enemy to the disbelievers.
Quem é inimigo de Allah e de Seus anjos e de Seus Mensageiros e de Gabriel e de Miguel, por certo, Allah é inimigo dos renegadores da Fé.
アッラー*とその天使*たち、その使徒*たち、ジブリール*、ミーカール(ミーカーイール*)に敵対する者があろうと、実にアッラー*は(そのような)不信仰者*たちに対しての敵なのだ」。
جو شخص اللہ کا اور اس کے فرشتوں اور اس کے رسولوں اور جبرائیل اور میکائیل کا دشمن ہو، ایسے کافروں کا دشمن خود اللہ ہے۔[1]
[1] یہود کہتے تھے کہ میکائیل ہمارا دوست ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : یہ سب میرے مقبول بندے ہیں جو ان کا یا ان میں سے کسی ایک کا بھی دشمن ہے، وہ اللہ کا بھی دشمن ہے۔ حدیث میں ہے: «مَنْ عَادَى لِي وَلِيًّا فَقَدْ بَارَزَنِي بِالْحَرْبِ»۔(صحیح بخاری کتاب الرقاق باب التواضع) ”جس نے میرے کسی دوست سے دشمنی رکھی، اس نے میرے ساتھ اعلان جنگ کیا ہے“، گویا اللہ کے کسی ایک ولی سے دشمنی سارے اولیاء اللہ سے، بلکہ اللہ تعالیٰ سے بھی دشمنی ہے۔ اس سے واضح ہوا کہ اولیاء اللہ کی محبت اور ان کی تعظیم نہایت ضروری اور ان سے بغض وعناد اتنا بڑا جرم ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے خلاف اعلان جنگ فرماتا ہے۔ اولیاء اللہ کون ہیں؟ اس کے لئے ملاحظہ ہو سورۂ یونس، آیت62-63 ، لیکن محبت اور تعظیم کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ ان کے مرنے کے بعد ان کی قبروں پر گنبد اور قبے بنائے جائیں، ان کی قبروں پر سالانہ عرس کے نام پر میلوں ٹھیلوں کا اہتمام کیا جائے، ان کے نام کی نذرونیاز اور قبروں کو غسل دیا جائے اور ان پر چادریں چڑھائی جائیں اور انہیں حاجت روا، مشکل کشا، نافع وضار سمجھا جائے، ان کی قبروں پر دست بستہ قیام اور ان کی چوکھٹوں پر سجدہ کیا جائے وغیرہ، جیسا کہ بدقسمتی سے ”اولیاء اللہ کی محبت“ کے نام پر یہ کاروبار لات ومنات فروغ پذیر ہے۔ حالانکہ یہ ”محبت“ نہیں ہے، ان کی عبادت ہے، جو شرک اور ظلم عظیم ہے۔ اللہ تعالیٰ اس فتنۂ عبادت قبور سے محفوظ رکھے۔
Siapa yang menjadi musuh Allah, malaikat-malaikat-Nya, rasul-rasul-Nya, Jibril dan Mikail, maka sesungguhnya Allah musuh bagi orang-orang kafir.
Her kim Allah’a, meleklerine, rasûllerine, Cebrâil’e ve Mîkâil’e düşman olursa, şüphesiz Allah da o kâfirlerin düşmanıdır.
Que celui qui est l’ennemi d’Allah, de Ses anges, de Ses Messagers, de Gabriel et de Michaël, sache qu’Allah est l’ennemi des mécréants.
98. Quien sea enemigo de Dios, de Sus ángeles, de Sus Mensajeros, del ángel Gabriel y del ángel Miguel, que sepa que Dios es enemigo de los que rechazan el Mensaje.
هر کس دشمنِ الله و فرشتگان او و پیامبرانش و جبرئیل و میکائیل باشد، [بداند که] الله دشمنِ کافران است.
Wer Allah und Seinen Engeln und Seinen Gesandten und Gibril und Mikal feind ist, so ist Allah den Ungläubigen feind.
凡仇视安拉、众天使、众使者,以及吉卜利里和米卡里的,须知安拉是仇视不信道的人们的。”